Friday, 1 January 2021

عقد الجواہر فی احوال البواہر


عقد الجواہر فی احوال البواہر

مصنف : سیدابو ظفر ندوی

پیشکش : طوبیٰ ریسرچ لائبریری

16جمادی الاول 1442 ہجری

AQD UL JAWAHAR FI AHWAL UL BAWAHIR

Author:SYED ABU ZAFAR NADWI

امامیہ کا بوہری فرقہ

(تعارف از مفتی محمد امجد حسین صاحب)

"عقد الجواہر فی احوال البواہر " بوھروں کی مختصر تاریخ و تعارف ہے ۔ مئولف ابو ظفر ندوی ہیں جنکا جنوبی ہند کی مسلم تاریخ کے اہم ترین ساحلی خطہ گجرات پر مختلف جہتوں سے بہت سا تصنیفی کام ہے ، کتاب 1936ء میں تالیف ہوئی 384 صفحات پر مشتمل ہے ۔ بوھروں کی تاریخ پر لٹریچر عام طور پر دستیاب نہیں۔ اہلِ علم اس کی طلب و جستجو کرتے ہیں اس لحاظ سے یہ کتاب قابل قدر ہے ۔ ای لائبریری پر میسر ہونا اہل علم کے لیئے سوغات ہے خصوصا بشریات مذاہب کا ذوق رکھنے والوں کے لیئے۔

 کتاب سے مجموعی طور پر یہ تاثر ابھرتا ہے کہ مئولف بواہر سے کافی متاثر و مرعوب ہیں ، عموما ان کے افکار، اعمال، رسوم کی تاویل ، تطبیق یا دفاع کرتے ہیں ، جیسے کتاب کے آخر حصے میں جہاں ان کے مذہبی نظم اور عہدوں کا بیان ہے یہ امر نمایاں ہے ۔

کتاب بوھروں کے نظم امامت و امارت کا شروع سے آخر تک مربوط خاکہ ہمیں فراہم کرتی ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقعہ پر مختصر تقابلی جائزہ  امامیہ اور اہل سنت کا ہو جائے۔

اہل سنت جو امت کا سواد اعظم اور ہمیشہ 90 فیصد سے زائد پر مشتمل جمہور اہل اسلام ہیں ۔ قرآن و سنت سے انہوں نے نبوت کے خصائص و کمالات اور امتیازات کا حاصل دو امر سمجھے اور ٹہرائے ہیں اور سلف سے خلف تک اہل سنت کے خاص و عام اسی کا اجتماعی شعور رکھتے ہیں اور اس باب میں کوئی بھی انسانی فرد ی، طبقہ یا نسل انبیاء کے سہیم و شریک نہیں خواہ وہ زمانہ قبل از اسلام کی انسانی تاریخ ہو یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ختم نبوت کے بعد کا دور ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دو امر یہ ہیں

1- مامور من اللہ ہونا

2- معصوم عن الخطا ہونا ۔

نبی کے سارے کمالات ان دو اصلوں کی طرف لوٹتے ہیں اور یہیں سے پھوٹتے ہیں ۔

لہذا اہل سنت کے ہاں امام ، خلیفہ ، مجتہد ، فقیہہ ، ولی کوئی منصوص آسمانی عہدے نہیں جس پر نبی کی طرح خدائی تقرری ہوتی ہو اور ان کو مقام_عصمت حاصل ہو ، اہل سنت کے ہاں ختم نبوت کے منصوص قرآنی حکم اور بنیادی اساسی عقیدے کا بھی یہی مقتضی ہے۔ ورنہ ختم نبوت کا دعوی محض دعوی ہی رہ جائے گا جب نبوت کے متوازی کوئی اور " اصطلاح " مقرر کرکے نبوت کے خصائص اس کے لیئے ثابت کیئے جائیں ۔

