Sunday, 28 April 2024

نونہالوں کے لیئے سچی کہانی میری ڈائری کی زبانی
Nonihaloun K Lye Sachi Kahani Meri Dairy Ki Zubani

نونہالوں کے لیئے

سچی کہانی میری ڈائری کی زبانی

جنوری1992ء

مصنف: حکیم محمد سعید

پیشکش : طوبی ریسرچ لائبریری

18 شوال المکرم 1445 ہجری

Nonihaloun K Lye Sachi Kahani

Meri Dairy Ki Zubani

(January 1992)

BY: HAKEEM MUHAMMAD SAEED

DOWNLOAD

#TOOBAA_POST_NO_614

مزید کتب کے لیئے دیکھیئے  صفحہ " بچوں کا کتابی گلشن

 

TOPICS:

AAP BETI , HAKEEM MUHAMMAD SAEED , HAKIM MUHAMMAD SAEED , ROZNAMCHA , DAILY DAIRY , آپ بیتی,روزنامچہ,حکیم محمد سعید,شاہین بچوں کا کتابی خزانہ,AUTOBIOGRAPHY,

 

مکمل تحریر اور تبصرے>>

Saturday, 4 December 2021

انوار النظر فی آثار الظفر - خود نوشت سوانح حیات



انوار النظر فی آثار الظفر

خود نوشت سوانح حیات

علامہ ظفر احمد عثمانی تھانویؒ

جلد 1 ، جلد 2 ۔

پیشکش : طوبیٰ ریسرچ لائبریری

بشکریہ : محترم منصور صاحب

28ربیع الثانی1443 ہجری

ANWAR U NAZAR FI AASAAR E ZAFAR

AUTOBIOGRAPHY

BY: ALLAMA ZAFAR AHMED USMANI THANVI

SPECIAL COURTESY OF: MANSOR BHAI

DOWNLOAD

VOL 1 + VOL 2

مزید کتب کے لیئے دیکھیئے صفحہ "اکابرعلمائےاہل سنت (دیوبند)" ۔

#TOOBAA_POST_NO: 330

 

 

مکمل تحریر اور تبصرے>>

Friday, 22 January 2021

نقوشِ زنداں

نقوشِ زنداں

(جیل بیتی و علمی مکتوبات)

تصنیف : مولانا محمد علی صدیقی کاندھلوی

نشرر مکرر : طوبیٰ ریسرچ لائبریری

بشکریہ : بشارت نواز صاحب

NAQOOSH E ZINDAAN

(JAIL BETI W ILMI MAKTOBAAT)

AUTHOR: MOULANA MUHAMMAD ALI SIDDIQUE KANDHALVI

REPOSTED: TOOBAA RESEARCH LIBRARY

 COURTESY OF: BASHARAT NAWAZ

جناب احسان دانشؔ

"مولانا محمد علی کاندھلوی: جہاں تک علم و فضل کا تعلق ہے یہ بھی کاندھلہ کی علمی روایت کے وارث ہیں۔ آج کل سیالکوٹ میں شہابیہ دارالعلوم کے مہتمم اعلیٰ ہیں اور سیکڑوں تشنگان علم اس کے علم و عرفان سے فیض یاب ہوتے چلے آرہے ہیں ۔ یوں تو کاندھلہ کے اکثر علماء کا مشغلہ درس و تدریس ہے ، لیکن اس دور میں مولانا محمد علی جیسے لوگوں کا دم غنیمت ہے ، کیونکہ مولانا موصوف عالم ہونے کے علاوہ قومی مجاہد بھی ہیں او راس سلسلے میں سنت یوسفی بھی ادا کر چکے ہیں۔

مولانا محمد علی تصنیف و تالیف میں بھی کم نہیں ان کی تصانیف میں کئی ایک علمی اور کارآمدکتابیں ہیں اور وہ دن رات اسی دھن میں رہتے ہیں وہ اپنی حق گوئی اور راست روی کے نشے میں قید و بند کی صعوبتوں کو بھی عبادت خیال کرتے ہیں ۔ یوں تو وہ  اک  تنے(تنکے؟) انسان ہیں، مگر اس دھان پان مجاہد کو میں نے بڑے بڑے جیالوں سے آگے پایا۔

