Thursday, 5 November 2026

حضرت خواجہ باقی باللہؒ علمی و متصوفانہ خدمات تنقیدی کا جائزہ : پی ایچ ڈی مقالہ


 

حضرت خواجہ باقی باللہؒ

علمی و متصوفانہ خدمات تنقیدی کا  جائزہ

(پی ایچ ڈی مقالہ)

تحقیق :ڈاکٹر سید عشرت علی ہاشمی

تلخیص و تدوین : پروفیسر آفاق صدیقی

پیشکش : طوبیٰ ریسرچ لائبریری

 

Hazrat Khwaja Baqi Billahؒ

Ilmi o Mutasawwifana Khidmat KaTanqeedi Jaiza

Tehqeeq: Dr. Syed Ishrat Ali Hashmi

Talkhees o Tadween: Professor Afaq Siddiqui

#TOOBAA_POST_999

DOWNLOAD

مزید کتب کے لیئے دیکھیئے صفحہ " تزکیہ واحسان و سلوک و معرفت "۔

مزید کتب دیکھیئے " امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی احمد سرہندیؒ "۔

ملاحظہ کیجیئے " پی ایچ ڈی مقالات "۔

 

حضرت خواجہ باقی بالله رحمة الله علیہ

محترم سید عمران فیصل

نام رضی الدین،972ہجری میں شہر کابل میں پیدائش، والد ماجد کا نام قاضی عبدالسلام۔ والد اپنے علاقے کے چیف جسٹس ہونے کے ساتھ ساتھ عالم ِ باعمل اور صاحب ِ وجدوحال وفضل وکمال بزرگ تھے۔ والدہ بھی بہت پرہیز گار خاتون تھیں۔ اگرچہ نقش بندی سلسلہ کے بانی حضرت بہاء الدین نقش بندی ہیں، لیکن اس سلسلہ کی اشاعت آپ نے ہی کی اور نقش بندی سلسلہ میں ذکر کے طریقہ کو بھی آپ نے ہی تجویز کیا۔

تحصیل ِ علم

لڑکپن ہی سے آپ کے چہرہ سے جذب ِ الہٰی کے آثار عیاں تھے۔ آپ نے حضرت مُلاّ محمد صادق حلوائی رحمة الله علیہ سے علوم ظاہری کی تحصیل کی۔ آپ نے آٹھ برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا۔ تھوڑے ہی عرصہ میں علم وعمل کا آفتاب بن کر چمکنے لگے اوراپنے زمانے کے اہل علم میں شہرت ِ عام حاصل کر لی۔ علم کی جستجو میں آپ نے ماوراء النہر، سمر قند، بلخ، بدخشاں اور ہندوستان کے علاوہ مختلف علاقوں کا سفر اختیار فرمایا۔۔ مختلف اکابر اولیاء کی صحبت وخدمت میں رہ کر بے شمار روحانی فیوض وبرکات حاصل کیے۔

آپ کے عزیز واقارب اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے اوران کی خواہش تھی کہ تکمیل تعلیم کے بعد آپ بھی سرکار سے منسلک ہو جائیں، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ تحصیل ِ علوم ابھی جاری تھی کہ بعض ایسے معامالات پیش آئے جن سے آپ کی توجہ حقیقت ومعرفت کی طرف ہوگئی۔

تلاشِ حق کا سفر

اب کسی مرشد وراہ نما کی تلاش ہوئی ۔ مختلف بزرگوں کی خدمت میں حاضری دی، لیکن صفائی قلب اور تسکین میسر نہ آئی۔ بالآخر امیر عبدالله بلخی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہاں طبیعت کو کچھ استقامت حاصل ہوئی، آئینہٴ دل صاف ہوا اور مدارج ِ روحانی میں ترقی ہوئی، تاہم دلی پیاس کم نہ ہو سکی۔ چناں چہ پیر ِ کامل کی جستجو جاری رہی۔ اسی تلا ش میں ہندوستان آگئے اور کشمیر میں شیخ بابا ولی رحمة الله علیہ سے کسب فیض کیا۔

شیخ بابا ولی رحمة الله علیہ ترکستان کے باسی اور شیخ حسین خوار زمی رحمة الله علیہ کے خلیفہٴ خاص تھے۔999ء میں کشمیر تشریف لائے۔ دو سال بعد مرزا یادگار نے، جس نے اکبر کے خلاف علم ِ بغاوت بلند کیا تھا ،انہیں زہر دے دیا۔ خواجہ محمد اعظم لکھتے ہیں کہ خواجہ صاحب دو سال تک شیخ بابا ولی کی صحبت میں رہے۔ بعد ازاں سنبھل میں شیخ الہٰ بخش سنبھلی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مرشد کی تلاش میں وہ جا بجا گئے۔ آخر دہلی پہنچے، چشتیہ سلسلے کے نام ور بزرگ شیخ عبدالعزیز کی خانقاہ میں مقیم ہوئے او ران کے صاحب زادے شیخ قطب العالم کی خدمت میں رہ کر عبادت ِ الہٰی میں مشغول ہو گئے۔