امامیہ جن کے فرقے شعیہ ، راوفض باطنیہ ، اسمٰعیلیہ ، نزاریہ ، بوہریہ ، قرامطہ مشہور  ہیں صحابہ کے متاخر دور میں اسی مذکورہ اصل سے انحراف کر کےدونوں خصائص ِ نبوت عقیدہ امامت کے تناظر میں انہوں نے حضرت علی  کرم اللہ وجہہ اور ان کی اولادِ فاطمی کے لیئے منظم کیئے۔

چھٹے امام جعفر صادق تک یہ سلسلہ برابر چلا ، ساتوں امام کی تعیین میں دو گروہ ہوگئے اسمٰعیلیہ اور اثناعشریہ ۔ اثنا عشریہ نے جعفر صادق علیہ الرحمہ کے بیٹے موسٰی کاظمؒ کو ساتواں امام مانا جبکہ اسمٰعیلیہ نے جعفر صادق کے بڑے مرحوم بیٹے اسمٰعیل (جو جانشین تھے لیکن والد کی زندگی میں فوت ہوگئے تھے)کے بیٹے محمد کو ساتواں امام ٹہرایا۔ اسی وجہ سے اسمٰعیلیہ کہلائے ،پھر اثنا عشری بارھویں امام کے غیبوت کا دعویٰ کر کے غائب امام کے قائل ہوئے کہ اب امام مخفی رہ کے اپنے نائب کے ذریعے کارِ امامت چلائیں گے اور قرب قیامت میں ظاہر ہونگے  جبکہ اسمٰعیلیہ حاضر امام کے نظریہ پر سختی سے کاربند رہے کہ امام ایک لمحہ کے لیے بھی غائب نہیں ہوسکتا۔

اسمٰعیلیہ کی لڑی میں تیسری صدی کے اواخر میں افریقہ میں عبیدی سلطنت قائم ہوئی جو کچھ عرصہ میں مصر منتقل ہوگئی اور مصر میں فاطمی خلافت کے نام سے ان کے خلفاء جو امام حاضر بھی تھے ان کا سلسلہ جاری رہا۔ اسمٰعیلیہ میں فاطمین مصر میں اٹھارہویں امام مستنصرباللہ تھے ، یہاں انیسویں امام میں پھر اختلاف ہو کر دو گروہ ہوئے  مستعلیہ اور نزاریہ ، ایک نے مستعلی باللہ کو امام مانا  جو باپ کے بعد مصر کا فاطمی خلیفہ اور امام بنا ، بوھروں کی اصل یہی مستعلی گروہ ہے، دوسرے نے مستعلی کے بھائی نزار کو امام مانا جو بھائی کے بر مقابل امامت کا دعویدار تھا اور اسکندریہ میں اپنی امامت و حکومت کا اعلان کرکے بیعت لینی شروع کی جس پر مستعلی کی سرکاری فوجوں نے لڑائی میں اسے قتل کر دیااور نزارکے پیروکاروں نے اس کے چھوٹے بیٹے محمد کو امام مانا جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ حسن بن صباح جو نزار کا وفادار سپاہی تھا اس کو لے کر روپوش ہوگیا ۔ اسی نزاری گروہ کا سلسلہ قلعہ الموت میں حسن بن صباح کی فدائیین و حشیشین کی صورت میں آگے چلا اور پورے سو سال اس پُراسرار باطنی سلطنت نے عالم اسلام کی ناک میں دم کیئے رکھا تاآں کہ ہلاکو خان کے ہاتھوں یہ سلطنت ختم ہوگئی، آغا خانی اسمٰعیلی اسی نزاری گروہ کا تسلسل ہیں ، قلعہ الموت کے علاوہ ملتان ، سندھ میں بھی اس گروہ نے اپنی سلطنت کا ڈول ڈالا جو محمود غزنوی کی شمشیر خارا شگاف سے ختم ہوئی۔ اس اسمٰعلیہ یا آغا خانیہ گروہ میں پرنس کریم آغا خان تک امامت کا عدد49 تک پہنچا ہے اورامامِ حاضر کے تصور پر آج تک قائم ہے۔

