Tuesday, 27 October 2026

برہانِ الٰہی ترجمہ اردو: حجۃ اللہ البالغہ



 

برہانِ الٰہی (ترجمہ اردو: حجۃ اللہ البالغہ)

مصنف: شیخ الاسلام حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ

مترجم: ابو الاعلیٰ محمد اسماعیل گودھروی

پیشکش : طوبیٰ ریسرچ لائبریری

Burhan-e-Ilahi (Tarjuma Urdu: Hujjatullah il-Baligha)

Musannif: Shaikhul Islam Hazrat Shah Waliullah Muhaddis Dehlvi (R.A)

Mutarjim: Abul Aala Muhammad Ismail Godhravi

#TOOBAA_POST_996

DOWNLOAD

مزید کتب کے لیئے دیکھیئے صفحہ  "ارمغانِ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی"۔
 

مولانا زاہدالراشدی

بعض دوستوں کے تقاضے پر امام شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ کی تصنیف ’’حجة اللہ البالغہ‘‘ کے مقدمہ کو اردو زبان میں قدرے تسہیل کے ساتھ پیش کرنے کی سعادت کی ہے جبکہ ’’باب الاتفاقات‘‘ کو بھی اسی انداز میں پیش کرنے کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس کی تمہیدی گزارشات قارئین کی نذر کی جا رہی ہیں۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ بارہویں صدی کے ان عظیم علماء امت میں سے تھے جنہوں نے دین کے مختلف شعبوں میں اجتہاد و تجدید کا کام سنبھالا اور اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے وہ اس کٹھن گھاٹی سے اس طرح کامیابی سے گزرے کہ ان کے علوم و فیوض اور سعی و کاوش سے اب تک مسلسل استفادہ کیا جا رہا ہے۔بلکہ دینی علوم کے فروغ اور ترویج میں ان کے ذوق و اسلوب کی ضرورت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید اجاگر ہوتی جا رہی ہے۔وہ ایک بڑے محدث، مفسر ، مجاہد ،متکلم اور صوفی تھے۔انہوں نے ان تمام دائروں میں تجدید و اجتہاد کے نقوش قائم کیے ہیں جن سے رہتی دنیا تک ارباب علم و دانش راہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔ آج کے دور میں شاہ ولی اللہ کے علوم و فیوض ، فلسفہ و فکر اور ذوق اسلوب کی ضرورت و اہمیت کا جس سطح پر احساس و اظہار کیا جا رہا ہے، اس کا اندازہ ان دو شہادتوں سے کیا جا سکتا ہے جن کا راقم الحروف خود راوی ہے۔

شکاگو یونیورسٹی امریکہ میں ایک نو مسلم خاتون ڈاکٹر ایم۔کے ہرمینسن شعبہ علوم اسلامیہ میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔فلسفہ میں سان ڈیاگو یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے قرآن کریم سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا اور دینی علوم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ انہوں نے شاہ ولی اللہؒ کو اپنے مطالعہ و تحقیق کا خصوصی عنوان بنایا اور اسی حوالہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ شاہ ولی اللہ کی معرکة الارا کتاب ’’ حجة اللہ البالغہ‘‘ کا انہوں نے انگلش میں ترجمہ کیا اور اب شکاگو یونیورسٹی میں اسلامی علوم کی اپنے ذوق کے مطابق خدمت میں مصروف ہیں۔ ان کے شوہر پروفیسر محمد علوی پاکستانی ہیں، وہ ان کے ساتھ ۱۹۸۹ء میں پاکستان تشریف لائیں تو گوجرانوالہ بھی آئیں۔ جس کی وجہ انہوں نے خود یہ بیان کی کہ حضرت شاہ ولی اللہ کے علوم و فلسفہ پر اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ مرتب کرتے ہوئے انہیں جامعہ نصرة العلوم کے بانی حضرت صوفی عبد الحمید سواتی ؒ کی تصنیفات سے استفادہ کا موقع ملا ہے۔ حضرت صوفی صاحبؒ راقم الحروف کے چچا محترم اور شاہ ولی اللہ ؒ کے فلسفہ و حکمت کے متخصصین میں سے تھے۔ انہوں نے جامعہ نصرة العلوم کے دورہ حدیث کے نصاب میں ’’حجة اللہ البالغہ‘‘ کو باضابطہ طور پر شامل کیا جو وہ خود پڑھاتے تھے۔ اور ان کی وفات کے بعد سے اس کے کچھ ابواب دورہ حدیث کے طلباء کو پڑھانے کی سعادت مجھے حاصل ہو رہی ہے، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔

ڈاکٹر صاحبہ محترمہ نے کہا کہ وہ صوفی صاحب سے ملاقات اور ان سے کچھ مسائل پر گفتگو کے ارادہ سے آئی ہیں جو ان کے شوہر پروفیسر محمد علوی ، پروفیسر عبداللہ جمال مرحوم ، اور راقم الحروف کے ہمراہ جامعہ نصرة العلوم میں ہوئی۔ ڈاکٹر ایم۔ کے ہرمیسن نے دوسری وجہ یہ بیان کی کہ انہوں نے سنا ہے کہ گوجرانوالہ میں ایک ادارہ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے نام سے قائم ہوا ہے، وہ اسے دیکھنے آئی ہیں۔ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی قائم کرنے والوں میں راقم الحروف بھی شامل تھا۔ لیکن اس وقت وہ اس مرحلہ میں تھا کہ زمین خریدی جا چکی تھی، تعمیراتی کام ابتدائی مراحل میں تھا اور تعلیمی پروگرام کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی۔اب یہ ادارہ جامعة الرشید کراچی کے زیر انتظام ’’جامعہ شاہ ولی اللہ‘‘ کے نام سے کام کر رہا ہے جس میں دینی و عصری دونوں علوم کی تعلیم دی جاتی ہے اور راقم الحروف بھی اس کے مشاورتی نظام کا حصہ ہے۔

اس موقع پر میں نے ’’ماہنامہ الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ کے لئے محترمہ کا انٹرویو لیا جس میں انہوں نے اپنے قبول اسلام اور تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں کی تفصیلات بیان کیں۔اور اپنے اس تاثر کا اظہار کیا کہ مغربی دنیا میں اسلام کا پیغام و دعوت کے لیے شاہ ولی اللہ کا اسلوب اور ان کی زبان سب سے زیادہ مؤثر ہے۔اگر آپ ان کے لہجے میں حکمت اور لاجک کے ساتھ مغرب کو اسلام سمجھائیں گے تو اس کی سمجھ میں جلدی آئے گا اور یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

دوسری شہادت برطانیہ کے ایک نومسلم دانش ور ڈاکٹر یحیٰ برٹ کی پیش کرنا چاہوں گا جو بی بی سی کے سابق ڈائریکٹر جنرل جان برٹ کے فرزند ہیں۔ قبول اسلام کے بعد انہوں نے بھی اسلامی علوم کے مطالعہ و تحقیق کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے اسی حوالہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے سرفراز ہوئے۔ان کے اعزاز میں ایک موقع پر لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے ایک استقبالیہ دیا گیا جس کی صدارت راقم الحروف نے کی۔ اس نشست میں اپنے خطاب کے دوران انہوں نے بھی یہ بات زور دے کر کہی کہ مغرب کو اسلام کے حوالہ سے دعوت دیتے ہوئے حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کا اسلوب اختیار کرنا ہوگا اور مغرب انہی کی زبان میں اسلام کو صحیح طریقے سے سمجھ پائے گا۔ یحیٰ برٹ کا کہنا تھا کہ حکمت و دانش اور لاجک کے ساتھ روحانیات وجدانیات کا متوازن امتزاج حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا امتیاز ہے اور آج مغرب کو اسی کی ضرورت ہے، جس کی طرف علماء اسلام کو بالخصوص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کے علم و فضل اور سعی و کاوش کے بہت سے دائرے ہیں جو اس وقت ہمارے موضوع میں شامل نہیں ہیں لیکن علمی دنیا میں ان کی سعی مشکور کو سب سے زیادہ اہمیت اس حوالہ سے دی جاتی ہے کہ انہوں نے اسلامی عقائد، احکام، قوانین اور روایات کی حکیمانہ تشریح کی۔اور انسانی معاشرہ اور سماج کو موضوع بنا کر سماج کے نفع و نقصان اور سوسائٹی کے خیر و شر کی بنیادوں اور تقاضوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں واضح کیا۔ کہا جاتا ہے کہ سماجیات (سوشیالوجی) کو باقاعدہ موضوع بنا کر ابن خلدون نے اپنے دور میں بات کی تھی، ان کے بعد اس سلسلے میں امام غزالیؒ، شیخ الاسلام عز الدین بن عبد السلامؒ، امام خطابی ؒ اور دیگر حضرات کا نام لیا جاتا ہے۔ مگر اسے باقاعدہ ایک فن کی حیثیت سے حضرت شاہ ولی اللہ ؒنے مدون کیا اور ان کی تصنیف ’’حجة اللہ البالغہ‘‘ اسی حوالے سے ایک شاہکار کتاب تصور کی جاتی ہے۔

