شرح رباعیات حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ
حواشی و تعلیقات: امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی قدس سرہ
اردو ترجمہ: جناب ثناء الحق صاحب صدیقی، ایم۔اے
نظرِ ثانی: حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ صاحب
پیشکش : طوبیٰ ریسرچ لائبریری
Sharh Rubaiyat Hazrat Khwaja Baqi Billahؒ
Hazrat Khwaja Baqi Billah Rahmatullah Alaih
Hawashi o Taliqat: Imam-e-Rabbani Hazrat Mujaddid Alif Sani Sheikh Ahmad Farooqi Sirhindi Quddisa Sirruhu
Urdu Tarjuma: Janab Sana-ul-Haq Sahib Siddiqui, M.A.
Nazar-e-Sani: Hazrat Maulana Syed Zawar Hussain Shah Sahib
#TOOBAA_POST_1000
مزید کتب کے لیئے دیکھیئے صفحہ " تزکیہ واحسان و سلوک و معرفت "۔
مزید کتب دیکھیئے " امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی احمد سرہندیؒ "۔
حضرت خواجہ باقی باللہؒ
علمی و متصوفانہ خدمات تنقیدی کا جائزہ
(پی ایچ ڈی مقالہ)
تحقیق :ڈاکٹر سید عشرت علی ہاشمی
تلخیص و تدوین : پروفیسر آفاق صدیقی
پیشکش : طوبیٰ ریسرچ لائبریری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمّد احمد غزالی
نوجوان بیٹا رات رات بھر عبادت کرتا، اللہ کی یاد میں روتا رہتا، بس ایک ہی طلب تھی کہ کسی طرح اُس ذات کا قرب حاصل ہوجائے۔اِس مقصد کے لیے ایک سے دوسرے شہر جاتا، بزرگوں کی صحبت اختیار کرتا تاکہ گوہرِ مقصود حاصل ہو سکے۔ والدہ بیٹے کی بے قراری دیکھ کر خود بھی بے قرار ہوجاتیں۔ بارگاہِ الہٰی میں دامن پھیلا کر پُھوٹ پُھوٹ کر رو پڑتیں،’’ الٰہی! میرے بیٹے کی مُراد پوری کردے، جس نے تیری طلب میں سب سے منہ موڑ لیا اور جوانی کی لذّتوں سے ہاتھ دھو لیا۔ یا پھر مجھے زندہ نہ رکھ کہ مَیں اس کی ناکامی برداشت نہیں کر سکتی۔‘‘ماں کی دُعائیں اور نوجوان کی محنت رنگ لے آئی اور وہ چند برسوں ہی میں ایک ایسے روحانی مقام پر فائز ہوگیا،جس کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔
ولادت، خاندان، تعلیم
حضرت خواجہ باقی باللہ ؒ 971ہجری، 1564ءمیں کابل میں پیدا ہوئے۔ نام سے متعلق مختلف آرا ہیں۔ محمّد باقی، عبدالباقی یا محمّد رضی الدّین نام تھا۔ ابو الموید کنیت تھی، جب کہ باقی باللہ کے نام سے معروف ہوئے۔ صوفیا کے حلقوں میں’’ خواجہ بے رنگ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔والد، قاضی عبدالسّلام کا تُرک خلجی خاندان سے تعلق تھا، جب کہ والدہ شیخ عُمر یاغستانیؒ کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، جو نقش بند سلسلے کے عظیم بزرگ، خواجہ عبید اللہ احرارؒ کے نانا تھے۔ والد اپنے علم و فضل اور تقویٰ و پرہیز گاری میں معروف تھے، وہیں والدہ بھی بے حد نیک و پارسا تھیں۔ آپؒ کا خاندان ایک طرف علمی و دینی لحاظ سے اہم مقام کا حامل تھا، تو دوسری طرف اسے حکومتی حلقوں میں بھی خاص اہمیت حاصل تھی کہ خاندان کے بہت سے افراد حکومتی مناصب پر فائز تھے۔