مستعلیہ گروہ میں مستعلی کے بعد بیسواں اور مصر کے فاطمین کا آخر امام آمرباحکام اللہ تھا (490ھ تا 526) یہ نزاریوں کے فدائیوں کے ہاتھوں مقتول ہوا ، اسکے بعد اس گروہ کا "امرِ امامت" مصر سے یمن منتقل ہوگیا اور یہاں آکر ان میں بھی امام غائب کی طرح امام مستور کا تصور شروع ہوگیا ، چنانچہ آمر با حکام اللہ کا شیر خوار بیٹا طیب جو خفیہ طریقے پر مصر سے بچا کر یمن لایا گیا وہ ان کا امام مستور ہے ، امام مستور ستر و خفا میں رہ کر اپنے نائب کے ذریعے جس کو یہ گروہ داعی کہتا ہے امرِ امامت کو چلاتا ہے ۔

طیب سے ابھی تک (یعنی چھٹی صدی ہجری سے) ان میں ائمہ مستورین کا دور ہے ، معلوم نہیں وہ ائمہ مستورین کون کون ہیں یا وہ طیب ہی اثنا عشریوں کے امام مہدی کی طرح امام مستور ہے ، یہ" دعاۃ" کا سلسلہ چار سو سال یعنی دسویں صدی کے نصف تک یمن میں مسلسل چلا اور 24 داعی ہوئے پھر گجرات ہند منتقل ہوا اور اب تک جاری ہے ، سیدنا برہان الدین تک جو ابھی چند سال پہلے فوت ہوئے ان میں 52 داعی ہوئے۔ یہ مستعلیہ گروہ ہی بوھرے ہیں ، اس طرح امامیہ کے یہ تین بڑے گروہ ہوئے اثناعشریہ، اسمٰعیلیہ ، داؤدی بوہرے۔

بوہروں کو داؤدی اس لیئے کہتے ہیں کہ داؤد بن قطب شاہ جب 997ھ میں داعی بنے تو شیخ سلیمان (یمن) نے ان کو داعی نہ مانا اور خود داعی ہونے کا دعویدار ہوئے اور یمن سے گجرات آکر اپنے لیئے بیعت لینی شروع کی، بہت کثرت سے بوہرے ان کے مستفید ہوئے یہ 1000ھ کا واقعہ ہے جو مغلِ اعظم اکبر کا دور ہے اسطرح اسوقت سے یہ دو گروہ ہوئے داؤدی بوہرے اور سیلمانی بوہرے  یہ واضح رہے کہ سلیمانی بوہرے سُنی ہوتے ہیں اسلیئے ان کو سُنی بوہرے کہتے ہیں اور داؤدیوں کو شعیہ بوہرے کہتے ہیں ۔ اسی طرح سیلمان سے بھی کوئی سو سال پہلے یعنی نویں صدی کے اواخر میں ان میں ایک جعفری فرقہ بھی بنا جو مُلا جعفر پٹنی کے پیروکار ہوئے ، یہ نا صرف سُنی بلکہ راسخ العقیدہ سُنی مسلمان ہیں، یہ اپنے نام کے ساتھ جعفری لگاتے ہیں ، عالم اسلام کے شہرہ آفاق ہندی محدث شیخ طاہر پٹنی صاحبِ مجمع بحارالانوار اسی سُنی جعفری بوہروں کے گروہ سے تھے۔ کتاب میں یہ سب احوال بڑے سلیقے سے مربوط انداز میں آگئے ہیں ۔
٭پڑھیئے اورآگاہ رہیئے٭