انہوں نے حجة اللہ البالغہ میں ’’علم اسرار دین‘‘ (دینی عقائد و احکام کی حکمتوں اور فلاسفی کا علم) کو اپنی ان کاوشوں کا نام دیا ہے اور کتاب کے مقدمہ میں اس کے تعارف کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت و ضرورت اور افادیت کی وضاحت فرمائی ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں مزید کوئی بات کہنے کے بجائے اس مقدمہ کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا جائے، جو ہوگا تو خلاصہ ہی مگر ہماری زبان میں ہوگا اور اس میں کہیں کہیں ہم ضرورت کے مطابق اپنی توضیحی گزارشات بھی الگ عنوان کے ساتھ ذکر کریں گے۔

بشکریہ: https://zahidrashdi.org/550

**"برہان الٰہی"** (بیانِ الٰہی)، شاه ولی اللہ محدث دہلویؒ کی عظیم الشان اور شاہکار کتاب **"حُجۃ اللہ البالغہ"** کا اردو ترجمہ و تفسیر ہے۔

### **کتاب کا تعارف**

  * **اصل کتاب:** "حُجۃ اللہ البالغہ" عربی زبان میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (1703ء–1762ء) کی مرتب کردہ ایک تاریخی اور بے نظیر تصنیف ہے۔

  * **موضوع:** یہ کتاب علمِ اسرارِ دین، حکمتِ شریعت، اور فلسفۂ اسلام کااحاطہ کرتی ہے۔ اس میں اسلامی احکام، عبادات، معاملات اور اخلاقیات کی عقلی و حِکمی بنیادوں کو واضح کیا گیا ہے۔

  * **اردو ترجمہ ("برہان الٰہی"):** شاہ ولی اللہؒ کی اس معرکہ الآرا کتاب کے مفاہیم کو عام فہم اور علمی انداز میں اردو زبان میں منتقل کیا گیا ہے تاکہ شاہ صاحب کے فکر و فلسفہ اور شریعت کے مقاصد و اسرار سے عام و خاص مستفید ہو سکیں۔

-----

### **تاریخی پس منظر و اہمیت**

1.  **تصنیف کا دور:** شاہ ولی اللہؒ نے یہ کتاب اٹھارویں صدی عیسوی میں مغلیہ سلطنت کے زوال اور برصغیر میں مسلمانوں کی علمی و فکری پسماندگی کے دور میں تحریر کی۔

2.  **شریعت اور عقل کی ہم آہنگی:** اس کتاب کا بنیادی تاریخی مقصد شریعتِ اسلامیہ کے احکام کو عقلی، روایتی اور فطری دلائل سے ثابت کرنا تھا، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اسلامی احکام محض احکامی نظام نہیں بلکہ انسانی فطرت اور مصالحِ عامہ پر مبنی ہیں۔

3.  **تجدیدی خدمات:** "حجۃ اللہ البالغہ" کو علمِ کلام اور فکرِ اسلامی میں تجدید کا ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے، جس نے بعد کے تمام اسلامی مفکرین، علمی تحریکوں اور برصغیر کے دینی مدارس کے نصاب و فکر کو گہرے طور پر متاثر کیا۔

مکمل تحریر اور تبصرے>>

Friday, 23 October 2026

الفتاویٰ السعدیۃ فی الفروع الحنفیۃ


الفتاویٰ السعدیۃ فی الفروع الحنفیۃ

المفتی: مفتی محمد سعد اللہ رامپوری

جامع: مولانا مفتی حکیم محمد لطف اللہ لکھنوی

پیشکش : طوبیٰ ریسرچ لائبریری

 

Al-Fatawa Al-Sa'diyyah Fil-Furoo Al-Hanafiyyah

Al-Mufti: Mufti Muhammad Saadullah Rampuri

Jaami (Compiler): Maulana Mufti Hakeem Muhammad Lutfullah Lucknowi

#TOOBAA_POST_995

DOWNLOAD

مزید کتب کے لیئے دیکھیئے صفحہ  " علوم ، تدوین و تاریخ ِ فقہ ، فقہاء ، فقہی احکام "۔