آپؒ نے ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی، 8 برس کی عُمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا،جس کے بعد مولانا صادق حلوائیؒ کے حلقۂ درس میں شامل ہوگئے، جنھوں نے شہنشاہ اکبر کے بھائی اور افغانستان کے حاکم، مرزا حکیم کی درخواست پر درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ خواجہ باقی باللہؒ بہت ذہین اور محنتی تھے، لہٰذا جلد ہی اُن کا شمار بہترین طلبہ میں ہونے لگا۔جب استادِ محترم اپنے آبائی علاقے، سمرقند جانے لگے،تو آپؒ بھی اُن کے ساتھ چلے گئے تاکہ تعلیم کا سلسلہ جاری رہے۔اِس دوران دیگر علماء سے بھی استفادہ کیا۔یوں تقریباً25 برس کی عُمر تک علمی دنیا سے سیراب ہوتے رہے اور آپؒ ممتاز علماء میں شمار کیے جانے لگے۔ یہاں تک کہ مشکل مسائل یا اشکالات آپؒ کے سامنے پیش کیے جاتے، تو لمحوں میں اُنھیں حل کردیا کرتے۔
روحانی سفر
ایک روز مطالعے میں مشغول تھے کہ ایک مجذوب آپؒ کی طرف آ نکلا اور ایک شعر پڑھا، جس کا مفہوم یہ تھا کہ’’ اب کنز الدقائق اور قدوری میں( کتابوں کے نام) اللہ کو نہیں دیکھا جاسکتا، تُو دل کے آئینے کو دیکھ کہ اِس سے بہتر کوئی کتاب نہیں۔‘‘ گویا یہ اِس جانب اشارہ تھا کہ اب عملی طور پر روحانی سفر کا آغاز کرنا چاہیے۔ گو کہ آپؒ اِس سے قبل بھی صوفیا کی صحبت میں جاتے رہتے تھے کہ سمر قند اُن دنوں علماء اور صوفیا کا مرکز تھا۔ بہر حال،آپؒ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اہل اللہ کی تلاش میں نکل پڑے۔
اِس موقعے پر خاندان کے لوگوں نے مشورہ دیا کہ کوئی حکومتی عُہدہ قبول کرلینا چاہیے اور آپؒ کی جو علمی لیاقت تھی، اُس بنا پر اعلیٰ عُہدے کا حصول مشکل بھی نہ تھا، مگر آپؒ تو کوئی اور ہی فیصلہ کر چُکے تھے۔ ابتدا میں خواجہ عبیدؒ کی خدمت میں جا کر توبہ کی، مگر اس پر قائم نہ رہ سکے۔
پھر شیخ افتخارؒ کے پاس گئے اور دوبارہ توبہ کی، مگر اِس بار بھی استقامت نصیب نہ ہوسکی۔ تیسری مرتبہ حضرت امیر عبداللہ بلخیؒ کی خدمت میں پہنچے اور توبہ کی تجدید کی۔ بزرگانِ دین کی تلاش کا سفر سمرقند سے شروع کیا، پھر افغانستان میں کئی صوفیا کی صحبت اختیار کی، بعدازاں لاہور آئے۔ اِس مقصد کے لیے ویرانوں، بیابانوں اور قبرستانوں میں پِھرتے رہے۔کشمیر میں شیخ بابا والیؒ کی خدمت میں پہنچے، جو سلسلہ نقش بندیہ کے ایک بڑے شیخ تھے۔ وہاں سے ایک بار پھر لاہور اور دہلی گئے، بعدازاں کابل چلے گئے۔ اِس دَوران خواجہ بہاء الدّین نقش بندؒ ، خواجہ عبیداللہ احرارؒ اور خواجہ محمّد پارساؒ کی روحانیت سے بھی استفادہ کر رہے تھے۔
