Thursday, 30 January 2014

تذکرۃ الظفر - سوانح : استاذ المحدثین حضرت مولانا مفتی ظفر احمد عثمانیؒ

تذکرۃ الظفر
سوانح : استاذ المحدثین حضرت مولانا مفتی ظفر احمد عثمانیؒ
تالیف : مفتی عبدالشکور ترمذیؒ
پیشکش : طوبیٰ ریسرچ لائبریری
معاون ِ خصوصی : مفتی امداداللہ یوسف زئی صاحب
Tazkira tu Zafar
Swaneh : Mufti Zafar Ahmed Usmani rh.A
Written by : Mufti Abd u Shakoor rh.A

https://muftitaqiusmani.com/ur/%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA-%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7-%D8%B8%D9%81%D8%B1-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%B9%D8%AB%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%92/
مزید کتب کے لئیے دیکھیئے صفحہ " اکابر ِ دیوبند ر ۔ح
مکمل تحریر اور تبصرے>>

Monday, 13 January 2014

کتاب الآثار- امام محمد - اردو

کِتابُ الآثار
بروایت : امام محمد ابن ِ حسن شیبانیؒ
مترجم : مولانا ابوالفتح محمد صغیرالدین
مقدمہ : علامہ محقق العصر شیخ الحدیث مولانا محمد عبدالرشید نعمانیؒ
پیشکش : طوبیٰ ریسرچ لائبریری
معاون ِ خاص : مولانا محمد ادریس ، خطیب حمزہ مسجد اسلام آباد
Kitab ul Aassaar
 Narrated by : Imam Muhammad bin Hassan Shaybani rh.a
Muqadma : Allama Abd u Rasheed Noumani rh.a
Translated urdu : Muolana Abul Fatah Sagheer u Deen.
نئی بہتر فائل DOWNLOAD : new better file ,

٭الآثار الإمام محمد بن الحسن الشيباني دار النوادر

    ٭منهج الإمام محمد بن الحسن الشيباني في "كتاب الآثار 

٭مخطوطة كتاب الآثار۔محمد بن الحسن بن فرقد ( الشيباني )

٭الفقهاء :الإمام محمد بن الحسن الشيباني

٭مناقشة رسالةماجستير بعنوان(المنهج الفقهي للإمام محمد بن الحسن الشيباني ت 189هـ من خلال كتابه (كتاب الآثار)

٭کتاب الآثار

امام الائمہ، سراج الامت نعمان بن ثابت امام ابوحنیفہ کی طرف حدیث کی کئی کتابیں منسوب ہیں؛

(1)کتاب الآثار(2)مسندامام ابی حنیفہ(3)اربعینات امام ابی حنیفہ(4)وحدانیات امام ابی حنیفہ،

ان میں سے "کتاب الآثار" آپ کی تصنیف کردہ ہے؛ مگربہت سے حضرات نے اس کتاب کو ان لوگوں کی تصنیف قرار دے دیا ہے جواس کتاب کے رواۃ میں سے ہیں جوصحیح نہیں ہے؛ البتہ اس کے علاوہ باقی تینوں کتابیں آپکی تصنیف کردہ نہیں ہیں؛ بلکہ بعد کے لوگوں نے ان میں امام ابو حنیفہ کی روایت حدیث کوموضوع کے لحاظ سے جمع کیا ہے۔

جامعین کتاب الآثار

کتاب الآثار کوامام ابو حنیفہ سے مختلف تلامذہ نے مختلف دور میں روایت کیا ہے، جونسخے دنیا میں رائج ہیں وہ حسب ذیل ہیں

(1)کتاب الآثار بروایت امام محمد(2)کتاب الآثار بروایت امام ابو یوسف(3)کتاب الآثار بروایت حسن بن زیاد لؤلوی(4)کتاب الآثار بروایت حماد بن امام ابی حنیفہ(5)کتاب الآثار بروایت حفص بن غیاثؒ، یہ نسخہ زیادہ مشہور نہیں ہے(6)کتاب الآثار بروایت محمد بن خالد وہبیؒ جو "مسنداحمد بن محمد کلاعی" کے نام سے مشہور ہے(7)کتاب الآثار بروایت امام زفر جو "سنن زفر" کے نام سے بھی معروف ہے۔

اس کتاب "کتاب الآثار" کی ترتیب کتاب وار، وباب وار ہے؛ البتہ یہ ضرور ہے کہ امام ابو حنیفہ نے صرف ابواب کے عناوین تجویز فرمائے، کتب کے عناوین تجویز نہیں فرمائے؛ مگران کے سامنے کتب کی رعایت بھی تھی؛ کیونکہ ایک اصل سے متعلق ابواب آپ نے ترتیب وار ذکر کیے ہیں؛ البتہ "کتاب المناسک" کا عنوان خود آپ نے قائم فرمایا ہے، اس کے بعد پھرابواب کا ذکر کیا ہے۔ امام محمدکے نسخے میں کل 305/ابواب ہیں، اس کی ترتیب درحقیقت فن فقہ میں لکھی جانے والی کتاب کی ترتیب کے مطابق ہے؛ کیونکہ فن فقہ میں سب سے پہلے طہارت کا بیان کرتے ہیں؛ پھراس کے بعد کتاب الصلوٰۃ؛ جیسا کہ امام ابوداؤد اور امام ترمذیؒ نے اپنی کتاب کوفقہی طرز پر مرتب کیا ہے، برخلاف بخاری ومسلم وغیرہ کے انہوں نے اس کا لحاظ نہیں کیا، بس من وعن اسی فقہی انداز پر امام ابو حنیفہ کی کتاب "کتاب الآثار" مرتب کی گئی ہے۔

