Friday, 30 October 2026

حجۃ اللہ البالغہ - حصہ دوم مترجم:مولانا عبد الرحیم


حجۃ اللہ البالغہ - حصہ دوم

مصنف:حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلوی

مترجم:مولانا عبد الرحیم

سابق پروفیسر عربی و پشتو و ناظم مکتبہٴ علوم شرقیہ، اسلامیہ کالج پشاور

پیشکش : طوبیٰ ریسرچ لائبریری

 

Hujjat Allah al-Baligha - Hissa Doum

 Author:Hazrat Imam Shah Waliullah Dehlavi

Translator:Maulana Abdul Rahim

#TOOBAA_POST_998

DOWNLOAD

مزید کتب کے لیئے دیکھیئے صفحہ  "ارمغانِ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی"۔

 

شاہ ولی اللہؒ کی اس معرکہ الآرا کتاب کے مفاہیم کو عام فہم اور علمی انداز میں اردو زبان میں منتقل کیا گیا ہے تاکہ شاہ صاحب کے فکر و فلسفہ اور شریعت کے مقاصد و اسرار سے عام و خاص مستفید ہو سکیں۔

-----

### **تاریخی پس منظر و اہمیت**

1.  **تصنیف کا دور:** شاہ ولی اللہؒ نے یہ کتاب اٹھارویں صدی عیسوی میں مغلیہ سلطنت کے زوال اور برصغیر میں مسلمانوں کی علمی و فکری پسماندگی کے دور میں تحریر کی۔

2.  **شریعت اور عقل کی ہم آہنگی:** اس کتاب کا بنیادی تاریخی مقصد شریعتِ اسلامیہ کے احکام کو عقلی، روایتی اور فطری دلائل سے ثابت کرنا تھا، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اسلامی احکام محض احکامی نظام نہیں بلکہ انسانی فطرت اور مصالحِ عامہ پر مبنی ہیں۔

3.  **تجدیدی خدمات:** "حجۃ اللہ البالغہ" کو علمِ کلام اور فکرِ اسلامی میں تجدید کا ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے، جس نے بعد کے تمام اسلامی مفکرین، علمی تحریکوں اور برصغیر کے دینی مدارس کے نصاب و فکر کو گہرے طور پر متاثر کیا۔

اسلامی ادب، فلسفہ، اور اسرارِ شریعت کی تاریخ میں چند کتابیں ایسی ہیں جنہیں 'عہد ساز' کہا جا سکتا ہے، اور برصغیر پاک و ہند کے عظیم مصلح، محدث اور مفکرِ اسلام حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی شاہکار تصنیف 'حجۃ اللہ البالغہ' بلاشبہ ان میں سرِفہرست ہے۔ یہ کتاب محض روایتی مسائل کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ دینِ اسلام کے احکامات، عبادات، اخلاقیات اور سماجی قوانین کے پیچھے چھپی الٰہی حکمتوں اور مصلحتوں کو عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ ثابت کرنے کی ایک بے مثال علمی کوشش ہے۔ امام شاہ ولی اللہ نے ایک ایسے دور میں اس کتاب کی بنیاد رکھی جب مسلم معاشرہ فکری جمود اور زوال کا شکار تھا، اور انہوں نے اس تصنیف کے ذریعے امت کو دوبارہ فکری بیداری اور اجتہاد کی دعوت دی۔

اصل کتاب عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے ایک عام قاری کے لیے اس کے گہرے فلسفیانہ اور علمی مباحث کو سمجھنا ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسلامیہ کالج پشاور کے سابق پروفیسرِ عربی و پشتو اور ناظم مکتبۂ علومِ شرقیہ، مولانا عبدالرحیم مرحوم نے اس کا نہایت سلیس، بامحاورہ اور عام فہم اردو ترجمہ پیش کر کے اردو داں طبقے پر ایک عظیم احسان کیا۔ ان کا یہ ترجمہ کتاب کے اصل روح اور فلسفے کو برقرار رکھتے ہوئے قاری کو علم کے ان موتیوں تک رسائی دیتا ہے جو شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے صدیوں پہلے قلمبند کیے تھے۔ یہ کتاب علمِ اسرارِ دین، حکمتِ شریعت، اور فلسفۂ اسلام کااحاطہ کرتی ہے۔ اس میں اسلامی احکام، عبادات، معاملات اور اخلاقیات کی عقلی و حِکمی بنیادوں کو واضح کیا گیا ہے۔