شاہ ولی الله رحمة الله علیہ اپنی تصنیف ”انفاس العارفین“ میں لکھتے ہیں: ”ایک رات شیخ قطب العالم پر منکشف ہوا کہ حضرت خواجہ کا حصہ بخارا میں ہے۔ وہ اسی وقت باہر آئے اور حضرت خواجہ سے کہا کہ آپ کو مشائخ بخارا بلاتے ہیں ، روانہ ہو جائیے۔ یہ سن کرحضرات خواجہ اسی وقت بخارا روانہ ہو گئے۔“

ماوراء النہر میں آپ امکنہ(مضافات ِ سمرقند) کے قریب مولانا خواجگی رحمة الله علیہ کی خدمت میں پہنچے۔ انہوں نے کمال ِ محبت سے آپ کو نقش بندی سلسلے کی تعلیم دی، خلافت عطا کی اور ہندوستان واپسی کا حکم دیا۔

مولانا ہاشم اپنی تصنیف ”زبدة المقامات“ میں مولانا خواجگی رحمة الله علیہ کے بعض عزیزوں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جب حضرت خواجہ رحمة الله علیہ کو چند روز کی حاضری کے بعد خلافت مل گئی تو مولانا کے قدیمی دوستوں نے شکایت کی۔ مولانا نے فرمایا کہ اس کا معاملہٴ تربیت کمال کو پہنچا ہوا تھا ،فقط تصحیح احوال کی ضرورت تھی۔

ہندوستان آمد

ایک دن حضرت خواجگی رحمة الله علیہ نے فرمایا:”اب تم بلاد ِ ہند میں جاؤ، وہاں تم سے طریق ِ نقش بندیہ کی رونق ظاہر ہو گی۔“ چوں کہ آپ کی مزاج میں انکساری بہت تھی، اس لیے اس خدمت کے اختیار کرنے سے معذرت کی۔ حضرت خواجگی رحمة الله علیہ نے استخارہ کے لیے فرمایا۔ استخارہ کرنے سے عالم رویا میں معلوم ہوا کہ ہند میں ایک کامل الاستعداد مجدد الف ثانی رحمة الله علیہ تمہاری صحبت میں رہیں گے، تمہارے کمالات اُن کے ذریعہ سے ظاہر ہوں گے، تم کو اُن سے اور اُن کو تم سے ایک حلاوت ملے گی۔

آپ نے اپنے مرشد کے حسب الارشاد بلادِ ہند کا ارادہ فرمایا، پہلے لاہور میں رونق افروز رہے، وہاں بہت لوگ آپ سے فیض یاب ہوئے، وہاں سے شہر دہلی میں تشریف لے آئے۔ دہلی قلعہ کے قریب جمنا کنارے فیروزیہ ایک خو شنما مقام تھا اور وہاں ایک بہت بڑی مسجد بھی واقع ہے۔ الله والوں کو ایسے ہی مقام کی خواہش رہتی ہے، اس لیے آپ کو بھی یہی مقام پسند آیا اور وصال تک یہیں تشریف فرمارہے۔

دربار ِ اکبری میں دین ِ الہٰی کا سدِّ باب

آپ کی دہلی تشریف آوری کے پانچ چھ سال کے اندر روحانی حلقوں میں انقلاب برپا ہو گیا۔ علماء ومشائخ اور عامة المسلمین کے علاوہ اُمرائے سلطنت بھی آپ کے حلقہٴ بیعت میں شامل ہونے لگے۔ نواب مرتضیٰ خان فرید بخاری، عبدالرحیم خان خاناں، مرزا قلیج خان اور صدر جہاں وغیرہم بھی آپ کے نیاز مندوں میں شامل ہونے لگے۔ آپ نے دور ِ اکبری کے منفی اثرات کو زائل کرنے کے لیے ایک خاص حکمت عملی کے تحت، بشمول انہی راسخ العقیدہ امراء وعلماء وصوفیا کے، ایک جماعت تیار کی، جن میں حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی بھی شامل تھے۔

آپ نے اکبر کے دربار سے وابستہ امراء کے طبقے کی اصلاح کی طرف بھی توجہ دی۔ یہ آپ ہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ اکبر کے عہد میں دین ِ الہٰی کے نام پر جو لامذہبیت پیدا ہو رہی تھی اس کا خاطر خواہ سد باب ہوا اور طبقہ امراء میں مذہب سے وہ اُنس پیدا ہو گیا جس کے سامنے اکبر کے دین الہٰی خیالات فروغ نہ پاسکے۔