امتیازات

یہ ایک ایسی کتاب ہے، جس کے مصنف کوتابعیت کا شرف حاصل ہے، آج دنیا میں کوئی ایسی کتاب نہیں پائی جاتی ہے، جس کویہ ناقابل فراموش فضیلت حاصل ہو۔اسلام میں فقہ کے نہج پر جوکتاب لکھی گئی، اس میں اوّلین کاوش امام صاحبؒ ہی کی ہے،یہ کتاب اسلام کی اولین مؤلفات میں سے ہے، اس لیے کہ امام صاحب علیہ الرحمہ کا زمانہ سنہ 150ھ تک کا ہے؛اس سلسلہ میں عموماً اولیت امام مالک اور ان کی کتاب "موطا" کی بتائی جاتی ہے؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس انداز پر اولین تالیف امام صاحبؒ کی "کتاب الآثار" ہے، امام مالکؒ ودیگر حضرات جواس انداز سے کام کرنے والے ہیں، وہ ثانوی درجہ میں اس مذاق ومزاج کواپنانے والے ہیں"کتاب الآثار" کوامام اعظم ابوحنیفہ نے چالیس ہزار احادیث کے مجموعہ سے منتخب فرمایا ہے اور ان میں سے اپنی شہرۂ آفاق کتاب میں انیس ہزار احادیث کوجمع فرمایا ہے؛آپ سے امام محمدؒ نے روایت کرکے کتابی شکل میں مرتب فرمایا ہے۔

امام ابو حنیفہ کی جلالتِ قدر کے لیے اس سے زیادہ اور کیا درکار ہے کہ وہ امت میں امام اعظم کے لقب سے مشہور ہوئے اور ان کے اجتہادی مسائل پر اسلامی دنیا کی دوتہائی آبادی تقریباً چودہ سوبرس سے برابر عمل کرتی آ رہی ہے اور تمام اکابر ائمہ آپ کے فضل وکمال کے معترف ہیں، اس کتاب میں علم شریعت کوباقاعدہ ابواب پر مرتب کیا گیا ہے اور یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ فقہ حنفی کی بنیاد کتاب الآثار کی احادیث وروایات پر مبنی ہے۔

اصول و شرائط

امام ابو حنیفہ نے اپنے مقرر کردہ اصول وشروط کے پیش نظر اپنی صوابدید سے چالیس ہزار احادیث کے ذخیرہ سے اس مجموعہ کا انتخاب کرکے اپنے تلامذہ کواس کا املا کرایا ہے اور انتخاب کے بعد اس میں جومرویات لی ہیں وہ مرفوع بھی ہیں اور موقوف ومقطوع بھی، زیادہ ترحصہ غیر مرفوع کا ہے، مرویات کی مجموعی تعداد نسخوں کے اختلاف کی وجہ سے مختلف بھی ذکر کی گئی ہے، امام ابویوسفؒ کے نسخے میں ایک ہزار ستر کے قریب ہے اور امام محمدؒ کے نسخے میں صرف مرفوعات ایک سو بائیس ہیں۔

مشہور نسخے

سب سے مشہور نسخے دو ہیں، ایک امام محمدؒ کا اور دوسرا امام ابویوسفؒ کا اور یہی دونوں نسخے شائع بھی ہوئے ہیں اور ان میں بھی امام محمدؒ کا نسخہ زیادہ معروف متداول ہے اور علما نے بھی اس پر زیادہ کام کیا ہے، مثلاً امام طحاویؒ، شیخ جمال الدین قونویؒ، ابوالفضل علی بن مراد موصلیؒ اور ماضی قریب میں مفتی مہدی حسن صاحبؒ شاہجہاں پوری "سابق صدر مفتی دار العلوم دیوبند" نے "قلائدالازھار" کے نام سے اس کی نہایت ضخیم شرح لکھی ہے،مولانا عبد الباری فرنگی محلیؒ اور مولانا ابوالوفاء افغانیؒ کا کتاب الآثار پر حاشیہ بھی ہے؛ نیز شیخ عبد العزیز بن عبد الرشید اور شیخ محمدصغیرالدین نے اس کا اردو میں ترجمہ بھی کیا ہے اور شیخ عبد العزیز نے ترجمہ کے ساتھ کچھ اضافہ بھی کیا ہے اور اردو ترجمہ کے ساتھ مولانا عبد الرشید نعمانی کا کتاب الآثار کے تعارف سے متعلق ایک مبسوط مقدمہ بھی ہے، امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ کے دونوں نسخوں کے ساتھ علامہ ابوالوفا افغانی کے عربی میں مقدمے بھی ہیں، ان کے علاوہ دیگر شراح ومحشین نے بھی مقدمے لکھے ہیں، امام ابویوسف کے نسخے پر مولانا ابوالوفاء کی تعلیقات بھی ہیں اور حافظ ابن حجر عسقلانی اور ان کے شاگردِ رشید قاسم بن قطلوبغا حنفی، دونوں حضرات نے کتاب الآثار لمحمد کے رجال پر "الایثار بمعرفۃ رجال کتاب الآثار" کے نام سے کتابیں لکھی ہیں، کتاب الآثار کے متعدد نسخے یا ان کے کافی اجزاء "مسانید امام اعظم" کے مجموعے "جامع المسانید" میں بھی شامل ہیں، مثلاً امام ابویوسف کے نسخے کی مرفوع روایات اور امام زفر وحفص بن غیاث کے علاوہ دیگر حضرات کے نسخے بھی اس میں شامل کر دیے گئے ہیں۔

مزید تفصیل کے لئے دیکھئے قلائد الازھار، ابوحنیفہ واصحابہ المحدثون، علوم الحدیث۔

محمد عمر فاروق

مدیر دار الشیبانی للافتاء والتحقیق

پہاڑپور ضلع ڈیرہ اسماعیل خان پاکستان 

٭

*کتاب الآثار کے مصنف اور مشہور نسخوں میں سے ایک نسخہ کا تعارف*

کتاب الآثار امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث پر وہ کتاب ھے جو آپ نے اپنے تلامذہ کو املاء کروائی تھی اور اس کتاب کا انتخاب چالیس ھزار احادیث مبارکہ سے کیا ہے