DOWNLOAD

مزید کتب کے لیئے دیکھیئے صفحہ " دیگر مکاتب فکر " ۔

٭فاضل مصنف کا تعارف

اس بے تکلف مجلس میں مولانا سید ابوظفر ندوی بھولے بھٹکے شریک ہوتے ، وہ سید صاحبؒ کے سگے بھتیجے تھے ، ان کے والدبزرگوار حکیم مولوی سید ابوحبیب صاحب بڑے ہی عابد اور زاہد بزرگ تھے ، مجددیہ سلسلہ میں حضرت مولانا ابو احمد بھوپالی سے بیعت تھے ، ان ہی سے روحانی تربیت پاتے رہے ، سید صاحب سے اٹھارہ سال بڑے تھے،مولانا ابو ظفر صاحب نے ندوۃ العلما ء میں تعلیم پائی ، مولانا عبد الباری ندوی کے ہم درس رہے ، ان کی ملازمتوں کی داستان بڑی طویل ہے ۔ ندوہ سے فارغ ہو کر کچھ دنوں ملتان میں رہے ، پھر رنگون جا کر ایک عربی مدرسہ میں مدرس ہو گئے ، وہاں برمی زبان سیکھی، ’’برمی بول چال‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ، اپنا ’’سفرنامہ برما‘‘ بھی مرتب کیا ، رنگون سے احمد آباد چلےآئے ،جہاں گاندھی جی کے قائم کردہ کالج مہاودلیہ میں عربی کے پروفیسر مقرر ہوئے ، وہاں بڑی محنت سے ’’تاریخ گجرات‘‘ لکھی ،جو بعد میں ۱۹۵۸ء؁ میں ندوۃ المصنفین دہلی سے شائع ہوئی ، ان ہی دنوں انہوں نے مراۃ احمدی کا ترجمہ ’’تاریخ اولیائے گجرات ‘‘ کے نام سے کیا ،یہ ۱۹۲۳ء؁ میں احمد آباد سے شائع ہوئی ۔ احمد آباد سے مدراس چلے آے تو وہ سیٹھ جمال کے جمالیہ کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے ، وہاں سے جناب نواب علی وزیر تعلیم ریاست جوناگڑھ نے ان کو جوناگڑھ بلالیا ، جہاں ان سے علمی و مذہبی کام لیے گئے ، یہاں کے قیام کے زمانہ میں انہوں نے اردو کے مشہور اہل قلم اختر جونا گڑھی کے ساتھ مل کر ایک علمی رسالہ ’’شہاب‘‘ کے نام سے نکالا ، احمد آباد اور جوناگڑھ میں رہنے کی وجہ سے ان کو بوہروں کی تاریخ سے دلچسپی ہوئی تو بو ہروں کے بعض اکابر کی فرمایش پر ان کی ایک تاریخ لکھی ، جب یہ چھپ کر تیار ہوئی تو بوہروں کے کچھ فرقوں کو اس کے بعض حصوں پر اعتراض ہوا ، اس لیے اس کی اشاعت روک دی گئی ،وہاں سے دارالمصنفین آئے ، تاریخ سندھ لکھنے کے لیے خاص طور بلائے گئے ، مگر وہ اس شرط پر ائے کہ ان کو دارالمصنفین کے احاطہ میں رہنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا ،وہ ندوہ میں مولانا مسعود علی ندوی سے اوپر درجہ میں تھے ، مولانا مسعود علی کا احترام اس احاطہ میں جس طرح کیا جاتا ، وہ ان کے اقتضائے طبیعت کے خلاف تھا ، اس لیے وہ شہر میں ایک مکان لے کر رہنے لگے ، وقت پر کتب خانہ آتے اور وقت پر چلے جاتے ، مولانا مسعود علی ندوی سے ملنا پسند نہ کرتے، شکل وجیہ پائی تھی ، لباس بھی اچھا پہنتے ، زلفی رکھتے تھے ، ٹوپی گول پہنتے ، مولانا مسعود علی ان کو تفریحاً شہزادہ تاج الملوک کہا کرتے ، مگر وہ مولانا مسعود علی کو لائق التفات نہ سمجھتے ، جب دونوں کا آمنا سامنا ہو جاتا تو ہم لوگوں کو ڈر لگا رہتا کہ دونوں میں اَن بن نہ ہو جائے ۔ مگر وہ شاہ صاحبؒ کے اخلاق کے معترف رہے ، ان کی تحریروں کی ادبی شان کے مداح تھے ، کہتے کہ ان سے تاریخ لکھانے کے بجائے ادبی کتابیں لکھانی چاہیے تھیں ،جس محنت اور ریاضت سے وہ اپنی علمی چیزوں کو تیار کرتے ، اس کے معترف شاہ صاحبؒ بھی رہے ، کہتے ہیں کہ ان کے جسم کو کھر چو تو اس سے ہندوستان کی تاریخ کے کسی نہ کسی پہلو کی صدا نکلے گی ، دارالمصنفین کے قیام میں ’’تاریخ سندھ‘‘ لکھی ، جو چھپ کر بہت مقبول ہوئی ،معارف میں حسب ذیل مضامین بھی لکھے : (۱) ہندوستان میں توپ کا استعمال ۲۰) ہندوستان کے کتب خانے (۳) ہندوستان میں کاغذ سازی (۴) ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے عہد میں ڈاک کا انتظام ۔ وہ کچھ دنوں کے بعد دارالمصنفین سے شانتی نکیتن چلے گئے ، وہاں سے پھر اینگلو ور نیکرلر سوسائٹی احمد آباد آ گئے ، جہاں رہ کر گجرات کی تمدنی تاریخ لکھی ، جو دارالمصنفین کے سلسلۂ تاریخ کی ایک اہم کتاب ہے ۔۱۹۵۸ء؁ میں وفات پائی، شاہ صاحبؒ نے جولائی ۱۹۵۸ء؁ کے معارف میں ان پر جو شذرات لکھے ،اس کے کچھ ٹکڑے یہ ہیں :