تاہم، مرشد کی تلاش کا سلسلہ ابھی جاری تھا۔ بلخ، بدخشاں سے ہوتے ہوئے سمر قند جا رہے تھے کہ سلسلہ نقش بندیہ کے بزرگ، خواجہ محمّد امکنگیؒ سے ملاقات ہوئی،جنھوں نے دیکھتے ہی فرمایا،’’ اے بیٹا! ہماری آنکھیں تو تمھارا ہی راستہ دیکھ رہی ہیں۔‘‘ اُن سے بیعت ہوکر چند دن وہاں رہے اور مرشد کی توجّہات سے منزل تک پہنچ گئے۔ کہا جاتا ہے کہ آپؒ کو خواب میں خواجہ امکنگیؒ کی طرف جانے کا اشارہ ہوا تھا یا بابا والی کشمیریؒ نے وہاں جانے کی ہدایت کی تھی۔
بہر کیف، اِس کے بعد مرشد نے آپؒ کو ہندوستان جانے کی ہدایت کی تاکہ وہاں سلسلہ نقش بندیہ فروغ پاسکے۔ ایک موقعے پر راہِ سلوک میں اپنی محنت کا ذکر اِن الفاظ میں فرمایا، ’’ اگر چہ ہم نے بعض اہل اللہ کی طرح سخت ریاضتیں نہیں کیں، لیکن انتظار اور بے قراری کی ایسی عظیم اذیتیں برداشت کیں، جو ان کے شایانِ شان ہیں۔‘‘
ہندوستان آمد
آپؒ نے خواب دیکھا کہ ایک خُوب صورت توتے کے منہ میں اپنا لعاب ڈال رہے ہیں اور اُس نے آپؒ کے دہن میں شکر ڈالی۔جب خواجہ امکنگیؒ نے یہ خواب سُنا، تو فرمایا، ’’یہ ہندوستان کا پرندہ ہے، تم وہاں جاؤ، ایک عظیم ہستی تم سے بیعت ہوگی اور تمھیں بھی اُن سے فائدہ حاصل ہو گا۔‘‘ تقریباً 37 برس کی عُمر میں ہندوستان تشریف لائے۔ ایک برس لاہور میں رہے، جہاں بہت مقبولیت حاصل ہوئی، پھر دہلی منتقل ہوگئے کہ وہ اُن دنوں مُلک کا مرکز تھا۔ یہاں بھی چند ہی دنوں میں آپؒ کا شُہرہ ہوگیا اور طالبانِ حق آپؒ سے رجوع کرنے لگے،جن میں حضرت مجدّد الف ثانیؒ اور شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ جیسی قد آور شخصیات بھی شامل تھیں۔
شخصیت، تعلیمات
بہت عبادت گزار تھے،رات رات بھر مراقبے میں بیٹھے رہتے۔جسم درد کرنے لگتا،تو اٹھ کر وضو کرکے دوبارہ مراقب ہوجاتے۔ تہجّد میں طویل قیام کرتے اور ہر رکعت میں سورۂ یاسین پڑھا کرتے۔ والدہ اپنے شوق سے آپؒ کے مریدین کے لیے کھانا تیار کرتیں، جس میں آپؒ بھی حصّہ لیتے۔ تنور میں روٹیاں لگاتے، ہانڈی چولھے پر رکھتے، اُتارتے۔ نماز مسجد میں جاکر باجماعت ادا کرتے۔قرآن پاک کی تلاوت کثرت سے کرتے۔