مزید دیکھیئے : "علمائےاحناف اور خدمات علم الحدیث "۔

**الفتاویٰ السعدیۃ فی الفروع الحنفیۃ کی نمایاں خصوصیات:**

  * **کتاب اور مصنف کا تعارف:** یہ مجموعہ فتاویٰ مفتی محمد سعد اللہ رامپوری کے فتاویٰ پر مشتمل ہے، جسے ان کے صاحبزادے اور شاگرد مولانا مفتی حکیم محمد لطف اللہ لکھنوی نے ترتیب و تدوین دیا ہے۔

  * **زبان اور اسلوب:** کتاب کا بنیادی متن اور سوال و جواب کی زبان فارسی ہے، جس میں فقہی مسائل کی وضاحت کے لیے عربی نصوص (قرآنی آیات، احادیث نبویہ اور متونِ فقہ) اور اردو و عربی اشعار بھی شامل کیے گئے ہیں۔

  * **فقہ حنفی کے فروعی مسائل کی جامعیت:** یہ کتاب فقہ حنفی کے جزئیات اور فروعی مسائل کی تفصیلی تشریح پر مشتمل ہے۔ اس میں کتاب العلم، الطہارت، الصلوۃ، التراویح، التهجد، الاستسقاء، الجمعۃ، العیدین، اور الجنائز جیسے تمام فقہی ابواب کے احکام کو شامل کیا گیا ہے۔

  * **طرزِ استدلال اور مآخذ:** مسائل کا جواب سوال و جواب (استفتاء و جواب) کی شکل میں دیا گیا ہے۔ استدلال کے لیے الہدایہ، الفتاویٰ العالمگیریہ، الدر المختار، البحر الرائق، فتح القدیر جیسے معتبر حنفی ماخذات اور احادیثِ مبارکہ کی کتب سے دلائل پیش کیے گئے ہیں۔

  * **تحقیق اور تطبیق:** فقہی اقوال اور روایات میں جہاں بظاہر اختلاف نظر آتا ہے، وہاں دلائل کے ساتھ تطبیق و ترجیح اور محققانہ بحث کی گئی ہے۔

  * **جدول اور نقشہ جات:** پیچیدہ فقہی مسائل (مثلاً نوافل میں ترکِ قراءت کے احکام و صور) کو آسان اور واضح بنانے کے لیے جدول کی شکل میں ترتیب دیا گیا ہے۔

  * **سوانح حیات اور علمی خدمات:** کتاب کے ابتدائی حصے میں مفتی سعد اللہ رامپوری کی سوانح عمری، تعلیمی اسفار، ان کے اساتذہ (شاہ عبد العزیز دہلوی، شاہ غلام علی نقشبندی، مفتی صدر الدین خان وغیرہ)، اور ان کی علمی تصانیف کی فہرست شامل ہے۔

ذیل میں اس مقدمے کا تفصیلی اور تحقیقی تجزیہ نکات کی صورت میں پیش ہے:

"الفتاوى السعدية" کا تحقیقی تجزیہ: تعارف و منہج

۱۔ کتاب کا اصل پس منظر اور وجہِ تسمیہ

مقدمے کے مطابق، یہ فتاویٰ اصل میں مفتی محمد سعد اللہ صاحبؒ (متوفی ۱۲۹۴ھ / 1877ء) کے قلمی مسودات، متفرق فتاویٰ اور بکھرے ہوئے احکام کا مجموعہ ہے ۔

• مفتی سعد اللہ صاحب برصغیر کے ایک جلیل القدر عالم، بحرِ علوم اور معقولات و منقولات کے امام تھے

• ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے یا شاگرد (مرتب) مولانا مفتی حافظ محمد لطف اللہ صاحب نے ان کے بکھرے ہوئے فتاویٰ کو جمع کیا ۔

• چونکہ یہ فتاویٰ مفتی محمد سعد اللہ صاحب کے علم کا نچوڑ تھے، اسی مناسبت سے اس مجموعے کا نام "الفتاوى السعدية في الفروع الحنفية" رکھا گیا ۔

۲۔ تدوین کا طریقہ کار (منہجِ ترتیب)

مرتب (مولانا لطف اللہ) نے مقدمے میں واضح کیا ہے کہ جب انہیں یہ علمی ذخیرہ ملا تو یہ ترتیب وار نہیں تھا، بلکہ متفرق کاغذات پر مشتمل تھا۔ انہوں نے اسے درج ذیل منہج پر مرتب کیا:

• ابوابِ فقہ کی ترتیب: انہوں نے بکھرے ہوئے فتاویٰ کو فقہ حنفی کی روایتی کتب (جیسے کتاب الطہارت، کتاب الصلوٰۃ، کتاب البیوع وغیرہ) کے مروجہ اسلوب اور ابواب کی ترتیب کے مطابق ڈھالا ۔

• حالاتِ حاضرہ کے مسائل کا اضافہ: مرتب نے صرف پرانے فتاویٰ پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ "الواقعات السنوية" (اپنے دور میں پیش آنے والے نئے روزمرہ کے مسائل) کو بھی ان ابواب میں مناسب جگہوں پر شامل کیا ۔

• سوال و جواب کا اسلوب: مسائل کو سہل بنانے کے لیے انہیں "جواب و سوال" کی صورت میں مرتب کیا گیا، اور بعض مقامات پر متمم (تکمیلی) مسائل کا اضافہ بھی کیا گیا تاکہ باب مکمل ہو جائے ۔

۳۔ زبان اور علمی اسلوب

• مقدمہ اور فتاویٰ کی زبان: کتاب کا بنیادی خطبہ اور علمی مقدمہ عربی زبان میں ہے جو نہایت فصیح، مسجع اور مقفیٰ (rhyming) ہے ۔عربی مقدمے میں ائمہ احناف کی معتبر کتب جیسے الہدایہ، العنایہ، البدایہ، الوقایہ، الدر المختار، اور البحر الرائق کا تذکرہ کر کے ان سے موازنہ کیا گیا ہے ۔

• سوانحی حصہ (فارسی اور اردو): کتاب میں مفتی سعد اللہ صاحب کی سوانح حیات (السوانح العمرية) شامل کی گئی ہے، جو مخلوط زبان میں ہے ۔اس میں مفتی صاحب کے علمی اسفار، شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کے شاگردوں سے کسبِ فیض، اور رامپور و لکھنؤ میں ان کی تدریسی و عدالتی خدمات کا ذکر فارسی نثر میں ہے۔

• منظوم خراجِ عقیدت (قطعہ تاریخ): کتاب کے آخر میں مفتی سعد اللہ صاحب کی وفات پر عربی، فارسی اور اردو زبانوں میں لکھے گئے مرثیے اور "قطعہ تاریخِ وفات" شامل ہیں ۔ اردو کے اشعار اس دور کی دیسی اور سادہ زبان کے عکاس ہیں۔

۴۔ مفتی محمد سعد اللہؒ کی علمی خدمات (سوانح کا خلاصہ)

ان صفحات سے مفتی صاحب کی علمی جلالت کا پتہ چلتا ہے:

• وہ دلی، مراد آباد اور رامپور جیسے علمی مراکز میں سرگرم رہے ۔

• انہوں نے شاہ عبدالغنی اور دیگر کبارِ علمائے کرام سے علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل کی ۔

• وہ اپنے وقت میں رامپور کی عدالتِ عالیہ کے رئیس (مفتی/قاضی) بھی رہے اور لکھنؤ کے مدرسہ شاہی میں تدریس کے فرائض بھی انجام دیے ۔

• ان کی دیگر تصانیف کے نام بھی مقدمے میں درج ہیں، جیسے: مفید الطلاب، القول الفیصل، رسالہ لامیہ در فارسی، نور الصباح، حاشیہ ملا جامی وغیرہ، جو ان کے وسیع المشرب عالم ہونے کی دلیل ہیں ۔

۵۔ علمِ افتاء میں کتاب کا مقام

مرتب کے بقول، یہ فتاویٰ عام فہم ہونے کے ساتھ ساتھ پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے دلیل اور حجت کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس میں احناف کے اقوال کی روشنی میں الجھے ہوئے معاملات (الاشکال) کو سلجھایا گیا ہے اور عبادات و معاملات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے تاکہ مفتیانِ کرام اور قضاۃ (ججز) کے لیے یہ ایک مستند گائیڈ بک ثابت ہو سکے ۔

یہ مقدمہ ثابت کرتا ہے کہ "الفتاوى السعدية" محض فتووں کی کتاب نہیں، بلکہ انیسویں صدی کے برصغیر کے ایک عبقری فقیہ کے علمی ترکے کو اگلی نسل تک منتقل کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔







 

مکمل تحریر اور تبصرے>>