اس کتاب کے مشہور نسخوں میں درج ذیل پانچ نسخوں کا ذکر ملتا ھے

*نسخہ امام زفر بن ھذیل*

*نسخہ امام ابو یوسف*

*نسخہ امام حسن بن زیاد*

*نسخہ امام حماد بن ابی حنیفہ*

*نسخہ امام محمد بن حسن الشیبانی*

ان پانچ نسخوں میں سے ہم تک جو باسند طریقے سے طبع ھو کر نسخے پہنچے وہ دو ہیں

*امام ابویوسف اور امام محمد کے طریق سے*

اس پوسٹ میں ہم *امام محمد بن حسن الشیبانی کے نسخے کا تذکرہ کریں گے کیونکہ ہمارے ہاں یہی متداول اور مشہور نسخہ عام دستیاب ھے

*کتاب الآثار بروایت امام محمد کے مصنف کا مختصر تذکرہ*

ولادت 132 ھجری میں ھوئی

آپ کا نام محمد بن حسن ھے

علاقہ واسط میں پیدا ھوئے

اور علاقہ رقہ میں قاضی رھے اپنے دور میں

*آپ کے شیوخ حدیث*

آپ کے شیوخ حدیث میں کثیر افراد ہیں جن میں سے چند مشہور کا تذکرہ ہم یہاں کرتے ہیں

امام الائمہ فی الحدیث امام ابوحنیفہ

امام دار الہجرت امام مالک

امام المحدثین سفیان بن عیینہ

امام ابن جریج

سعید بن ابی عروبہ

مجتہد شام حافظ الحدیث امام اوزاعی

امام المحدثین عبد اللہ بن المبارک

امام فن الرجال سند المحدثین امام شعبہ بن الحجاج

اور اسکے علاوہ کثیر تعداد ھے جن سے آپ نے اخذ علم الحدیث کیا

*آپ کے تلامذہ یعنی شاگرد*

امام محمد بن حسن الشیبانی سے کثیر خلق نے استفادہ و افاضہ حدیث کیا ھے چند مشہور زمانہ آپ کے تلامذہ کے اسماء درج ذیل ہیں

امام محمد بن ادریس الشافعی

امام المحدثین و حجۃ المحدثین امام احمد بن حنبل

امام اسد بن فرات

بانی اسماء الرجال امام اول فن اسماء الرجال امام یحی بن معین

امام احمد بن حفص الکبیر البخاری

امام اہل بلخ و مفتی بلخ امام خلف بن ایوب

ریحانۃ العلم الحدیث امام محمد بن سماعہ

*امام محمد بن حسن الشیبانی کا مقام محدثین کے ہاں*

امام محمد بن حسن کا محدثین کے ہاں مقام جاننے کے لیے اتنا جاننا ہی کافی ھے کہ ائمہ اربعہ میں سے دو مشہور امام سیدنا امام الشافعی و امام احمد بن حنبل کا شمار آپ کے تلامذہ میں ھوتا ھے اور مشہور ناقد و امام اسماء الرجال حفاظ الحدیث شمس الدین الذہبی جیسی ھستی نے آپ کے مناقب پر مکمل کتاب لکھی ھے جس کا نام ھے *مناقب ابی حنیفہ و صاحبیہ*

*کتاب الآثار بروایت امام محمد کا تعارف*

یہ کتاب دراصل امام ابوحنیفہ کی تصنیف ھے اور اسکے کئی نسخے ہیں جن کو آپکے۔متعدد تلامذہ نے آپ سے روایت کیا ھے ان نسخوں میں سے سب سے زیادہ مشہور نسخہ امام محمد کا روایت کردہ ھے

واضح رھے کہ کتاب الآثار کے اس نسخہ کو امام محمد سے روایت کرنے والے کئی حضرات ہیں جن میں سے زیادہ مشہور درج ذیل تین تلامذہ ہیں

*امام ابو سلیمان جوزجانی*

*امام ابوحفص الکبیر*

*امام اسماعیل بن توبہ القزوینی*

*شاگرد اول ابو سلیمان جوزجانی کی دو اسناد*

پھر ان تینوں میں سے پہلے امام ابو سلیمان جوزجانی کا روایت کردہ نسخہ متعدد محدثین کی مرویات میں سے ھے *جن میں سے ایک امام محمد بن محمود الخوارزمی ہیں* امام خوارزمی نے اس نسخہ کو تین سندوں سے روایت کیا ھے جن میں سے صرف ایک سند یہاں نقل کر رھے ہیں

*یوسف بن عبد الرحمن بن علی بن جوزی وہ عبد المنعم بن عبد الوہاب سے وہ احمد بن عبد الجبار سے وہ علی بن محسن تنوخی سے وہ ابراہیم بن احمد الطبری سے وہ محمد بن احمد الرازی سے وہ ابو عامر عمر بن تمیم سے وہ ابوسلیمان جوزجانی سے اور وہ امام محمد بن حسن سے روایت کرتے ہیں (اس کتاب الآثار کے پورے نسخہ کو)

اسی طرح یہ نسخہ *مسند الشام حافظ الحدیث امام محمد بن یوسف الصالحی کی مرویات سے بھی ھے* اور ان کا امام محمد تک سلسلہ سند درج ذیل ھے

قاضی عمر بن حسن نووی وہ حافظ ابن حجر عسقلانی سے وہ تقی الدین عبد اللہ بن محمد سے وہ احمد بن ابوطالب سے وہ محمد بن محمد بن عمر سے وہ محمد بن عبد الباقی سے وک ابوالفضل بن خیرون سے وہ حسین بن علی الصیمری سے وہ ابراہیم بن احمد سے وہ محمد بن احمد سے وہ ابو عامر بن تمیم سے وہ ابو سلیمان جوزجانی سے اور وہ امام محمد بن حسن سے اس نسخہ کو کامل طور پر روایت کرتے ہیں