اکبر نے ابوالفضل اور فیضی کی مدد سے ”دین الہٰی“ کے نام سے مذہب کے اندر جو بدعتیں ایجاد کیں، انہیں دور کرنے کے لیے فوری طور پر کوئی شخصیت سامنے نہیں آئی تھی۔ اگرچہ عہد ِ اکبری میں علماء وصلحاء کی کوئی کمی نہ تھی۔ مؤرخین ِ عہد نے ان کے ناموں کی طویل فہرستیں دی ہیں، لیکن زیادہ تر بزرگوں نے عہد ِ اکبر ی کی مذہبی بوالعجبیاں روکنے کے لیے مؤثر کوششیں نہیں کیں۔ ان میں سے جو غالی وحدت الوجودی خیالات رکھتے تھے، مثلاً شیخ امان پانی پتی کے مرید تو اکبر کی مذہبی اختراعات میں اس کے شریک کار ہو گئے۔ جو شیخ عبدالحق محدّث دہلوی کی طرح اس تصرف ِ دین سے متنفر تھے، وہ دربار سے کنارہ کش ہو کر گوشہٴ تنہائی میں الله الله یاد رس وتدریس کرنے لگے۔

مخدوم الملک اور شیخ عبدالنبی، صد الصدور کو آپس کی مخالفتوں اور دوسری کم زوریوں نے بے اثر کر دیا تھا۔ جون پور کے ملّا محمد یزدی اور پنجاب کے علماء اکبر کی تعزیری کارروائیوں کا شکار ہو گئے۔ لہٰذا فتنے کا سدباب اور حالات کی اصلاح کسی سے نہ ہو سکی۔ ایسے پُرآشوب دور میں صرف ایک بزرگ نے دربار ِ اکبری کے مذہبی رحجانات کے خلاف مستحکم محاذ قائم کیا اور وہ تھے حضرت خواجہ باقی بالله رحمة الله علیہ۔

انہوں نے اپنی روحانی پاکیزگی، حکمت اور عظمت ِ کردار سے اکبر کے ارکان ِ سلطنت مثلاً شیخ فرید، قلیج خاں، صدر جہاں اور علماء ومشائخ، مثلاً حضرت مجدد الف ثانی رحمة الله علیہ اور شیخ عبدالحق محدث رحمة الله علیہ کے قلوب کو مسخر کر لیا۔ ہندوستان میں اسلامی روحانیت کی ایسی زبردست لہر دوڑادی اور اکبر کی براہِ راست مخالفت کیے بغیر اس طرح نئی دینی زندگی کا آغاز کیا کہ اس فضا میں اکبری رجحانات کا فروغ پاناناممکن ہو گیا۔

اکبری بدعتوں نے اگرچہ عام مسلمانوں کو متأثر نہیں کیا، لیکن اونچے طبقوں میں خرابیاں پیدا ہو چکی تھیں اور اس بات کا اندیشہ تھا کہ عامة الناس بھی ان سے متأثر ہو جائیں۔ اس لیے اس طبقے کو اسلام سے قریب لانے کی بڑی ضرورت تھی۔ حضرت خواجہ رحمة الله علیہ نے اس طرف خاص دھیان رکھا اور خدا نے ان کی کوششوں میں بڑی برکت دی۔

ان حضرات نے علمائے سوء کے منفی کردار کے اثرات زائل کرنے کے لیے، اکبر بادشاہ کے بعد جہانگیر کی جانشینی پر، اس شرط کے ساتھ حمایت کی کہ وہ دین اسلام کی ترویج واشاعت میں ان کا حامی ہو گا۔

مزاج وخواص

آپ کی نظر کیمیا، توجہ اکسیر اور دعا مستجاب تھی۔ آپ سے بے شمار کرامات کا ظہور ہوا۔ آپ بہت کم گو، کم خور اور کم خواب تھے۔

حضرت خواجہ باقی بالله رحمة الله علیہ دہلی میں رہتے تھے، ان کی خانقاہ میں ایک نان بائی حضرت کی خدمت کیا کرتا تھا، خصوصاً جب بھی کوئی وقت بے وقت مہمان آجاتا تو وہ مہمانوں کی خاطر مدارات کے لیے کچھ نہ کچھ لے کر حاضر ہو جاتا،حضرت اس سے بہت خوش تھے۔ ایک مرتبہ حضرت خواجہ صاحب کے یہاں کچھ اہم مہمان آگئے، اس نان بائی نے دیکھا کہ موسم خراب ہے، مگر کچھ نیک قسم کے مہمان بے وقت آئے ہیں تو اس نے کھانا پکا کر حضرت خواجہ باقی بالله صاحب نوّرالله مرقدہ کی خدمت میں پیش کیا۔ خواجہ صاحب نے پوچھا: یہ کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ حضرت کے یہاں مہمان آئے ہیں، میں ان کے لیے کھانا لایا ہوں، قبول فرمالیں۔حضرت کو بہت مسرت ہوئی او ربے اختیار فرمایا کہ مانگ کیا مانگتا ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ مجھے اپنے جیسا بنا دیجیے۔حضرت نے تھوڑی دیر تامل کرکے فرمایا کہ کچھ اور مانگ لو۔ اس نے کہا کہ نہیں، حضرت! بس یہی چاہیے۔ چوں کہ حضرت زبان ِ مبارک سے یہ فرماچکے تھے کہ مانگ کیا مانگتا ہے، اس لیے اس کو حجرہٴ مبارک میں لے گئے۔ نہ جانے وہاں کیسی توجہ دی کہ آدھ گھنٹے کے بعد جب حجرہ کھول کر باہر تشریف لائے تو دونوں کی صورت تک ایک ہو گئی تھی، فرق صرف اتنا تھا کہ حضرت خواجہ صاحب جیسے حجرے میں گئے تھے ویسے ہی باہر تشریف لے آئے، لیکن وہ طباخ مدہوشی کی حالت میں تھا اور کچھ دیربعد اسی حالت میں انتقال ہو گیا۔