            ’’افسوس ہے کہ گذشتہ مہینہ ہماری جماعت کے ایک نامور رکن مولانا ابوظفر صاحب ندوی نے انتقال کیا ، ان سے دارالمصنفین کے گوناگوں تعلقات تھے ، وہ ندوہ کے مشہور فاضل ، نامور اہل قلم، حضرت سید صاحب کے حقیقی بھتیجے تھے، دارالمصنفین میں کئی سال تک رہے تھے ، ان کی پوری زندگی علم و تعلیم کی خدمت اور تالیف و تصنیف میں گذری ، علمی کمالات کے ساتھ بڑے دیندار ،نیک نفس اور سادہ مزاج تھے ، علمی کاموں کے ساتھ کچھ نہ کچھ دینی و ملی کام بھی کرتے رہتے تھے، سید صاحبؒ کے گھرانے میں وہ آخری علمی یادگار تھے ، وفات کے وقت ۷۰ سال کے قریب عمر رہی ہو گی ، اللہ تعالی اس خادم علم و دین کو اپنی رحمت سے سرفراز فرمائے"۔

سید صباح الدین عبدالرحمن کی ایک کتاب سے اقتباس

 

مکمل تحریر اور تبصرے>>

Friday, 11 December 2020

تعلیم الحدیث


تعلیم الحدیث

مئولف : مولانا عبدالکریم پاریکھ صاحب

پیشکش : طوبیٰ ریسرچ لائبریری

بشکریہ : محمد یوسف(گجرات-انڈیا)

25 ربیع الثانی 1442 ہجری

TAALEEM UL HADEEZ

AUTHOR: MOULANA ABDUL KAREEM PAREEKH

SPECIAL COURTESY: MUHAMMAD YOUSAF (GUJRAT, INDIA)

DOWNLOAD

مزید کتب کے لیئے دیکھیئے صفحہ " حدیث " ۔

تعارف ِ کتاب از : مفتی محمد امجد حسین

٭تعلیم الحدیث مولانا عبدالکریم پاریکھ صاحب کا جمع کردہ مجموعہ احادیث ہے ، مولانا کےترجمہ قرآن کی طرح  یہ مجموعہ حدیث بھی خوب دلنشیں اور مئوثر و مفید ہے۔ احادیث کے انتخاب اور ان کی تشریح و تفصیل دونوں سے آپ کی بالغ النظری ٹپکتی ہے ۔البتہ بعض آراء اوراحادیث کی تشریح کے ضمن میں جو انطباق آپ نے کیا ہے یا مصداقات نامزد کیئے ہیں ان سے بہت سوں کو اختلاف ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی صاحبِ فکر کی سو فیصد آراء سے سب کو اتفاق  ہونا ضروری نہیں۔