*دوسرے شاگرد امام ابو حفص الکبیر کی روایت سے ایک سند*

ان کی سند سے بھی کتاب الآثار کو کثیر محدثین سے سماع کیا اور اسکو اپنی اسناد سے آگے نقل کیا ہم یہاں صرف ایک سند کا ذکر کرتے ہیں جو شیخ الاسلام حافظ الحدیث امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی سند ھے اور ابن حجر عسقلانی باوجود شافعی المذہب ھونے کے اس کتاب کو اپنی سند سے نقل کرتے ہیں

حافظ ابن حجر عسقلانی کی سند یہ ھے

ابو عبد اللہ حریری سے وہ قوام الدین اتقانی سے وہ احمد بن اسعد بخاری سے وہ حسین بن علی سغناقی سے وہ محمد بن نصر بخاری سے وہ محمد بن عبد الستار کردری سے وہ عمر بن عبد الکریم سے وہ عبدالرحمن بن محمد سے وہ نجم الدین حسین سے وہ ابو زید الدبوسی سے وہ ابوحفص استروشی سے وہ حسین بن محمد سے وہ امام عبد اللہ الحارثی سے وہ ابو عبد اللہ بن ابوحفص سے وہ اپنے والد ابو حفص سے وہ امام محمد سے اور وہ امام ابوحنیفہ سے کتاب الآثار کو نقل کرتے ہیں

یہ سب کچھ اس بات کی بین و واضح دلیل ھے کہ محدثین کا اس کتاب کے ساتھ خصوصی اعتناء و لگاؤ رہا ھے اور وہ اسکو اپنی اپنی اسناد سے نقل کرتے رھے اور اس سے استفادہ کرتے رھے

*کتاب الآثار پر محدثین کرام کا کام*

اس کتاب پر محدثین نے مفصل شروحات و تراجم و تخریجات اور صرف اسکے رواۃ پر مستقل کتب تحریر کی ہیں ہم چند ایک کا ذکر کر رھے ہیں

حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس کے روات پر مستقل کتاب لکھی جس کا نام ھے *الایثار بمعرفۃ رواۃ الآثار*

اسی طرح حافظ عسقلانی کے شاگرد عظیم حنفی محدث قاسم بن قطلوبغا نے بھی اس کے رواۃ پر ایک کتاب لکھی ھے

اس کتاب کی ایک شرح حافظ الحدیث مجتہد منتسب سرخیل احناف امام ابو جعفر الطحاوی نے لکھی ھے جو امام ابو سعد المسعانی جیسے محدث کہ مرویات سے ھے

*محدثین کا کتاب الآثار کی روایات سے کثرت سے دلیل پکڑنا*

اس کتاب کی عظمت و افادیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ھے کہ امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں ایک معلق یعنی بلاسند روایت نقل کی تو ابن حجر عسقلانی نے اسکی سند کو کتاب الآثار کے حوالے سے نقل کیا وہ لکھتے ہیں

*وصلہ محمد بن الحسن فی کتاب الآثار عن ابی حنیفہ عن حماد عنہ بلفظ*

یعنی اس حدیث کو امام محمد بن حسن نے اپنی سند سے نقل کیا ھے (فتح الباری ج12 ص402)

اسی طرح ایک اور حدیث کی تحقیق میں رقم طراز ہیں کہ

*واخرج محمد بن الحسن فی الآثار عن ابی حنفیہ بسند لہ عن ابن عباس نحو ذلک*

یعنی امام محمد بن حسن نے کتاب الآثار میں بسند ابی حنیفہ ابن عباس سے اسی طرح نقل کیا ھے (فتح الباری ج9ص811)

اسی طرح ابن حجر عسقلانی نے الہدایہ کی احادیث کی تخریج کی جس کا نام ھے *الدرایہ لتخریج احادیث الہدایہ* اس میں تقریبا پچاس سے زائد مقامات پر اسی کتاب الآثار سے حدیث کی تخریج کی ھے اور بہت سارے مقامات پر اسنادہ صحیح کہا ھے

اسی طرح حافظ الحدیث جمال الدین زیلعی نے بھی *نصب الرایہ* میں تقریبا ایک سو سے زائد مقامات پر اسی کتاب الآثار کی احادیث سے تخریج فرمائی ھے

جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ھے کہ کتاب الآثار عند المحدثین و محققین و مخرجین و شارحین معتبر و مستند کتاب ھے اور وہ باقاعدہ اسکو سماعت کرتے رھے اور دلیل کے طور پر اسکو اپنی اسناد سے آگے نقل کرتے رھے اور اسکی روایات کو دلیل بناتے رھے

٭کتاب الآثار للشیبانی میں مرسل روایات ۔ تجزیاتی مطالعہ‘‘، (مقالہ برائے ایم فل علوم اسلامیہ، گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ، سیشن ۱۴۔۲۰۱۲ء)

مرسل روایات کی قبولیت یا عدم قبولیت فقہا۶ ومحدثین کے مابین ایک معروف اختلافی بحث ہے۔ فقہائے احناف اور مالکیہ اس حوالے سے بہت توسع رکھتے ہیں اور ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مراسیل کو ترک کر دینے سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے ایک بہت بڑے حصے کو نظر انداز کر دینا لازم آتا ہے۔

اصولی بحث سے قطع نظر، اس ضمن میں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ ائمہ احناف نے جن مرسل روایات پر اپنے فقہی موقف کی بنیاد رکھی، وہ محدثین کے مقرر کردہ معیار کی روشنی میں بھی بحیثیت مجموعی قابل استناد ہیں۔ امام مالک نے جن مراسیل سے استدلال کیا ہے، ان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے اور موطا پر محدثین نے ہمہ جہت تحقیقی کام کر کے اس پہلو کو بہت واضح کر دیا ہے۔ البتہ ائمہ احناف کے مستدلات پر اس نوعیت کا زیادہ کام دیکھنے کو نہیں ملتا۔