دُکھی انسانیت کا درد

جس زمانے میں آپ لاہور پہنچے اس وقت اکبر بادشاہ اپنے درباریوں کے ساتھ وہیں مقیم تھا۔ اکبر بادشاہ کے بخشی بیگی، شیخ فرید بخاری نے جو نہایت رعایا پرور اور غریب دوست تھے، آپ کے روزینہٴ مصارف کی ذمے داری اٹھالی۔

”زبدة المقامات“ میں لکھا ہے کہ حضرت باقی بالله رحمة الله علیہ کی شفقت ورحم دلی کی کیفیت یہ تھی کہ ایک دفعہ لاہور میں سخت قحط پڑا، تو کئی روز تک آپ نے بھی کھانا نہیں کھایا۔ جب آپ کے سامنے کھانا لایا جاتا، تو فرماتے:” یہ بات انصاف سے بعید ہے کہ کوئی بھوکا پیاسا گلی کوچے میں جان دے اور ہم کھانا کھائیں۔“ جس قدر کھانا ہوتا، وہ سارا مساکین کے لیے بھجوادیتے۔ شمالی ہندوستان میں یہ قحط 1595ء سے 1598ء تک رہا۔

دوگراں قدر موتی

شیخ قطب ِ عالم جن کی خانقاہ میں کچھ عرصہ حضرت نے یاد ِ خدا میں گزارا تھا۔ ان کے بیٹے شیخ رفیع الدین محمد کی شادی تھی۔ وہ مُصر ہوئے کہ حضرت خواجہ بھی اس میں شرکت کریں۔ ایک تو آپ کی طبیعت ناساز تھی، دوسرا شادی دہلی سے دور کے علاقے میں تھی۔ آپ نے ضعف وعلالت کی بنا پر معذرت چاہی، لیکن شیخ نہ مانے، بلکہ یہاں تک کہ کہا کہ اگر آپ نہیں آتے تو وہ شادی ہی نہیں کرتے۔ ان کے اصرار کو حضرت خواجہ رد نہ کرسکے۔ اس موقع کا ذکر کرتے ہوئے شاہ ولی الله رحمة الله علیہ ”انفاس العارفین“ میں لکھتے ہیں:”جب دیگر صوفیاء کو معلوم ہوا کہ حضرت خواجہ اس تقریب میں آرہے ہیں، تو اہل الله کا بڑا ہجوم ہوا اور سو سو کوس تک کوئی مشہور صوفی نہ تھا جو حضرت خواجہ کی زیارت کے لیے اس تقریب میں شریک نہ ہوا ہو۔“

الله تعالیٰ نے اس شادی کو اسلامی ہندوستان کے لیے بڑا مبارک بنایا۔ شیخ رفیع الدین محمد کے ہاں اس زوجہ سے جو بیٹی پیدا ہوئی اس سے شاہ ولی الله جیسا یگانہٴ روز گار نواسا عطا ہوا۔

کچھ عرصے بعد حضرت مجدد الف ثانی رحمة الله علیہ نے آپ سے بیعت کی۔ اس بیعت کا دن ”زبدة المقامات“ میں 24جولائی1599ء درج ہے۔ مکتوبات امام ربانی میں آپ کے نام حضرت مجدد الف ثانی رحمة الله علیہ کے لکھے ہوئے 20 مکتوبات ہیں، جو دفتر اوّل یعنی پہلی جلد میں ادباً واحتراماً شروع میں رکھے گئے ہیں۔ ان میں آپ کے ذاتی احوال کے علاوہ علوم ومعارف کے بے شمار جواہر گراں مایہ شامل ہیں۔

عاجزی کا مرقع

حضرت خواجہ رحمة الله علیہ کی طبیعت میں مسکنت وانکسار بہت تھا اور وہ تالیف ِ قلوب کا بڑا خیال رکھتے تھے۔ انہوں نے حضرت مجدد الف ثانی رحمة الله علیہ کی اتنی تعریف کی ہے کہ بعض کوتاہ فہم یہ امتیاز نہیں کر پاتے کہ دونوں میں حقیقی مرشد کون ہے۔