میرے خیال میں درسگاہوں کے اساتذہ کو عملی جدوجہد میں تامل کرنا چاہیئے کیونکہ یہ تو فطرت کی طرف سے تقسیم علم پر فائز ہیں ان کا کام تو دینی اور سیاسی راہوں میں چراغ روشن کرنا ہے نہ کہ جنگ و جدل میں حصہ لینا، یوں تو جنگ و جدل بھی اپنے وقت پر عبادت سے کم نہیں اور شہادت کی خلدزاروں کو یہیں سے پگڈنڈیاں نکلتی ہیں لیکن معمولی معمولی جھڑپوں میں احتیاط درکار ہے کیونکہ ان کی اسیری سے تقسیم علم کا کام رک جاتا ہے جو نہایت ضروری ہے۔

مولانا محمد علی کی کئی قابل قدر تصانیف ہیں جو موصوف کا علمی مقام متعین کرتی ہیں جن سے علم و عمل دونوں شاہراہوں میں قندیلیں آویزاں ہو جاتی ہیں۔

انہیں کے چھوٹے بھائی مولوی شبیر ہیں لیکن وہ کاندھلے کی مقامی سیاست میں الجھ کر رہ گئے، نہ معلوم ان کا کیا مشغلہ ہے ، بزرگوں کے نقشِ قدم پر ہیں یا بدک گئے؟

(جہانِ دگر،جہانِ دانش حصہ دوم ،ص276/277، خزینہ علم و ادب، لاہور، 2001ء)

 

DOWNLOAD

 LINK49MB +LINK 23MB

مزید کتب کے لیئے دیکھیئے صفحات " مکاتیب " و " آپ بیتی" ۔ 

 

مکمل تحریر اور تبصرے>>

Friday, 1 January 2021

میری علمی زندگی کی داستان ِ عبرت

میری علمی زندگی کی داستان ِ عبرت

مصنف : مولانا محمد شہاب الدین ندوی

پیشکش : طوبیٰ ریسرچ لائبریری

نشرمکرر : بشکریہ الفرقانیہ اکیڈمی بنگلور

16جمادی الاول 1442 ہجری

MERI ILMI ZINDGI KI DASTAAN E EBRAT

Author: MOULANA MUHAMMAD SHAHAB U DIN NADWI

٭میری علمی زندگی کی داستان عبرت

زیر ِ نظر رسالہ (170 صفحات پر مشتمل) بیسوی صدی کے نصف آخر کے ایک عالمِ ربانی علامہ شہاب الدین ندوی مرحوم کی مختصر آپ بیتی  اور جگ بیتی ہے۔ اس میں آپ کے علمی و ذہنی ارتقا اور علوم قرآنی کے ساتھ غیر معمولی لگاؤ ، ذوق اور مناسبت کا حال کُھلتا ہے۔ کائنات کے متعلق قرآن کی آیات کا سائنس ، علوم ِ جدیدہ ، حیاتیات (بیالوجی) طبیعات(فزکس) ، فلکیات(آسٹرونومی) اور ریاضیات (میتھ میٹکس ) کے تناظر میں بڑا عرصہ مطالعہ کرکے قرآن کے اس حصہ کی عصری تفہیم  اور قرآن کی معجز بیانی میں گہری بصیرت اور دَرک حاصل کیا۔ اس کے بعد ان مضوعات کے تحت  قرآن کے بیانات کو کھولا  اور معرکے کی کتابیں لکھیں جن کو نہ صرف برصغیر میں بلکہ مصر و شام اور عرب میں بھی اپنے عربی ایڈیشنوں کے ذریعے پذیرائی حاصل ہوئی، بعض فقہی ، معاشرتی اصلاح پر بھی کتب تحریر فرمائیں۔