بہرحال، گفٹ یونیورسٹی میں ہمارے ایک عزیز اور لائق دوست محمد عثمان لیاقت نے میری نگرانی میں کچھ عرصہ قبل امام محمد بن الحسن الشیبانی کی کتاب الآثار میں منقول مراسیل پر اپنی تحقیق مکمل کی ہے جس پر انھیں ایم فل کی ڈگری ایوارڈ کی گئی ہے۔ محقق نے کتاب الآثار میں مروی جملہ مراسیل کا مختلف پہلووں سے جائزہ لینے کے بعد حسب ذیل نتائج تحقیق پیش کیے ہیں:

کتاب الآثار میں کل اکیاون مراسیل نقل کی گئی ہیں جو پچیس تابعین سے منقول ہیں اور ان میں سب سے زیادہ روایات امام ابراہیم نخعی کی روایت کردہ ہیں جن کی تعداد سترہ ہے۔

پچیس تابعین میں سے چھ کبار تابعین ہیں جن سے مروی مراسیل کی تعداد دس ہے۔ متوسط تابعین کی تعداد سات اور ان سے مروی مراسیل کی تعداد دس ہے، جبکہ صغار تابعین کی تعداد بارہ اور ان سے مروی مراسیل کی تعداد اکتیس ہے۔

ان پچیس میں سے صرف دو یعنی حکم بن زیاد اور عبد الکریم بن ابی المخارق پر ائمہ جرح وتعدیل نے جرح کی ہے، جبکہ باقی سب راوی ثقہ اور قابل اعتماد ہیں۔

اکیاون مراسیل میں سے پانچ کے علاوہ، باقی سب کے شواہد اور مویدات ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں۔ یوں یہ روایات ان محدثین کے اصول کے مطابق بھی قابل استدلال ہیں جو اصولاً مرسل کو قبول نہیں کرتے۔

جن پانچ مراسیل کے شواہد بظاہر میسر نہیں، ان میں سے صرف ایک روایت کے راوی عبد الکریم بن ابی المخارق ضعیف ہیں، جبکہ باقی چاروں راوی علی بن الاقمر، علی بن حسین بن زین العابدین، محمد بن سوقہ اور ابراہیم نخعی جلیل القدر اور ثقہ تابعین ہیں۔

(تفصیل کے لیے دیکھیے: محمد عثمان لیاقت، ’’کتاب الآثار للشیبانی میں مرسل روایات ۔ تجزیاتی مطالعہ‘‘، مقالہ برائے ایم فل علوم اسلامیہ، گفٹ یونیورسٹی گوجر نوالہ، سیشن ۱۴۔۲۰۱۲ء)(عمار خان ناصر)

          ٭امام محمد بن حسن فرقد شیبانیؒ :ڈاکٹر زیبا افتخار  

بلاشبہ اُمّتِ مسلمہ اپنی شان دار اور حقیقی علمی میراث پر فخر کی سب سے زیادہ حق دار ہے کہ اِس علمی سرمائے کی بنیاد قانون سازی کے اوّلین مصادر، قرآن و سنّت پر قائم ہے، جسے مستند ترین ذریعہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اِس پر مستزاد وہ مسلمان علماء و فقہاء ہیں، جنھوں نے فاصلوں اور زبانوں کے اختلاف کے باوجود آنے والی نسلوں کے لیے ایک عظیم علمی خزانہ چھوڑا۔ان فقہائے کرام میں امام محمّد بن حسن شیبانیؒ وہ پہلے شخص ہیں، جنھوں نے نہ صرف فقہِ اسلامی کو علمی انداز میں مدوّن کیا، بلکہ اس پر کثیر سرمایا بھی چھوڑا۔ امام محمّد کا شمار’’ صاحبین‘‘ یعنی امام ابوحنیفہؒ کے دو جلیل القدر شاگردوں میں ہوتا ہے۔ 

دوسرے شاگرد، امام ابو یوسفؒ تھے۔ امام محمّدؒ کے امتیازی مقام کی ایک وجہ اُن کی تصانیف بھی ہیں۔اُن کے اولین استاد، امام ابو حنیفہؒ کی جانب چند رسائل منسوب کیے جاتے ہیں، مگر حدیث اور فقہ پر خود امامِ اعظمؒ کی اپنی کوئی کتاب نہیں، آپؒ کی علمی کاوشوں اور تفقّہ فی الدّین کا نچوڑ اُن کے شاگردوں، بالخصوص’’ صاحبین‘‘ کی تالیفات ہی میں ملتا ہے۔ آپؒ کے شاگرد امام ابو یوسفؒ کا تحریری کارنامہ ’’ کتاب الخراج‘‘ اور’’الرد علیٰ سیرالاوزاعی‘‘ وغیرہ جیسی کُتب ہیں، مگر اُن کا تصنیفی کام بہرحال کم ہی ہے۔ اس کے برعکس، امام محمّدؒ کی تالیفات کثیر ہونے کے ساتھ، فقہ اور قانون کے تقریباً تمام پہلوئوں کی جامع ہیں۔

آپؒ کا پورا نام، محمّد بن حسن فرقد شیبانی تھا، جب کہ ابو عبد اللہ کنیت تھی۔آپ ؒبنو شیبان کے مولیٰ تھے، اسی نسبت سے شیبانی کہلائے۔ والد، جو شام کی فوج میں ملازم تھے،131 ہجری میں لشکر کے ساتھ عراق کے شہر، واسط آئے، جہاں امام محمّدؒ کی پیدائش ہوئی۔ حسن بن فرقد کا شمار صاحبِ حیثیت لوگوں میں ہوتا تھا اور اُنہوں نے تَرکے میں اپنی اولاد کے لیے زرِ کثیر چھوڑا، یہی دولت امام محمّدؒ کے لیے کاروبارِ زندگی سے فراغت اور حصولِ علم میں معاون ثابت ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ آپؒ طاقت وَر، طویل القامت، سڈول جسم کے مالک اور بہت وجیہہ تھے۔ آپؒ کی پرورش کوفہ میں ہوئی، وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔

قرآنِ پاک کا کچھ حصّہ حفظ کیا اور بہت سی احادیثِ نبویہ ؐ بھی یاد کیں۔یہ وہ دَور تھا، جب کوفہ علم کا مرکز تھا۔ علماء کی کثرت کی وجہ سے اس شہر کی شہرت عروج پر تھی۔ شاید اسی لیے امام ابو حنیفہؒ نے اسے ’’مدینۃ العلم‘‘ یعنی’’ علم کا شہر‘‘ قرار دیا تھا۔ جہاں ایک طرف مساجد حدیث، فقہ اور دیگر علوم کے حلقۂ ہائے دروس سے گونجتی رہتیں، تو دوسری طرف، یہ عربی روایات اور بیرونی ثقافتوں کا اِک عجیب سنگم بھی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کوفہ ان مجموعۂ اضداد کی بنا پر علمی اور فکری تنازعات کا مرکز بھی بن گیا تھا۔ امام محمّد کو جلد ہی امام ابو حنیفہؒ کے حلقۂ درس نے اپنی جانب متوجّہ کرلیا۔ 

حضرت داؤد طائیؒ کے مطابق، امام ابو حنیفہ نے اُسی وقت اُن کے متعلق فرمایا تھا’’اگر یہ زندہ رہا، تو بڑا مرتبہ اور مقام حاصل کرے گا۔‘‘ آپؒ، امام ابو حنیفہؒ کے حلقۂ درس میں بیٹھنے آئے، تو تقریباً 14 برس کے تھے۔ امامِ اعظمؒ نے حفظ القرآن کا امتحان لیا، تو اُنھیں مکمل حافظ نہ پایا، اس پر اُنھیں نصیحت کی کہ جب تک قرآنِ پاک حفظ نہ ہو جائے، درس میں شریک نہ ہوں۔ چناں چہ وہ سات دن درس میں حاضر نہ ہوئے، بعد ازاں اپنے والد کے ساتھ آئے اور کہا ’’مَیں نے قرآنِ پاک حفظ کر لیا ہے۔‘‘ اس سے اُن کے حافظے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کا تعلیم دینے کا طریقہ ایک ایسے اسلوب اور نہج پر مشتمل تھا، جو تحقیق، غور و فکر اور مناظرانہ صلاحیتوں کو پروان چڑھاتا۔

آپؒ طلبہ کے سامنے محض اپنی آراء ہی بیان نہ کرتے، بلکہ سوالات اُٹھاتے اور اپنے تلامذہ کے ساتھ اس پر بحث مباحثہ کرتے، کبھی کبھی تو اس طرح کے مباحثے مہینوں چلتے۔ جب مسئلے کا حل پا لیتے اور کسی ایک رائے پر اتفاق ہو جاتا، تب اُسے تحریر کرنے کی اجازت دیتے۔ امام محمّدؒ نے اِس طرزِ تعلیم سے بہت کچھ سیکھا۔ وہ نہ صرف یہ کہ زیرِ بحث مسائل کی تحقیق میں شریک ہوتے، بلکہ جوابات بھی قلم بند کرتے۔ دورِ طالبِ علمی کی یہ ابتدائی مشق، بعدازاں آپؒ کی تصانیف اور تدوینِ فقہ کی بنیاد بنی۔

امام محمدؒ نے دیگر اساتذہ سے بھی استفادہ کیا اور دِل چسپ بات یہ ہے کہ ان اساتذہ کی سوچ میں خاصا اختلاف بھی تھا۔ ان اساتذہ میں مفسّر، محدّث، فقیہہ، ادیب اور مؤرخ شامل تھے۔ اس اختلافی فضا نے اُن کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مزید جِلا بخشی۔نیز، آپؒ نے کئی علمی اسفار بھی کیے۔ بصرہ، مکّہ مکرّمہ اور مدینہ منوّرہ کا کئی بار سفر کرکے وہاں کے علماء سے استفادہ کیا۔ حج کے موقعے پر وہاں دنیا بھر کے علماء اور فقہاء کی مجالس ہوتی تھیں، جن میں علمی مذاکرہ اور مباحثہ ہوتا، امام محمّدؒ نے اس طرح کی مجالس سے بھی بھرپور فوائد سمیٹے۔امام ابو حنیفہؒ کے انتقال کے بعد امام ابو یوسفؒ سے کسبِ علم حاصل کرتے رہے، جنھیں اصحابِ ابوحنیفہؒ میں سب سے بڑا محدّث تسلیم کیا جاتا تھا۔ اُنہوں نے امام ابو یوسفؒ سے احادیث اور آثار کا وہ علم حاصل کیا، جس پر عراقی فقہ کی عمارت قائم کی تھی۔ بعدازاں، مکہ مکرّمہ میں امام مالکؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تین سال اُن کی صحبت میں گزارے۔ اِس طرح آپؒ کو فقہِ کوفہ اور فقہِ مدینہ یا یوں کہہ لیجیے، آثارِ عراق و حجاز یک ساں حاصل ہوگئے۔ اس دوران اُن مناظروں اور مباحث کی رُوداد بھی اپنی’’ کتاب الحج‘‘میں سمو دی، جو آپؒ کے اور شیوخِ مدینہ کے درمیان ہوتے تھے۔