شریعت الٰہی کے اسرار و رموز پر مبنی شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی معرکہ آرا تصنیف "حجۃ اللہ البالغہ" کا ترجمہ کرنا کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ مولانا عبدالرحیم مرحوم نے جس خوبصورتی سے اس کٹھن علمی کام کو سرانجام دیا، اس کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

شریعت الٰہی کے اسرار و رموز پر مبنی شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی معرکہ آرا تصنیف "حجۃ اللہ البالغہ" کا ترجمہ کرنا کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ مولانا عبدالرحیم مرحوم نے جس خوبصورتی سے اس کٹھن علمی کام کو سرانجام دیا، اس کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

• سلیس اور عام فہم زبان: شاہ ولی اللہ کی اصل عربی عبارت انتہائی دقیق، فلسفیانہ اور گہری ہے۔ مولانا عبدالرحیم نے دقیق علمی اصطلاحات کو برقرار رکھتے ہوئے بھی اتنی عام فہم اور سلیس اردو استعمال کی ہے کہ ایک عام قاری بھی کتاب کے مغز کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔

• بامحاورہ اور شائستہ اسلوب: یہ ترجمہ لفظی ہونے کے بجائے اصطلاحی اور بامحاورہ ہے۔ انہوں نے عربی جملوں کی روح کو اردو قالب میں اس طرح ڈھالا ہے کہ پڑھتے ہوئے ترجمہ ہونے کا گمان نہیں ہوتا بلکہ ایک طبع زاد (اصل) اردو کتاب کا لطف آتا ہے۔

• اصل متن کی روح کا تحفظ: ترجمہ کرتے وقت سب سے بڑا چیلنج مصنف کے اصل مدعا کو جوں کا توں منتقل کرنا ہوتا ہے۔ مولانا عبدالرحیم نے اپنی علمی بصیرت اور عربی زبان پر مکمل دسترس کی بدولت شاہ ولی اللہ کے فلسفیانہ نظریات اور گہرے مقاصد کو بغیر کسی تبدیلی یا کجی کے دیانت داری کے ساتھ منتقل کیا ہے۔

• علمی و تحقیقی حواشی (فٹ نوٹس): جہاں کہیں اصل متن میں کوئی ایسی فلسفیانہ بحث یا مشکل علمی نکتہ آیا جہاں قاری کے الجھنے کا اندیشہ تھا، وہاں مولانا نے مختصر مگر جامع حواشی اور تشریحات کا اضافہ کیا ہے تاکہ بات پوری طرح واضح ہو جائے۔

• روانی اور تسلسل: کتاب کے حصوں اور ابواب کے ترجمے میں ایک خاص فکری تسلسل اور روانی پائی جاتی ہے۔ قاری ایک نکتہ پڑھ کر قدرتی طور پر اگلے نکتے کی طرف راغب ہوتا چلا جاتا ہے، جو مترجم کی اعلیٰ ادبی گرفت کا ثبوت ہے۔

 

مولانا زاہدالراشدی

بعض دوستوں کے تقاضے پر امام شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ کی تصنیف ’’حجة اللہ البالغہ‘‘ کے مقدمہ کو اردو زبان میں قدرے تسہیل کے ساتھ پیش کرنے کی سعادت کی ہے جبکہ ’’باب الاتفاقات‘‘ کو بھی اسی انداز میں پیش کرنے کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس کی تمہیدی گزارشات قارئین کی نذر کی جا رہی ہیں۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ بارہویں صدی کے ان عظیم علماء امت میں سے تھے جنہوں نے دین کے مختلف شعبوں میں اجتہاد و تجدید کا کام سنبھالا اور اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے وہ اس کٹھن گھاٹی سے اس طرح کامیابی سے گزرے کہ ان کے علوم و فیوض اور سعی و کاوش سے اب تک مسلسل استفادہ کیا جا رہا ہے۔بلکہ دینی علوم کے فروغ اور ترویج میں ان کے ذوق و اسلوب کی ضرورت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید اجاگر ہوتی جا رہی ہے۔وہ ایک بڑے محدث، مفسر ، مجاہد ،متکلم اور صوفی تھے۔انہوں نے ان تمام دائروں میں تجدید و اجتہاد کے نقوش قائم کیے ہیں جن سے رہتی دنیا تک ارباب علم و دانش راہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔ آج کے دور میں شاہ ولی اللہ کے علوم و فیوض ، فلسفہ و فکر اور ذوق اسلوب کی ضرورت و اہمیت کا جس سطح پر احساس و اظہار کیا جا رہا ہے، اس کا اندازہ ان دو شہادتوں سے کیا جا سکتا ہے جن کا راقم الحروف خود راوی ہے۔