آپ کی تصنیفات میں دعوت ِ دینی اور رجوع الی القرآن کا نمایاں رنگ ہے ، اس مختصر  کتابچے میں اپنی علمی ، تعلیمی تصنیفی زندگی کو مؤثر اور سادہ دلنشین پیرائے میں بیان کیا اور خوب بیان کیا ہے، آپ بیتی کے پہلو بہ پہلو یہ رسالہ جگ بیتی بھی ہے ، علمی تحقیق و تخلیق اور انکشافاتِ حقائق کے اس سفر میں آپ کو سخت مجاہدوں، مشکلات ، وسائل کی کمیابی وغیرہ سے گذرنا پڑا، اپنی مسلم  قوم کی بے حسی اور علم و تحقیق کے باب میں کم سوادی اور خواص  کے جمود اور رسمی و روایتی علم پر ہٹ دھرمی کی حد تک اصرار ، یہ سارے احوال اس رسالہ سے سامنے آتے ہیں۔ بیرون ِ ملک علمی و تحقیقی  سیمیناروں میں بھی شرکت کے  مواقع آپ کو ملے ، اپنا کام عربی تراجم میں دنیا بھر سے آئے اہلِ علم مندوبین تک پہچانے کا موقعہ ملا۔

میری طرح اور بھی جو حضرات آپ کی  تالیفات سے متعارف ہیں ان کو یہ رسالہ "گائڈ بک"  کا کام دے گا۔ زکوۃ اور انفاق فی سبیل اللہ کی بحث اس پہلو سے کہ یہ اسلامی ریاست و سماج کے لیئے آفاقی اسلامی شریعت نے ایک جامع  اقتصادی نظام کے طور پر پیش کیا نہ کچھ خیراتی اداروں اور کام چور پیشہ ور فقیروں کی پیٹ پوجا کے وسیلے کے لیئے۔ اس لحاظ سے آپ کے مضامین و  رسائل  نظام زکوۃ اور اس کے مختلف مباحث پر  مطبوع و موجود ہیں  ، خصوصاً  عرب عبقری عالم یوسف قرضاوی  کی " فقہ الزکوۃ " میں فی  سبیل اللہ کے کیا کیا مصداقات ہیں  اس میں یوسف قرضاوی ایک جدید مؤقف رکھتے ہیں   اور گذشتہ صدی کے برصغیر کے کئی مفکر  سکالرزکے ہاں بھی یہ مؤقف کچھ فرق کے  ساتھ ملتا ہے ، اس پر بھی آپ نے اچھی بحث  کی ہے ۔ مدارسِ دینیہ کے جمود اور علم ِ دین کے وسیع عصری آفاق و  امکانات سے منہ موڑ کر اپنی مخصوص دنیا ، مخصوص خول و حصار میں رہنا اس پر فکر انگیز تبصرہ و احتجاج رسالے میں آپ نے کیا ہے ۔

خطہ برصغیر کے دینی مدارس کے تناظر میں آپ کا یہ تجزیہ  وقت کی آواز ہے جس کا حاصل علامہ اقبالؔ کے الفاظ میں یہ ہے

معمارِ حرم، باز بہ تعمیرِ جہاں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز

اللہ  کرے سوتے ہوئے جاگ جائیں  سورج  تو بام و در سے اتر کر صحن و دالان کو بھی پار کر چکا ہے ، نیند کے متوالوں کی صبح کیا صورِ اسرافیل کی منتظر ہے جب جاگتے ہوؤں کو بھی سُلا دیا جائے گا۔ اموات غیر احیاء وما یشعرون ایان یبعثون کی شکوہ سنجی لیڈر شپ کے میدان سے پسپا ہو کر  تہہ محراب سو جانے والوں سے کرنے والے  کب تک کریں گے ؟

مباحث اور بھی ہیں ، جن سے آگاہی کے لیئے آپ کو مزید کتاب پڑھنا پڑے گی۔

مبصر: (مفتی )محمد امجد حسین صاحب

مدیر: فقہ السنہ اکیڈمی،راولپنڈی

03379828937

17-1-21

DOWNLOAD

مزید کتب کے لیئے دیکھیئے صفحہ " آپ بیتیاں " ۔

 

مکمل تحریر اور تبصرے>>