آپؒ،عباسی خلیفہ، ہارون الرشید کے زمانۂ اقتدار میں بغداد منتقل ہوئے۔ وہاں آنے کا مقصد کوئی عہدہ حاصل کرنا نہیں تھا کہ آپؒ خلفاء اور امراء کی مجالس سے الگ تھلگ ہی رہتے تھے۔دراصل، بغداد مختصر مدّت میں علم کا مرکز بن گیا تھا، اس کشش نے آپؒ کو وہاں کے سفر پر مجبور کیا۔تاہم، وہاں پہنچنے سے قبل ہی اُن کا علمی چرچا وہاں پہنچ چُکا تھا۔ آپؒ کو بہت جلد وہ شہرت حاصل ہوئی کہ امام ابو یوسفؒ کی حیات ہی میں وہ اہل الرائے کے لیے بغداد میں مرجع ِاوّل بن گئے۔ خلیفہ آپؒ کی علمیت سے واقف ہوا، تو منصبِ قضاء کی ذمّے داری دینا چاہی، گو کہ آپؒ کو علمی مشغولیت تَرک کرنا پسند نہ تھی، مگر سیاسی حالات آڑے آگئے اور بادل ناخواستہ یہ عُہدہ قبول کرنا پڑا۔ اس سے یہ نقصان بھی ہوا کہ اُنھیں بغداد چھوڑ کر رقّہ جانا پڑا۔تاہم، منصبِ قضاء کی ذمّے داریاں بھی علمی کاموں سے نہ روک سکیں۔ ایک دفعہ یحییٰ بن عبد اللہ بن حسین کے حق میں دو ٹوک فیصلہ دیا، جو خلیفہ کی مرضی کے خلاف تھا، لہٰذا آپؒ خلیفہ کے عتاب کا شکار ہوئے۔ نہ صرف عُہدے سے معزول ہوئے، بلکہ فتویٰ دینے سے بھی روک دیا گیا۔ 

کچھ عرصہ یہی صُورتِ حال رہی، پھر فتویٰ نہ دینے کی پابندی اُٹھالی گئی اور خلیفہ نے اُنھیں قاضی القضاۃ کا منصب پیش کیا۔آپؒ اُسے ہرگز قبول نہیں کرنا چاہتے تھے، مگر انکار کا کوئی فائدہ نہ تھا، لہٰذا مجبوراً یہ عُہدہ قبول کرنا پڑا۔ آپؒ نے عہدہ قبول تو کرلیا، مگر حق کا دامن پھر بھی نہ چھوڑا اور خلیفہ کی مرضی کے مطابق فیصلے نہیں دئیے۔ کم وبیش دو سال تک اس منصب پر فائز رہنے کے بعد خالقِ حقیقی سے جاملے۔آپ ؒکا انتقال رے کے قریب، رنبویہ کے مقام پر 189 ہجری میں ہوا، جہاں آپؒ خلیفہ ہارون الرشید کے ساتھ گئے تھے۔ رے کے قریبی مقام، جبلِ طبرک میں آپؒ کی قبرِ مبارک ہے، جو پانچویں صدی ہجری تک تو معروف تھی، لیکن اب زمانے کے نشیب وفراز نے اس کے نشانات مٹا دئیے ہیں۔

امام محمّد کی علمی اور فقہی خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے۔ آپؒ نے مختصر عرصے میں وہ علمی شان و شوکت اور بلندی حاصل کی، جو بہت کم افراد کے حصّے میں آتی ہے۔ آپؒ کی بہت سی تالیفات ہیں، جو حنفی فقہ کی بنیادی مراجع شمار ہوتی ہیں، جن میں’’ کتاب المبسوط‘‘ کو ایک خاص مقام حاصل ہے، جسے’’ الاصل‘‘ بھی کہا جاتاہے۔ المبسوط اپنے طلبہ کو املا کروائی تھی، جس کے سبب اس کے متعدّد نسخے وجود میں آئے، تاہم ان میں سب سے اہم ترین اور مشہور نسخہ وہ ہے، جو زجانی نے روایت کیا۔ امام صاحبؒ کے بعد حنفی فقہ پر قلم اٹھانے والا ہر شخص اس کتاب کا محتاج رہا ہے۔ آپؒ کی دوسری اہم تصنیف’’ جامع الصغیر‘‘ ہے، ضخامت کے لحاظ سے تو یہ ایک مختصر کتاب ہے، مگر حنفی فقہ میں اس کی علمی قدر و قیمت بہت زیادہ ہے، کیوں کہ یہ امام ابو حنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ اور خود آپؒ کی فقہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ 

جامع الصغیر فروعی مسائل پر مشتمل ہے، جن کی تعداد 1532 ہے۔ نیز، اس میں 170 کے قریب اختلافی مسائل بھی ہیں۔اس کتاب کی علمی قدر و قیمت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ علماء نے اس پر خاص توجّہ دی اور متعدّد اہلِ قلم نے اس کی شرحیں لکھیں۔ جامع الکبیر کو امام محمّد کی تیسری تصنیف قرار دیا جاتا ہے، جو ان کی بلند پایہ کُتب میں شمار ہوتی ہے۔آپ ؒنے اس کتاب کی تالیف کے دوران ارتکازِ توجّہ کے لیے گوشہ نشینی اختیار کر لی تھی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ کتاب انتہائی دقیق اور محکم صُورت میں سامنے آئی۔ اس سے وہ تشنگی دُور ہوگئی، جو جامع الصغیر میں رہ گئی تھی۔امام محمّدؒ ہی نے سب سے پہلے مسلمانوں کے’’ علم السیر‘‘ یعنی’’ قانون بین الممالک‘‘ پر قلم اُٹھایا۔ 

اس موضوع پر سب سے پہلے آپؒ ہی کی تصانیف سامنے آئیں، جس میں مسلمانوں کا دیگر اقوام کے بارے میں نقطۂ نظر ،صلح و جنگ میں آپس کے تعلقات، نیز مملکتِ اسلامیہ کے اندر اور باہر غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات وغیرہ زیر بحث آئے۔ قانون بین الممالک کے موضوعات پر امام صاحبؒ نے دو کُتب لکھیں، جو’’السیر الصغیر‘‘ اور ’’السیر الکبیر‘‘ کے نام سے معروف ہوئیں۔’’ السیر الصغیر‘‘ میں صرف امام ابوحنیفہؒ سے روایت کردہ مسائل بیان کیے، یہ کتاب جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، مختصر ہے، چناں چہ بعد میں اسی پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے’’ سیر الکبیر‘‘ کی صُورت وسعت دے کر پھیلا دیا گیا، نتیجہ یہ نکلا کہ یہ کتاب قانون بین الممالک کے تمام اہم مسائل پر حاوی اور اپنے موضوع پر ایک منفرد کاوش بن کر سامنے آئی۔یہ بات البتہ وضاحت طلب ہے کہ ان دونوں تصانیف میں سے کسی ایک کا بھی اصل نسخہ باقی نہیں رہا۔ 