شکاگو یونیورسٹی امریکہ میں ایک نو مسلم خاتون ڈاکٹر ایم۔کے ہرمینسن شعبہ علوم اسلامیہ میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔فلسفہ میں سان ڈیاگو یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے قرآن کریم سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا اور دینی علوم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ انہوں نے شاہ ولی اللہؒ کو اپنے مطالعہ و تحقیق کا خصوصی عنوان بنایا اور اسی حوالہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ شاہ ولی اللہ کی معرکة الارا کتاب ’’ حجة اللہ البالغہ‘‘ کا انہوں نے انگلش میں ترجمہ کیا اور اب شکاگو یونیورسٹی میں اسلامی علوم کی اپنے ذوق کے مطابق خدمت میں مصروف ہیں۔ ان کے شوہر پروفیسر محمد علوی پاکستانی ہیں، وہ ان کے ساتھ ۱۹۸۹ء میں پاکستان تشریف لائیں تو گوجرانوالہ بھی آئیں۔ جس کی وجہ انہوں نے خود یہ بیان کی کہ حضرت شاہ ولی اللہ کے علوم و فلسفہ پر اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ مرتب کرتے ہوئے انہیں جامعہ نصرة العلوم کے بانی حضرت صوفی عبد الحمید سواتی ؒ کی تصنیفات سے استفادہ کا موقع ملا ہے۔ حضرت صوفی صاحبؒ راقم الحروف کے چچا محترم اور شاہ ولی اللہ ؒ کے فلسفہ و حکمت کے متخصصین میں سے تھے۔ انہوں نے جامعہ نصرة العلوم کے دورہ حدیث کے نصاب میں ’’حجة اللہ البالغہ‘‘ کو باضابطہ طور پر شامل کیا جو وہ خود پڑھاتے تھے۔ اور ان کی وفات کے بعد سے اس کے کچھ ابواب دورہ حدیث کے طلباء کو پڑھانے کی سعادت مجھے حاصل ہو رہی ہے، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔

ڈاکٹر صاحبہ محترمہ نے کہا کہ وہ صوفی صاحب سے ملاقات اور ان سے کچھ مسائل پر گفتگو کے ارادہ سے آئی ہیں جو ان کے شوہر پروفیسر محمد علوی ، پروفیسر عبداللہ جمال مرحوم ، اور راقم الحروف کے ہمراہ جامعہ نصرة العلوم میں ہوئی۔ ڈاکٹر ایم۔ کے ہرمیسن نے دوسری وجہ یہ بیان کی کہ انہوں نے سنا ہے کہ گوجرانوالہ میں ایک ادارہ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے نام سے قائم ہوا ہے، وہ اسے دیکھنے آئی ہیں۔ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی قائم کرنے والوں میں راقم الحروف بھی شامل تھا۔ لیکن اس وقت وہ اس مرحلہ میں تھا کہ زمین خریدی جا چکی تھی، تعمیراتی کام ابتدائی مراحل میں تھا اور تعلیمی پروگرام کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی۔اب یہ ادارہ جامعة الرشید کراچی کے زیر انتظام ’’جامعہ شاہ ولی اللہ‘‘ کے نام سے کام کر رہا ہے جس میں دینی و عصری دونوں علوم کی تعلیم دی جاتی ہے اور راقم الحروف بھی اس کے مشاورتی نظام کا حصہ ہے۔

