حجۃ اللہ البالغہ - حصہ اول
مصنف:حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلوی
مترجم:مولانا عبد الرحیم
سابق پروفیسر عربی و پشتو و ناظم مکتبہٴ علوم شرقیہ، اسلامیہ کالج پشاور
پیشکش : طوبیٰ ریسرچ لائبریری
Hujjat Allah al-Baligha - Hissa Awal
Author:Hazrat Imam Shah Waliullah Dehlavi
Translator:Maulana Abdul Rahim
#TOOBAA_POST_997
اسلامی ادب، فلسفہ، اور اسرارِ شریعت کی تاریخ میں چند کتابیں ایسی ہیں جنہیں 'عہد ساز' کہا جا سکتا ہے، اور برصغیر پاک و ہند کے عظیم مصلح، محدث اور مفکرِ اسلام حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی شاہکار تصنیف 'حجۃ اللہ البالغہ' بلاشبہ ان میں سرِفہرست ہے۔ یہ کتاب محض روایتی مسائل کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ دینِ اسلام کے احکامات، عبادات، اخلاقیات اور سماجی قوانین کے پیچھے چھپی الٰہی حکمتوں اور مصلحتوں کو عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ ثابت کرنے کی ایک بے مثال علمی کوشش ہے۔ امام شاہ ولی اللہ نے ایک ایسے دور میں اس کتاب کی بنیاد رکھی جب مسلم معاشرہ فکری جمود اور زوال کا شکار تھا، اور انہوں نے اس تصنیف کے ذریعے امت کو دوبارہ فکری بیداری اور اجتہاد کی دعوت دی۔
اصل کتاب عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے ایک عام قاری کے لیے اس کے گہرے فلسفیانہ اور علمی مباحث کو سمجھنا ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسلامیہ کالج پشاور کے سابق پروفیسرِ عربی و پشتو اور ناظم مکتبۂ علومِ شرقیہ، مولانا عبدالرحیم مرحوم نے اس کا نہایت سلیس، بامحاورہ اور عام فہم اردو ترجمہ پیش کر کے اردو داں طبقے پر ایک عظیم احسان کیا۔ ان کا یہ ترجمہ کتاب کے اصل روح اور فلسفے کو برقرار رکھتے ہوئے قاری کو علم کے ان موتیوں تک رسائی دیتا ہے جو شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے صدیوں پہلے قلمبند کیے تھے۔ یہ کتاب علمِ اسرارِ دین، حکمتِ شریعت، اور فلسفۂ اسلام کااحاطہ کرتی ہے۔ اس میں اسلامی احکام، عبادات، معاملات اور اخلاقیات کی عقلی و حِکمی بنیادوں کو واضح کیا گیا ہے۔
شریعت الٰہی کے اسرار و رموز پر مبنی شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی معرکہ آرا تصنیف "حجۃ اللہ البالغہ" کا ترجمہ کرنا کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ مولانا عبدالرحیم مرحوم نے جس خوبصورتی سے اس کٹھن علمی کام کو سرانجام دیا، اس کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
شریعت الٰہی کے اسرار و رموز پر مبنی شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی معرکہ آرا تصنیف "حجۃ اللہ البالغہ" کا ترجمہ کرنا کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ مولانا عبدالرحیم مرحوم نے جس خوبصورتی سے اس کٹھن علمی کام کو سرانجام دیا، اس کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
• سلیس اور عام فہم زبان: شاہ ولی اللہ کی اصل عربی عبارت انتہائی دقیق، فلسفیانہ اور گہری ہے۔ مولانا عبدالرحیم نے دقیق علمی اصطلاحات کو برقرار رکھتے ہوئے بھی اتنی عام فہم اور سلیس اردو استعمال کی ہے کہ ایک عام قاری بھی کتاب کے مغز کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔
• بامحاورہ اور شائستہ اسلوب: یہ ترجمہ لفظی ہونے کے بجائے اصطلاحی اور بامحاورہ ہے۔ انہوں نے عربی جملوں کی روح کو اردو قالب میں اس طرح ڈھالا ہے کہ پڑھتے ہوئے ترجمہ ہونے کا گمان نہیں ہوتا بلکہ ایک طبع زاد (اصل) اردو کتاب کا لطف آتا ہے۔
• اصل متن کی روح کا تحفظ: ترجمہ کرتے وقت سب سے بڑا چیلنج مصنف کے اصل مدعا کو جوں کا توں منتقل کرنا ہوتا ہے۔ مولانا عبدالرحیم نے اپنی علمی بصیرت اور عربی زبان پر مکمل دسترس کی بدولت شاہ ولی اللہ کے فلسفیانہ نظریات اور گہرے مقاصد کو بغیر کسی تبدیلی یا کجی کے دیانت داری کے ساتھ منتقل کیا ہے۔
• علمی و تحقیقی حواشی (فٹ نوٹس): جہاں کہیں اصل متن میں کوئی ایسی فلسفیانہ بحث یا مشکل علمی نکتہ آیا جہاں قاری کے الجھنے کا اندیشہ تھا، وہاں مولانا نے مختصر مگر جامع حواشی اور تشریحات کا اضافہ کیا ہے تاکہ بات پوری طرح واضح ہو جائے۔
• روانی اور تسلسل: کتاب کے حصوں اور ابواب کے ترجمے میں ایک خاص فکری تسلسل اور روانی پائی جاتی ہے۔ قاری ایک نکتہ پڑھ کر قدرتی طور پر اگلے نکتے کی طرف راغب ہوتا چلا جاتا ہے، جو مترجم کی اعلیٰ ادبی گرفت کا ثبوت ہے۔
آئیے اس اردو ترجمہ کے ذریعہ اس عظیم خزانہ سے مستفید ہوں۔
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