سادہ زندگی گزارتے۔تکلّفات سے دُور تھے۔عام سی جگہ پر بیٹھ جاتے،پرانی چٹائی پر سوتے۔جو ملتا، کھا لیتے،کئی کئی روز تک ایک ہی جیسا کھانا ملتا، جس کی طرف آپؒ کی زیادہ رغبت بھی نہ ہوتی، تب بھی کسی کو کچھ نہ کہتے اور چپ چاپ کھا لیتے۔ طبیعت میں بہت عاجزی تھی، کسی کو فوری مرید نہ کرتے،یہ کہہ کر ٹال دیتے’’ مَیں تو ایسا ہی ہوں، کوئی اچھا ملے تو مجھے بھی بتانا۔‘‘بہت سے مال دار افراد آپؒ کے حلقۂ ارادت میں شامل تھے، اگر وہ کچھ بھیجتے، تو فقرا میں تقسیم کردیتے۔
ایک روز تہجّد کے لیے اُٹھے، تو آپؒ کے بستر میں بلّی سو گئی۔ آپؒ سردی میں پوری رات باہر بیٹھے رہے، مگر بلّی کو نہ اُٹھایا۔ لاہور میں قیام کے دوران وہاں قحط پڑا، تو جب آپؒ کے لیے کھانا لایا جاتا، وہ بھوکوں میں تقسیم کروا دیتے۔ایک بار ایک پڑوسی نوجوان کو، جو فسق و فجور میں مبتلا تھا اور اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا تھا، کسی مرید نے حکّام سے شکایت کرکے گرفتار کروا دیا۔
آپؒ کو اطلاع ملی تو بہت ناراض ہوئے، ایک آہ بَھری اور فرمایا، ’’جی ہاں! آپ لوگ اہلِ تقویٰ تھے،لہٰذا اُس کے فِسق کو محسوس کرلیا، مگر ہم تو خود کو اُس سے بہتر نہیں سمجھتے۔‘‘ پھر نوجوان کو رہا کروا دیا،جو آپؒ کے حُسنِ سلوک پر گناہوں سے تائب ہوگیا۔ کسی مرید سے کوئی غلطی ہوجاتی، تو کہتے’’ نہیں، یہ تمھاری نہیں، میری غلطی ہے،جو ظاہراً تم سے ہوئی ہے۔‘‘بہت کم گفتگو فرماتے، مگر جب کوئی رہنمائی کا طالب ہوتا، تو اسے پوری بات اچھی طرح سمجھاتے۔
لاہور سے دہلی آتے ہوئے کسی کو پیدل چلتے دیکھتے، تو اپنی سواری پر سوار کرلیتے، جس کے لیے کئی بار خود پیدل بھی چلنا پڑتا۔ بہت وضع دار تھے۔شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے لکھا ہے کہ’’ شیخ رفیع الدّین نے اپنی شادی میں شرکت پر اصرار کیا، مگر بیماری کی وجہ سے آپؒ کی شرکت بہت مشکل تھی، چوں کہ اُن کے والد کی خانقاہ میں کسی دَور میں چند روز رہے تھے، اِس لیے شادی میں شرکت کے لیے دہلی سے کافی دُور گئے۔
جب وہاں پہنچے، تو سو ،سو کوس تک شاید ہی کوئی ایسا صوفی ہوگا، جو آپؒ کی زیارت کے لیے نہ پہنچا ہو۔‘‘کسی سے کوئی غلطی سرزد ہو جاتی، تو اُسے براہِ راست نہ ٹوکتے، مثالوں سے سمجھاتے۔ لقمۂ حلال کی بہت پابندی کرتے۔ فرماتے،’’ اگر تم ہزار سال بھی اللہ کا ذکر کرتے رہو اور کھانا حلال مال کا نہ ہو، تو کبھی روحانی ترقّی حاصل نہیں کرسکتے۔‘‘ سُنّتِ بنویﷺ کے بے حد پابند تھے اور مریدین کو بھی اس کی ہدایت کرتے۔