            کتاب میں ایسی احادیث بڑی تعداد میں ہیں جو  بلالحاظ مسلم و غیر مسلم ، حقیقت پسند اور معقول انسان کے لیئے زندگی کے سفر میں زادِ راہ بن سکتی ہیں ۔ ہندوستان جیسے ملک میں اس کی ضرورت اور بھی زیادہ تھی اور مولانا  کو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں میں دعوتی کام کرنے کی وجہ سے  اس کا تجربہ اور سلیقہ بھی حاصل رہا ہے ۔ وہ " پیامِ انسانیت" کے دعوتی سلسلہ کے تحت مسلم اور غیر مسلم کے مشترکہ اجتماعات میں خطبات و بیانات کی وجہ سے دونوں طبقوں کے تعلیم یافتہ  اور صالح الفکر لوگوں کی نفسیات اور احساسات سے آگاہ تھے ، اس طرح وہ احادیث جو تمدن اور اجتماعی زندگی کی وسیع عام سطح پر  ہر انسان کو اپیل کرتی ہیں، اور اسے ایک اچھا انسان اور معاشرے کا مفید فرد بننے کے لیئے مناسب راہنمائی فراہم کرتی ہیں ۔ مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ  کا مقدمہ کتاب کے لیئے ماتھے کا جھومر ہے۔

            کتاب سے مئولف کے انداز و اسلوب کا ایک نمونہ ملاحظہ کیجیئے : " راستے میں پڑاؤ ڈالنے سے ممانعت۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قال رسول اللہ " لا تصّلوا علیٰ جواد الطریق الخ۔۔۔۔۔۔۔ راستے میں نماز پڑھنے اور پڑاؤ کرنے سے منع کیا گیا ہے، خواہ وہ گاؤں ، کھیڑے کے راستے ہوں، یا  نیشنل ہائی وے ہو یا کوئی بھی راستہ اور سڑک ہو ۔ بمبئی کے مسلمانوں کو بڑے غور سے اس حدیث پاک کو پڑھنا چاہیئے(جو جمعہ و اجتماعات میں مسجد کے آگے روڈ پر بھی کھڑے ہو جاتے ہیں) مسلم ملکوں میں بھی مسلمان حکومتیں سڑکوں پر نماز پڑھنے سے روکتی ہیں، سعودی عرب میں ہم نے دیکھا کہ اگر آپ سڑک پر نماز پڑھ رہے ہوں تو پولیس ہٹا دے گی،

بھئی ٹرافک کہاں جائے گا ، لوگ کیسے آئیں گے جائیں گے  ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہیں بھی یہ دیکھنا چاہیئے کہ ہمارے کسی بھی غلط عمل سے دین کے کسی بھی حکم کی بے حُرمتی نہ ہو، ہماری غلط حرکتوں اور بے ڈھنگے کاموں کا ردِ عمل یہ ہوا ہے کہ برادرانِ وطن نے اپنے بہت سے تہوار نکال لیئے اور بعض بھولے ہوئے تہوار بھی ان کو یاد آ گئے،  "مہا آرتی" وغیرہ نکال کر انھوں نے بھی راستے بند کرنا شروع کر دیئے، یہ ہوا نہلے پہ دھلا، اور ہندو مسلمانوں میں بلاوجہ کا تناؤ ہوا، جھگڑے فسادات بھی ہوئے"۔

(کتاب سے ایک اقتباس)

محمد امجد حسین

مدیر: فقہ السنہ اکیڈمی، راولپنڈی، پاکستان

9دسمبر2020ء

 (تحریر برائے :طوبیٰ ریسرچ بلاگ)

 