اس موقع پر میں نے ’’ماہنامہ الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ کے لئے محترمہ کا انٹرویو لیا جس میں انہوں نے اپنے قبول اسلام اور تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں کی تفصیلات بیان کیں۔اور اپنے اس تاثر کا اظہار کیا کہ مغربی دنیا میں اسلام کا پیغام و دعوت کے لیے شاہ ولی اللہ کا اسلوب اور ان کی زبان سب سے زیادہ مؤثر ہے۔اگر آپ ان کے لہجے میں حکمت اور لاجک کے ساتھ مغرب کو اسلام سمجھائیں گے تو اس کی سمجھ میں جلدی آئے گا اور یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

دوسری شہادت برطانیہ کے ایک نومسلم دانش ور ڈاکٹر یحیٰ برٹ کی پیش کرنا چاہوں گا جو بی بی سی کے سابق ڈائریکٹر جنرل جان برٹ کے فرزند ہیں۔ قبول اسلام کے بعد انہوں نے بھی اسلامی علوم کے مطالعہ و تحقیق کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے اسی حوالہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے سرفراز ہوئے۔ان کے اعزاز میں ایک موقع پر لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے ایک استقبالیہ دیا گیا جس کی صدارت راقم الحروف نے کی۔ اس نشست میں اپنے خطاب کے دوران انہوں نے بھی یہ بات زور دے کر کہی کہ مغرب کو اسلام کے حوالہ سے دعوت دیتے ہوئے حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کا اسلوب اختیار کرنا ہوگا اور مغرب انہی کی زبان میں اسلام کو صحیح طریقے سے سمجھ پائے گا۔ یحیٰ برٹ کا کہنا تھا کہ حکمت و دانش اور لاجک کے ساتھ روحانیات وجدانیات کا متوازن امتزاج حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا امتیاز ہے اور آج مغرب کو اسی کی ضرورت ہے، جس کی طرف علماء اسلام کو بالخصوص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کے علم و فضل اور سعی و کاوش کے بہت سے دائرے ہیں جو اس وقت ہمارے موضوع میں شامل نہیں ہیں لیکن علمی دنیا میں ان کی سعی مشکور کو سب سے زیادہ اہمیت اس حوالہ سے دی جاتی ہے کہ انہوں نے اسلامی عقائد، احکام، قوانین اور روایات کی حکیمانہ تشریح کی۔اور انسانی معاشرہ اور سماج کو موضوع بنا کر سماج کے نفع و نقصان اور سوسائٹی کے خیر و شر کی بنیادوں اور تقاضوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں واضح کیا۔ کہا جاتا ہے کہ سماجیات (سوشیالوجی) کو باقاعدہ موضوع بنا کر ابن خلدون نے اپنے دور میں بات کی تھی، ان کے بعد اس سلسلے میں امام غزالیؒ، شیخ الاسلام عز الدین بن عبد السلامؒ، امام خطابی ؒ اور دیگر حضرات کا نام لیا جاتا ہے۔ مگر اسے باقاعدہ ایک فن کی حیثیت سے حضرت شاہ ولی اللہ ؒنے مدون کیا اور ان کی تصنیف ’’حجة اللہ البالغہ‘‘ اسی حوالے سے ایک شاہکار کتاب تصور کی جاتی ہے۔

انہوں نے حجة اللہ البالغہ میں ’’علم اسرار دین‘‘ (دینی عقائد و احکام کی حکمتوں اور فلاسفی کا علم) کو اپنی ان کاوشوں کا نام دیا ہے اور کتاب کے مقدمہ میں اس کے تعارف کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت و ضرورت اور افادیت کی وضاحت فرمائی ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں مزید کوئی بات کہنے کے بجائے اس مقدمہ کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا جائے، جو ہوگا تو خلاصہ ہی مگر ہماری زبان میں ہوگا اور اس میں کہیں کہیں ہم ضرورت کے مطابق اپنی توضیحی گزارشات بھی الگ عنوان کے ساتھ ذکر کریں گے۔

بشکریہ: https://zahidrashdi.org/550

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