وہ عجز وانکسار میں اتنا غلو کرتے کہ جب کوئی طالب ان کے پاس بیعت کی غرض سے آتا تو وہ کسر نفسی سے یہی کہتے کہ :”میں اس کار ِ عظیم کے لائق نہیں، دوسری جگہ طلب کا دامن بڑھاؤ اور اگر کسی مرد کامل کا پتا ملے تو مجھے بھی خبر دینا، تاکہ اس کی خدمت میں پہنچوں۔“

ایک خراسانی نوجوان حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے مزار پر معتکف تھا او رکسی مرشد سے ملنے کا طالب۔ اسے خواب میں اشارہ ہوا کہ نقش بندیہ سلسلے کے ایک مرد ِ کامل اس شہر میں آئے ہیں تو جاکر ان کی خدمت میں حاضر ہو۔ وہ خواجہ صاحب کی خدمت میں پہنچا اور اپنے خواب کا ماجرا بیان کیا۔

آپ نے کہا:” میں مرد ِ کامل کہاں؟ وہ کوئی اور بزرگ ہوں گے۔“ یہ کہا او رکثرت ِ انکسار سے اس طرح معذرت کی کہ وہ نوجوان بھی پلٹ گیا۔ دوسری رات اسے پھر اشارہ ہوا کہ یہ بزرگ وہی ہیں جن کی خدمت میں تم پہنچے تھے۔ عاجزی تو ان کا زیور ہے۔ چناں چہ وہ نوجوان پھر واپس آیا اور جب تک آپ نے اس کی را ہ نمائی قبول نہ کر لی وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔

ایک رات آپ نوافل پڑھنے کے لیے اُٹھے۔ سردی بہت زیادہ تھی، اس لیے آپ نے سوچا کہ باقی وظائف بستر پر بیٹھ کر پڑھ لینے چاہییں۔ آپ بستر پر گئے تودیکھا کہ ایک بلی آپ کے بستر پر سو رہی ہے۔ آپ نے اس کو سونے دیا اور باقی وظائف سخت سردی میں بستر سے باہر پڑھے۔

وصال

آپ کو طویل عمر نصیب نہیں ہوئی۔ دہلی میں آپ کا قیام تین چار سال سے زیادہ نہیں رہا۔ ابھی آپ نے عمر ِ عزیز کے چالیس سال ہی پورے کیے تھے کہ تمام روحانی نظام حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ کے سپرد فرماکر بروز شنبہ25/جمادی الثانی،1012 ہجری بعد نماز ِ عصر ذکراسم ذات کرتے ہوئے عالم ِ قدس میں جاپہنچے۔ آپ کا مزار دہلی میں فیروز شاہ کے قبرستان میں صحن ِ مسجد کے متصل واقع ہے۔

مکمل تحریر اور تبصرے>>

Friday, 30 October 2026

حجۃ اللہ البالغہ - حصہ دوم مترجم:مولانا عبد الرحیم


حجۃ اللہ البالغہ - حصہ دوم

مصنف:حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلوی

مترجم:مولانا عبد الرحیم

سابق پروفیسر عربی و پشتو و ناظم مکتبہٴ علوم شرقیہ، اسلامیہ کالج پشاور

پیشکش : طوبیٰ ریسرچ لائبریری

 

Hujjat Allah al-Baligha - Hissa Doum

 Author:Hazrat Imam Shah Waliullah Dehlavi

Translator:Maulana Abdul Rahim

#TOOBAA_POST_998

DOWNLOAD

مزید کتب کے لیئے دیکھیئے صفحہ  "ارمغانِ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی"۔

 

شاہ ولی اللہؒ کی اس معرکہ الآرا کتاب کے مفاہیم کو عام فہم اور علمی انداز میں اردو زبان میں منتقل کیا گیا ہے تاکہ شاہ صاحب کے فکر و فلسفہ اور شریعت کے مقاصد و اسرار سے عام و خاص مستفید ہو سکیں۔

-----

### **تاریخی پس منظر و اہمیت**

1.  **تصنیف کا دور:** شاہ ولی اللہؒ نے یہ کتاب اٹھارویں صدی عیسوی میں مغلیہ سلطنت کے زوال اور برصغیر میں مسلمانوں کی علمی و فکری پسماندگی کے دور میں تحریر کی۔

2.  **شریعت اور عقل کی ہم آہنگی:** اس کتاب کا بنیادی تاریخی مقصد شریعتِ اسلامیہ کے احکام کو عقلی، روایتی اور فطری دلائل سے ثابت کرنا تھا، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اسلامی احکام محض احکامی نظام نہیں بلکہ انسانی فطرت اور مصالحِ عامہ پر مبنی ہیں۔