مکمل تحریر اور تبصرے>>

Friday, 4 December 2020

سفرنامہ ابنِ فضلان

سفرنامہ  ابنِ فضلان

(309ھ – 921ء)

اردو ترجمہ و حواشی : خالد لطیف

پیشکش : طوبیٰ ریسرچ لائبریری

18 ربیع الثانی 1442ہجری

SAFARNAMA IBN E FUZLAN

URDU INTERPRETER: KHALID LATEEF

 DOWNLOAD 


٭نوٹ: فاضل مترجم نے جس مخطوطہ کا عکس اپنے ترجمہ کے اخیر میں دیا ہے ، اسے محقق سامی الدھان نے مدون و مرتب کرکے شائع کیا اس لیئے اس محقق نسخہ کا لنک پوسٹ میں دے دیا ہے، اردو قارئین کے لیئے مخطوطہ سے براہ راست استفادہ کرنا شاید بہت ہی مشکل ہوتا، عربی شائقین لنک سے مذکورہ نسخہ پڑھ سکتے ہیں۔

٭رسالة ابن فضلان في وصف الرحلة إلى بلاد الترك والخزر والروس والصقالبة سنة 309هـ_921م(عربی)أحمد بن فضلان بن العباس بن راشد بن حماد،،،،،،تحقيق: د. سامي الدهان

٭کتاب سفرنامه ابن فضلان : ابن فضلان | ترجمه ابوالفضل طباطبایی(فارسی)

* Ibn Fadlan's Journey to Russia: A Tenth-Century. Traveler from Baghdad to the Volga River. Translated with commentary by Richard N. Frye. (1) NOT FOUND ON INTERNET!!!

* Mission to the Volga

Ahmad Ibn Fadlan, Tim Severin, James Montgomery (2)

* Ibn Fadlān and the land of darkness : Arab travellers in the far north

Aḥmad Ibn Faḍlān; Muḥammad ibn ʻAbd al-Raḥīm Ibn Abī al-Rabīʻ; Paul Lunde; Caroline Stone, (Academic)(3)

A Thesis:

*  Black banner and white nights: The world of Ibn Fadlan

Joseph Daniel Wilson (for the Degree of  Bachelor of Arts ) James Madison University

٭ عربی – جرمن ترجمہ ARABIC-GERMAN TRANSLATION

Ibn-Foszlan's und anderer Araber Berichte über die Russen älterer Zeit

LINK 1 . LINK 2

٭ٹرکش ترجمہ: Turkish

İbn Fadlan Seyahatnamesi - Ramazan Şeşen

٭اضافی تبصرہ از: مفتی محمد امجد حسین صاحب

سفرنامہ ابن فضلان

احمدابنِ فضلان بن العباس بن راشد بن حماد صاحبِ علم و فضل شخص تھے ،اُس سفارتی وفد میں شامل تھے جو 309ھ بمطابق 921ء میں عباسی خلیفہ مقتدر باللہ نے وسطی ایشیا میں بلغار کے ملک بھیجا تھا، یہ سفارت بلغاریہ کے نو مسلم بادشاہ المش بن یطوار کی درخواست پر بھیجی گئی تھی تاکہ دینِ اسلام کی تعلیمات سے اسے آگاہ کرے اور وہاں مسجد و منبر اور قلعہ کی تعمیر میں مدد دے۔

انیسویں صدی میں مغربی فضلاء کی اس سفرنامہ کی طرف توجہ ہوئی اور انھوں نے اس میں گہری دلچسپی لی ، کیونکہ روسی قوم اور ملک کی ابتدائی تاریخ پر اس سے روشنی پڑتی ہے ، ابن فضلان نے جن روسیوں کا ذکر کیا ہے یہ نارمن قوم ( ڈنمارک، ناروے، سویڈن  نارمن قوم کے خطے ہیں) کی ایک شاخ روس نامی قبیلہ اورقوم کی اصل گویا یہی قبیلہ ہے۔  نارمن ،جرمن ، روسی  قوموں نے اپنی ابتدائی تاریخ کی کڑیاں اس میں دریافت ہونے پر اس میں خوب دلچسپی لی ۔ کئی مغربی زبانوں میں تراجم کیئے گئے۔