خود عالمِ دین تھے، مگر پھر بھی دینی رہنمائی کے لیے پرہیز گارعلماء سے رجوع کرتے۔ سماع سے رغبت نہیں تھی۔ایک روز کسی نے مجلس میں اونچی آواز سے’’ اللہ‘‘ کہا، تو فرمایا،’’ اِنھیں ہماری مجلس کے آداب سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔‘‘ایک بار حج کا ارداہ فرمایا، تو اعلیٰ سرکاری عُہدے دار، مرزا عبد الرحیم خانِ خاناں نے ایک لاکھ روپیا نقد پیش کیا، اس پر آپؒ نے سخت تنبیہہ کر کے واپس کر دیا اور فرمایا،’’ مسلمانوں کا پیسا ضائع نہ کریں۔‘‘
سیاسی و روحانی اثرات
گو کہ آپؒ نے محض تین چار برس ہی تک بندگانِ خدا کی رہنمائی کا فریضہ ادا کیا،مگر آپؒ کی خدمات کے اثرات آج تک نہ صرف برّ ِ صغیر بلکہ دنیا کے دیگر خطّوں میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ آپؒ کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔بڑے بڑے مشایخ اور سجادہ نشین آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ آپؒ کو اِس قدر شہرت ملی کہ دُوردراز سے لوگ آپ کے پاس آتے۔کئی علاقوں کے لوگوں کو تو راستوں میں آپؒ کی وفات کا علم ہوا کہ جلدہی اپنے ربّ کے حضور پہنچ گئے تھے۔
آپؒ نے سیاسی طور پر بھی اہم کردار ادا کیا۔ شیخ فرید بخاری، نواب مرتضیٰ خان، مرزا خانِ خاناں، مرزا قلیج خان، مزرا عزیز جیسے اعلیٰ اور با اثر حکّام آپؒ کے مریدین میں شامل تھے، جن کے ذریعے آپؒ نے اکبر کی غیر اسلامی رسومات اور احکامات کے خاتمے کی کوششیں کیں۔ اِس تحریک کو آپؒ کے نام ور جانشین،حضرت شیخ احمد سرہندیؒ نے،جو مجدّد الف ثانیؒ کے لقب سے معروف ہیں،آگے بڑھایا۔
وفات، ازواج، تصنیفات
وصال سے چند روز قبل فرمایا،ایسا لگتا ہے کہ سلسلہ نقش بندیہ کی کسی اہم شخصیت کا انتقال ہونے والا ہے۔امراض کا غلبہ ہوا، تو لوگوں سے مِلنا جُلنا تَرک کر دیا اور مریدین حضرت مجدّد الف ثانیؒ کے حوالے کردیے۔ ایک روز فرمایا،’’ خواب دیکھا ہے کہ خواجہ عبید اللہ احرارؒ نے مجھے فرمایا،’’ پیراہن پہنو۔‘‘ پھر مُسکرا کر فرمایا،’’ کفن بھی تو پیراہن ہی ہے۔‘‘ہفتہ 25 جمادی الثّانی 1012 ہجری میں نمازِ عصر کے بعد دہلی میں اپنے مکان پر 40برس کی عُمر میں انتقال فرمایا۔ وصال سے قبل ایک شخص نے’’ اللہ‘‘ کہا، تو فوراً اُس کی طرف رخ کرلیا اور یہ نام سُن کر آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے۔
آپؒ نے دو شادیاں کیں، جن سے دو بیٹے اور بعض روایات کے مطابق دو صاحب زادیاں بھی ہوئیں۔ صاحب زادوں کے نام خواجہ عبیداللہ اور خواجہ عبداللہ تھے۔ آپؒ کو شاعری سے بہت شغف تھا۔ سیکڑوں اشعار یاد تھے اور خود بھی شعر کہا کرتے تھے۔ آپؒ کی رباعیاں شایع ہوچکی ہیں۔ دیگر تصنیفات میں رسالہ طریقت، رسالہ عرفانی شامل ہیں، جب کہ آپؒ کے مکتوبات بھی طالبانِ حق کی رہنمائی کرتے ہیں۔

0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