3.  **تجدیدی خدمات:** "حجۃ اللہ البالغہ" کو علمِ کلام اور فکرِ اسلامی میں تجدید کا ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے، جس نے بعد کے تمام اسلامی مفکرین، علمی تحریکوں اور برصغیر کے دینی مدارس کے نصاب و فکر کو گہرے طور پر متاثر کیا۔

اسلامی ادب، فلسفہ، اور اسرارِ شریعت کی تاریخ میں چند کتابیں ایسی ہیں جنہیں 'عہد ساز' کہا جا سکتا ہے، اور برصغیر پاک و ہند کے عظیم مصلح، محدث اور مفکرِ اسلام حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی شاہکار تصنیف 'حجۃ اللہ البالغہ' بلاشبہ ان میں سرِفہرست ہے۔ یہ کتاب محض روایتی مسائل کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ دینِ اسلام کے احکامات، عبادات، اخلاقیات اور سماجی قوانین کے پیچھے چھپی الٰہی حکمتوں اور مصلحتوں کو عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ ثابت کرنے کی ایک بے مثال علمی کوشش ہے۔ امام شاہ ولی اللہ نے ایک ایسے دور میں اس کتاب کی بنیاد رکھی جب مسلم معاشرہ فکری جمود اور زوال کا شکار تھا، اور انہوں نے اس تصنیف کے ذریعے امت کو دوبارہ فکری بیداری اور اجتہاد کی دعوت دی۔

اصل کتاب عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے ایک عام قاری کے لیے اس کے گہرے فلسفیانہ اور علمی مباحث کو سمجھنا ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسلامیہ کالج پشاور کے سابق پروفیسرِ عربی و پشتو اور ناظم مکتبۂ علومِ شرقیہ، مولانا عبدالرحیم مرحوم نے اس کا نہایت سلیس، بامحاورہ اور عام فہم اردو ترجمہ پیش کر کے اردو داں طبقے پر ایک عظیم احسان کیا۔ ان کا یہ ترجمہ کتاب کے اصل روح اور فلسفے کو برقرار رکھتے ہوئے قاری کو علم کے ان موتیوں تک رسائی دیتا ہے جو شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے صدیوں پہلے قلمبند کیے تھے۔ یہ کتاب علمِ اسرارِ دین، حکمتِ شریعت، اور فلسفۂ اسلام کااحاطہ کرتی ہے۔ اس میں اسلامی احکام، عبادات، معاملات اور اخلاقیات کی عقلی و حِکمی بنیادوں کو واضح کیا گیا ہے۔

شریعت الٰہی کے اسرار و رموز پر مبنی شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی معرکہ آرا تصنیف "حجۃ اللہ البالغہ" کا ترجمہ کرنا کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ مولانا عبدالرحیم مرحوم نے جس خوبصورتی سے اس کٹھن علمی کام کو سرانجام دیا، اس کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

شریعت الٰہی کے اسرار و رموز پر مبنی شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی معرکہ آرا تصنیف "حجۃ اللہ البالغہ" کا ترجمہ کرنا کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ مولانا عبدالرحیم مرحوم نے جس خوبصورتی سے اس کٹھن علمی کام کو سرانجام دیا، اس کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

• سلیس اور عام فہم زبان: شاہ ولی اللہ کی اصل عربی عبارت انتہائی دقیق، فلسفیانہ اور گہری ہے۔ مولانا عبدالرحیم نے دقیق علمی اصطلاحات کو برقرار رکھتے ہوئے بھی اتنی عام فہم اور سلیس اردو استعمال کی ہے کہ ایک عام قاری بھی کتاب کے مغز کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔

• بامحاورہ اور شائستہ اسلوب: یہ ترجمہ لفظی ہونے کے بجائے اصطلاحی اور بامحاورہ ہے۔ انہوں نے عربی جملوں کی روح کو اردو قالب میں اس طرح ڈھالا ہے کہ پڑھتے ہوئے ترجمہ ہونے کا گمان نہیں ہوتا بلکہ ایک طبع زاد (اصل) اردو کتاب کا لطف آتا ہے۔

• اصل متن کی روح کا تحفظ: ترجمہ کرتے وقت سب سے بڑا چیلنج مصنف کے اصل مدعا کو جوں کا توں منتقل کرنا ہوتا ہے۔ مولانا عبدالرحیم نے اپنی علمی بصیرت اور عربی زبان پر مکمل دسترس کی بدولت شاہ ولی اللہ کے فلسفیانہ نظریات اور گہرے مقاصد کو بغیر کسی تبدیلی یا کجی کے دیانت داری کے ساتھ منتقل کیا ہے۔

• علمی و تحقیقی حواشی (فٹ نوٹس): جہاں کہیں اصل متن میں کوئی ایسی فلسفیانہ بحث یا مشکل علمی نکتہ آیا جہاں قاری کے الجھنے کا اندیشہ تھا، وہاں مولانا نے مختصر مگر جامع حواشی اور تشریحات کا اضافہ کیا ہے تاکہ بات پوری طرح واضح ہو جائے۔