البتہ ان کی متعدّد شرحیں ضرور میّسر ہیں، جن میں سب سے مشہور امام سرخی کی ہے۔آپؒ نے اہلِ عراق کے ہاں موجود سنن اور اخبار ماثور کو ’’کتاب الآثار‘‘ میں جمع کیا اور اسے امام ابوحنیفہؒ سے روایت کیا۔وہ اپنی اکثر مرویات کا امام ابو یوسفؒ کی ’’کتاب الآثار‘‘ سے مقابلہ کرتے ہیں۔یہ دونوں کتابیں’’ مسند ابی حنیفہؒ ‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔آپؒ کی ایک اور تصنیف’’ کتاب الحج‘‘بھی ایک منفرد کتاب ہے کہ اس میں اہم فقہی مسائل میں اہلِ کوفہ اور اہلِ مدینہ کے درمیان اختلاف بیان کیا ہے۔اس کے ہر باب کے آغاز میں امام ابو حنیفہؒ کی رائے بیان کی گئی ہے، اس کے بعد اہلِ مدینہ کی رائے اور پھر امام محمّدؒ اُن کا تجزیہ کرتے ہیں۔ 

وہ عموماً منطقی دلیل لاتے ہیں اور اس کے ثبوت میں آثار واخبار پیش کرتے ہیں۔ درحقیقت یہ کتاب عراقی اور حجازی فقہ کا ایک منفرد تقابلی مطالعہ ہے۔ اس تصنیف میں امام محمّدؒ کی انصاف پسندی جھلکتی ہے کہ جب بھی اہلِ مدینہ کی رائے کو امام ابو حنیفہ کی رائے کے مقابلے میں حق کے زیادہ قریب پایا، تو بلاجھجک اُسے اپنے استاد کی رائے پر ترجیح دی۔علاوہ ازیں، اُنھوں نے امام مالک کی معروف حدیث کی کتاب’’ موطا امام مالکؒ‘‘ بھی روایت کی۔ گو کہ اس کتاب کے روایوں کی ایک کثیر تعداد ہے، لیکن امام محمّد کا روایت کردہ نسخہ ہی بہترین سمجھا جاتا ہے۔ آپ’’ موطا‘‘ کی سماعت کرنے کی غرض سے مسلسل تین سال مدینہ منوّرہ میں رہے اور اسی دوران ایک سے زائد بار براہِ راست امام مالکؒ سے اس کتاب کی سماعت کی۔ 

اُنہوں نے صرف امام مالکؒ کی روایت کردہ احادیث کو بیان کرنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ دیگر روایات بالخصوص علمائے حجاز و عراق سے سماعت کردہ روایات کا بھی اضافہ کر دیا۔ نیز، اپنے اجتہادات بھی کثرت سے جمع کردئیے، اسی لیے یہ تصنیف موطاء امام مالکؒ کی بجائے موطاء امام محمّدؒ کے نام سے مشہور ہوئی۔ امام محمّدؒ کی تصانیف کاتذکرہ یہیں ختم نہیں ہوتا، بلکہ الحیل، النوادر، الاکتساب فی الرزق المستطاب، الرقیات، الکیسانیات، الہارونیات جیسی بہت سی نادر تصانیف بھی ہیں، جن کے بارے میں زیادہ معلومات دست یاب نہیں۔ ان کے بارے میں بس اتناہی پتاچلتا ہے کہ یہ کتابیں آپؒ کے شاگردوں نے آپؒ سے روایت کی تھیں۔

امام شافعیؒ کے بقول’’ امام محمّد فصیح اللسان تھے۔ مَیں نے اُن سے ایک اونٹ کے وزن کے برابر کتابیں پڑھیں اور ناسخ و منسوخ کا اُن سے زیادہ جاننے والا کسی کو نہیں دیکھا۔ امام مالکؒ کے بعد اُن کو اپنا امام مانتا ہوں۔‘‘ آپؒ کی عبارت پُرشکوہ، فصیح و بلیغ، خُوب صُورت اور اثر آفرین تھی، جب کہ بعض ناقدین آپؒ کی تحریر پر تنقید بھی کرتے ہیں۔مثلاً یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ آپؒ بعض اوقات غیر فصیح الفاظ استعمال کر جاتے ہیں، حالاں کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ الفاظ عام افراد میں معروف تھے، لہٰذا آپ مسائل کی تفہیم کے لیے وہی الفاظ استعمال کرتے ، جو عام افراد سمجھ سکتے ہوں۔

اِسی طرح ایک الزام یہ بھی عاید کیا جاتا ہے کہ امام محمّد نے بعض غیر عربی الفاظ استعمال کیے ہیں، اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ آپؒ ایک ایسے معاشرے کے باسی تھے، جو فارسی تہذیب کے عہد سے قریب تر تھا اور ابھی تک فارسی زبان کا اثر باقی تھا۔بلاشبہ امام محمّد بن حسن شیبانی کا نام اسلامی فقہ میں اُن جیّد علماء و فقہاء کی فہرست میں نمایاں ہے، جنھیں ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد کیا جائے گا۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ امام محمّدؒ نے عراقی فقہ کو پوری شرح و بسط کے ساتھ مدوّن کر کے اُسے گم نامی یا ضایع ہونے سے بچا لیا۔ اس تدوینی عمل کی وجہ سے امام محمدؒ کی تالیفات حنفی فقہ کا ستون ہیں۔

مزید کتب کے لئیے دیکھیئے صفحہ "حدیث و علوم حدیث
مزید کتب ملاحظہ کیجیئے "فقہ و فقہاء و فقہی احکام
مکمل تحریر اور تبصرے>>