اس کتاب کے دو اندراجات میرے خیال میں خاص تحقیق طلب ہیں ، ریسرچ کے میدان کے شہسواروں کے لیئے ان پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔٭  پہلا اقتباس کا خلاصہ یوں ہے کہ " یاجوج ماجوج کے ایک دیو ہیکل شخص کا تذکرہ ہے ، جو دریا میں بہہ کر بلغاریہ آیا تھا اور بلغار کے نو مسلم بادشاہ نے اس کو اپنی نگرانی میں اپنے ملک ٹہرائے رکھا لیکن پھر اُ س کی ہلاکت آفرینیوں کی وجہ سے اسے قتل کروایا ، ابن فضلان کے پوچھنے پر بادشاہ نے اس کا سراپا اور اس کے احوال سنائے تھے۔ بادشاہ کے بیان کے مطابق اس کا قد 12 زراع(18فٹ) ، سر دیگ کے برابر ، ناک ایک بالشت اور ہاتھ کی انگلیاں بالشت سے بھی لمبی، بات چیت نہ کر سکتا  ، اس کے نظر کرنے سے حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہوتے ، اور کئی بچے مر گئے، بعض آدمی جو اس کے ہاتھ لگے ان کو  ہاتھ سےمسل کر مار دیتا ۔ اس کو پھانسی دے کر مارا گیا تھا ، ابن فضلان کے پہنچنے سے کچھ عرصہ پہلے ہی یہ وقوعہ  ہوا تھا، لہذا اس کا ڈھانچہ جنگل میں پڑا تھا جو بادشاہ نے خود ابن فضلان کو لے جا کر ملاحظہ کرایا"۔

میرے خیال میں یاجوج ماجوج کے متعلق یہ چشم دید بیان بہت اہم ہے اس بیان کی مولانا سیوہاروی کی قصص القرآن اور ابوالکلام آزاد کی تفسیر میں یاجوج ماجوج کے متعلق تاریخی ارتقاء کے مئوقف کے تناظر میں جائزہ لینا چاہیئے اور مزید تفسیری و تاریخی لٹریچر زیر بحث لانا چاہیئے ۔

یہاں اک اور نکتہ بھی قابل غور ہے " فاضل مترجم اردو نے حاشیہ(ص139) میں جو رائے " یاجوج ماجوج" کے بارے میں دی ہے ، وہ صراحتاً غلطی پر مبنی ہے " یاجوج ماجوج کا تذکرہ قرآن میں سورہ کہف کی آیت کی روشنی میں نصِ صریح ہے ، دنیائے اسلام اس نام سے نزول قرآن کے وقت سے ہی آشنا تھی"۔

٭دوسرا اندراج" بلغار کے پڑوس میں خزر سلطنت جس کی خود یہ بلغار سلطنت اور کئی ریاستیں باج گزار تھیں اور خزر سلطنت کا بادشاہ خاقان کہلاتا تھا اور ترک خاقان کی گویا جگہ اس نے لے لی تھی اس خزر خاقان اور اس کی قوم کا یہودی ہونا ہے ۔

میرے خیال میں اس  اقتباس کی اہمیت  پٹھانوں کے  حسب نسب کے بارے میں مشہور نظریہ پٹھانوں کے یہودی النسل ہونے کے حوالے سے ہے ۔ ہو سکتا ہے مزید مطالعہ کرنے والوں کا نقطئہ نظر مجھ سے مختلف ہو۔

لکلٍ وجھتہ ھو مولیھا

؎   وللناس فیما یعشقون مذاہب

امجد حسین

2 دسمبر20ء

مدیر: فقہ السنہ اکیڈمی، راولپنڈی، پاکستان

مزید کتب کے لیئے دیکھیئے صفحہ  "سفرنامے " ۔

 

مکمل تحریر اور تبصرے>>