• روانی اور تسلسل: کتاب کے حصوں اور ابواب کے ترجمے میں ایک خاص فکری تسلسل اور روانی پائی جاتی ہے۔ قاری ایک نکتہ پڑھ کر قدرتی طور پر اگلے نکتے کی طرف راغب ہوتا چلا جاتا ہے، جو مترجم کی اعلیٰ ادبی گرفت کا ثبوت ہے۔

 

مولانا زاہدالراشدی

بعض دوستوں کے تقاضے پر امام شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ کی تصنیف ’’حجة اللہ البالغہ‘‘ کے مقدمہ کو اردو زبان میں قدرے تسہیل کے ساتھ پیش کرنے کی سعادت کی ہے جبکہ ’’باب الاتفاقات‘‘ کو بھی اسی انداز میں پیش کرنے کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس کی تمہیدی گزارشات قارئین کی نذر کی جا رہی ہیں۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ بارہویں صدی کے ان عظیم علماء امت میں سے تھے جنہوں نے دین کے مختلف شعبوں میں اجتہاد و تجدید کا کام سنبھالا اور اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے وہ اس کٹھن گھاٹی سے اس طرح کامیابی سے گزرے کہ ان کے علوم و فیوض اور سعی و کاوش سے اب تک مسلسل استفادہ کیا جا رہا ہے۔بلکہ دینی علوم کے فروغ اور ترویج میں ان کے ذوق و اسلوب کی ضرورت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید اجاگر ہوتی جا رہی ہے۔وہ ایک بڑے محدث، مفسر ، مجاہد ،متکلم اور صوفی تھے۔انہوں نے ان تمام دائروں میں تجدید و اجتہاد کے نقوش قائم کیے ہیں جن سے رہتی دنیا تک ارباب علم و دانش راہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔ آج کے دور میں شاہ ولی اللہ کے علوم و فیوض ، فلسفہ و فکر اور ذوق اسلوب کی ضرورت و اہمیت کا جس سطح پر احساس و اظہار کیا جا رہا ہے، اس کا اندازہ ان دو شہادتوں سے کیا جا سکتا ہے جن کا راقم الحروف خود راوی ہے۔

شکاگو یونیورسٹی امریکہ میں ایک نو مسلم خاتون ڈاکٹر ایم۔کے ہرمینسن شعبہ علوم اسلامیہ میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔فلسفہ میں سان ڈیاگو یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے قرآن کریم سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا اور دینی علوم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ انہوں نے شاہ ولی اللہؒ کو اپنے مطالعہ و تحقیق کا خصوصی عنوان بنایا اور اسی حوالہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ شاہ ولی اللہ کی معرکة الارا کتاب ’’ حجة اللہ البالغہ‘‘ کا انہوں نے انگلش میں ترجمہ کیا اور اب شکاگو یونیورسٹی میں اسلامی علوم کی اپنے ذوق کے مطابق خدمت میں مصروف ہیں۔ ان کے شوہر پروفیسر محمد علوی پاکستانی ہیں، وہ ان کے ساتھ ۱۹۸۹ء میں پاکستان تشریف لائیں تو گوجرانوالہ بھی آئیں۔ جس کی وجہ انہوں نے خود یہ بیان کی کہ حضرت شاہ ولی اللہ کے علوم و فلسفہ پر اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ مرتب کرتے ہوئے انہیں جامعہ نصرة العلوم کے بانی حضرت صوفی عبد الحمید سواتی ؒ کی تصنیفات سے استفادہ کا موقع ملا ہے۔ حضرت صوفی صاحبؒ راقم الحروف کے چچا محترم اور شاہ ولی اللہ ؒ کے فلسفہ و حکمت کے متخصصین میں سے تھے۔ انہوں نے جامعہ نصرة العلوم کے دورہ حدیث کے نصاب میں ’’حجة اللہ البالغہ‘‘ کو باضابطہ طور پر شامل کیا جو وہ خود پڑھاتے تھے۔ اور ان کی وفات کے بعد سے اس کے کچھ ابواب دورہ حدیث کے طلباء کو پڑھانے کی سعادت مجھے حاصل ہو رہی ہے، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔

ڈاکٹر صاحبہ محترمہ نے کہا کہ وہ صوفی صاحب سے ملاقات اور ان سے کچھ مسائل پر گفتگو کے ارادہ سے آئی ہیں جو ان کے شوہر پروفیسر محمد علوی ، پروفیسر عبداللہ جمال مرحوم ، اور راقم الحروف کے ہمراہ جامعہ نصرة العلوم میں ہوئی۔ ڈاکٹر ایم۔ کے ہرمیسن نے دوسری وجہ یہ بیان کی کہ انہوں نے سنا ہے کہ گوجرانوالہ میں ایک ادارہ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے نام سے قائم ہوا ہے، وہ اسے دیکھنے آئی ہیں۔ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی قائم کرنے والوں میں راقم الحروف بھی شامل تھا۔ لیکن اس وقت وہ اس مرحلہ میں تھا کہ زمین خریدی جا چکی تھی، تعمیراتی کام ابتدائی مراحل میں تھا اور تعلیمی پروگرام کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی۔اب یہ ادارہ جامعة الرشید کراچی کے زیر انتظام ’’جامعہ شاہ ولی اللہ‘‘ کے نام سے کام کر رہا ہے جس میں دینی و عصری دونوں علوم کی تعلیم دی جاتی ہے اور راقم الحروف بھی اس کے مشاورتی نظام کا حصہ ہے۔

اس موقع پر میں نے ’’ماہنامہ الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ کے لئے محترمہ کا انٹرویو لیا جس میں انہوں نے اپنے قبول اسلام اور تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں کی تفصیلات بیان کیں۔اور اپنے اس تاثر کا اظہار کیا کہ مغربی دنیا میں اسلام کا پیغام و دعوت کے لیے شاہ ولی اللہ کا اسلوب اور ان کی زبان سب سے زیادہ مؤثر ہے۔اگر آپ ان کے لہجے میں حکمت اور لاجک کے ساتھ مغرب کو اسلام سمجھائیں گے تو اس کی سمجھ میں جلدی آئے گا اور یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

دوسری شہادت برطانیہ کے ایک نومسلم دانش ور ڈاکٹر یحیٰ برٹ کی پیش کرنا چاہوں گا جو بی بی سی کے سابق ڈائریکٹر جنرل جان برٹ کے فرزند ہیں۔ قبول اسلام کے بعد انہوں نے بھی اسلامی علوم کے مطالعہ و تحقیق کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے اسی حوالہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے سرفراز ہوئے۔ان کے اعزاز میں ایک موقع پر لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے ایک استقبالیہ دیا گیا جس کی صدارت راقم الحروف نے کی۔ اس نشست میں اپنے خطاب کے دوران انہوں نے بھی یہ بات زور دے کر کہی کہ مغرب کو اسلام کے حوالہ سے دعوت دیتے ہوئے حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کا اسلوب اختیار کرنا ہوگا اور مغرب انہی کی زبان میں اسلام کو صحیح طریقے سے سمجھ پائے گا۔ یحیٰ برٹ کا کہنا تھا کہ حکمت و دانش اور لاجک کے ساتھ روحانیات وجدانیات کا متوازن امتزاج حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا امتیاز ہے اور آج مغرب کو اسی کی ضرورت ہے، جس کی طرف علماء اسلام کو بالخصوص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کے علم و فضل اور سعی و کاوش کے بہت سے دائرے ہیں جو اس وقت ہمارے موضوع میں شامل نہیں ہیں لیکن علمی دنیا میں ان کی سعی مشکور کو سب سے زیادہ اہمیت اس حوالہ سے دی جاتی ہے کہ انہوں نے اسلامی عقائد، احکام، قوانین اور روایات کی حکیمانہ تشریح کی۔اور انسانی معاشرہ اور سماج کو موضوع بنا کر سماج کے نفع و نقصان اور سوسائٹی کے خیر و شر کی بنیادوں اور تقاضوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں واضح کیا۔ کہا جاتا ہے کہ سماجیات (سوشیالوجی) کو باقاعدہ موضوع بنا کر ابن خلدون نے اپنے دور میں بات کی تھی، ان کے بعد اس سلسلے میں امام غزالیؒ، شیخ الاسلام عز الدین بن عبد السلامؒ، امام خطابی ؒ اور دیگر حضرات کا نام لیا جاتا ہے۔ مگر اسے باقاعدہ ایک فن کی حیثیت سے حضرت شاہ ولی اللہ ؒنے مدون کیا اور ان کی تصنیف ’’حجة اللہ البالغہ‘‘ اسی حوالے سے ایک شاہکار کتاب تصور کی جاتی ہے۔

انہوں نے حجة اللہ البالغہ میں ’’علم اسرار دین‘‘ (دینی عقائد و احکام کی حکمتوں اور فلاسفی کا علم) کو اپنی ان کاوشوں کا نام دیا ہے اور کتاب کے مقدمہ میں اس کے تعارف کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت و ضرورت اور افادیت کی وضاحت فرمائی ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں مزید کوئی بات کہنے کے بجائے اس مقدمہ کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا جائے، جو ہوگا تو خلاصہ ہی مگر ہماری زبان میں ہوگا اور اس میں کہیں کہیں ہم ضرورت کے مطابق اپنی توضیحی گزارشات بھی الگ عنوان کے ساتھ ذکر کریں گے۔

بشکریہ: https://zahidrashdi.org/550

مکمل تحریر اور تبصرے>>