Friday, 6 March 2026

تفسیر میرٹھی

تفسیر میرٹھی

اردو  مترجم  و محشی:مولانا عاشق الہی میرٹھیؒ

پیشکش : طوبیٰ ریسرچ لائبریری

Tafseer-e-Meeruthi

Urdu Mutarjim wa Muhashi: Maulana Aashiq Ilahi Meeruthi (RA)

#TOOBAA_POST_914

DOWNLOAD

270سے زائد کتب ِقرآنیات کے لیئے دیکھیئے :قرآنیات (طوبیٰ)۔

مزید کتب کے لیئے دیکھیئے صفحہ " قرآنیات

تفسیر میرٹھی

اردو ترجمہ قرآن و حواشی

از : مولانا عاشق الہی میرٹھیؒ

(دوسرا نسخہ: ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیئے کلک کیجیئے)

 

مولانا عاشقِ الٰہی میرٹھی اردو کے صغیر سن مترجمِ قرآن

ندیم احمد انصاری

مولانا عاشقِ الٰہی بن یادِ الٰہی بن رحمِ الٰہی بن فضلِ الٰہی کی ولادت 5 رجب 1299ھ مطابق 3جون 1881ء یومِ جمعہ کو میرٹھ میں ہوئی۔چار سال کی عمر میں الف، ب‘ شروع کی اور سال بھر تک مکتب میں پڑھتے رہے ،اور فقط چھ سال کی عمر میں’مرأۃ العروس‘ اور ’بنات النعش‘و’ توبۃ النصوح‘ختم کر لی، جو فی زمانہ ایم اے اردو وغیرہ کے نصاب میں شامل ہے ۔ اسی مدّت میں ریاضی بھی سیکھی اور اربعہ و ستہ کے سوال حل کرنے لگے ۔ چھ مہینے میں کلام اللہ ختم کیا اور1305ھ میں جب کہ عمر چھ سال ہوئی مولوی نور اللہ سے جو کہ نہایت متوکل و متقی بزرگ تھے ، عربی شروع کر دی۔ چند مہینے میں ’میزان منشعبپڑھنے پر استعداد اتنی ہو گئی کہ مولانا تلاوت کرتے ہوئے قرآن مجید کے صیغے ان سے دریافت کرتے اور وہ بتاتے رہتے ۔ فارسی اس وقت تک بالکل نہیں پڑھی تھی، اس لیے مولانا کے مشورے پر مولوی عباس علی سے ’آمد نامہ‘ شروع کیا اور چند مہینے میں ’گلستان‘،’ بوستان‘ تک پڑھ لیا۔مولانا کی ذہانت دیکھ کر ان کے ماموں منشی وزارت علی ‘جو کہ تحصیلی اسکول میں مدرسِ دوم تھے ، اردو مڈل پاس کرانے کے شوق میں مولاناکو اپنے ساتھ لے گئے اور چوتھی جماعت میں ان کا نام لکھوا دیا۔ دو سال تک ان سے تعلیم حاصل کرتے رہے اور پھر دو سال صدر المدرسین منشی یعقوب علی کے پاس تعلیم پاکر 1310ھ مطابق دسمبر 1892ء کے امتحانِ مڈل میں شریک ہو گئے ۔ جس طرح اس سے قبل کسی امتحان میں ناکامی نہیں ہوئی تھی، اسی طرح ورنیکلر مڈل میں بھی ناکام نہ رہے اور فقط ساڑھے گیارہ سال کی عمر میں مڈل کی سند حاصل کر لی۔اس کے بعد چھ مہینے تک پھر فارسی پڑھی اور حافظ امداد حسین سے مضمون نویسی کی مشق کرتے رہے ۔
اس وقت ’مشن اسکول‘ میں ایک درجہ کھولا گیا تھا، جس میں مڈل پاس بچّوں کو داخل کرکے صرف انگریزی زبان کی تعلیم دی جاتی اور دو سال میں انگریزی مڈل کا امتحان دلانے کا اعلان تھا، چناں چہ مولانا بھی اس میں داخل ہو گئے ، مگر اس جماعت میں اتنے طلبہ نہ آئے جن کی فیس سے مدرس کی تنخواہ نکل سکتی، اس لیے چھ مہینے بعد ہی وہ درجہ ٹوٹ گیا اور مولانا ’ فیضِ عام اسکول‘ کی ساتویں جماعت میں داخل ہو گئے ۔ داخلے کو چوتھا دن تھا کہ استاد نے ایک معمولی غلطی پر اسکول کے رواج کے موافق انھیں بینچ پر کھڑا کر دیا اور ہتھیلی پر دو رول مارے ، چوں کہ عمر بھر میں یہ پہلا اتفاق تھا اس لیے ان کی غیرت نے ضرورت سے زیادہ اس کا اثر لیا اور گھر آکر والدہ سے رو کر کہا کہ مجھے عربی شروع کروا دو، میں اسکول کی تعلیم کے قابل نہیں ہوں۔ چناں چہ وسط جمادی الثانیہ 1311ھ مطابق دسمبر 1893ء میں، جب کہ ان کی عمر تیرہ سال تھی ’مدرسہ قومی، میرٹھ‘ میں داخلہ لیا اورمولانا عبد المومن صاحب دیوبندی سے جو کہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن صاحبؒ کے بہنوئی تھے ’میزانشروع کی۔ وسطِ شعبان میں مدرسے کا سالانہ امتحان ہوا تو مولانا صدیق احمد ممتحن نے ’میزان، منشعب‘ اور’ صرفِ میر‘ و’ نحوِ میر‘ کا از اول تا آخر امتحان لیا اور بے حد خوش ہوکر مولانا سے فرمایا کہ یہ طالبِ علم بہت ہونہار ہے ، اس کو خاص توجہ سے پڑھانا۔ اس کے بعد مدرسے کی بڑی تعطیل ہو گئی، مگر رمضان میں مولانا قاری محمد اسحاق صاحب میرٹھی سے ’شرح مأۃ عاملباترکیب ختم کر لی۔
10
شوال کو مدرسہ کھلا اور مولانا کے شفیق استاد نے عربی کا ہشت سالہ نصاب بعض درمیانی غیر ضروری کتابوں کو حذف کرکے خاص طرز پر خاص توجہ کے ساتھ پڑھانا شروع کیا اور مولانا روزانہ چار پانچ کتابوں کا سبق زیادہ مقدرار میں لینے لگے ، اس طرح سات مہینے میں صرف و نحو ختم ہو گئی۔ اب وقت آیا کہ چار طلبہ کا ہم جماعت بن کر حدیث شروع کر دیں، چناں چہ ربیع الثانی 1312ھ میں جب کہ ان کی عمر چودہ برس سے کم تھی اور عربی شروع کیے ہوئے دس مہینے گزرے تھے ، ’مشکوٰۃ شریف‘ شروع ہو گئی، اور دو سال میں صحاحِ ستہ اور دینیات کی تمام کتابیں ختم ہو گئیں۔ آخری امتحان، جس میں ’بیضاوی شریف‘ بھی تھی مولانا میر احمد حسن صاحبؒ امروہوی نے لیا اور پرچۂ جوابات پڑھ کر خوشی سے فرمایا کہ گو معقول کی بعض کتابیں باقی ہیں مگر دینیات کی تعلیم ختم ہو چکی، اس لیے بے اختیار میرا دل چاہتا ہے کہ اتباعاً للاسلاف اس کی دستاربندی کر دوں، اور پھر ایسا ہی کیا۔ اس وقت مولانا کی عمر صرف سولہ سال کی تھی۔
اسی سال ماہِ ربیع الثانی 1315ھ میں مولانا کا نکاح ہو گیا اور نکاح سے تین ماہ بعد مدرسۂ قومی سے سندِ تکمیل لے کر 24 رجب 1315ھ مطابق 19دسمبر1897ء کو لاہور روانہ ہوئے ۔ بڑے دن کی تعطیلات کے بعد ’اورینٹل کالج‘ کھلنے پر وہاں امتحان دے کر مولوی فاضل کلاس میں داخلہ لیا، جس کے پروفیسر مولانا مفتی محمد عبد اللہ صاحب ٹونکی تھے ۔ 3اپریل 1898ء مطابق 11ذی قعدہ 1315ھ یومِ دو شنبہ سے امتحان شروع ہوا، جس کے پرچے چار دن میں ختم ہوگئے اور مولانا امتحان سے فارغ ہو کر اپنے خالو مظفر حسین صاحب کے پاس سیالکوٹ ہوتے ہوئے وطن آگئے ۔ سوا مہینے بعد 10ذی الحجہ کو عین عید کے دن لاہور سے خط آیا کہ تم تمامی طلبہ سے اوّل رہے اور اتنے نمبروں سے کامیاب ہوئے کہ مفتی عبد اللہ صاحب کے بعد اتنے نمبر کبھی کسی طالبِ علم کے نہیں آئے یعنی 600نمبروں میں 465۔
بعدہ مولانا محمد علی صاحب(ناظم ندوۃ العلماء) کے تقاضے پر مولانا لکھنؤ چلے گئے ، جہاں جلسۂ انتظامیہ کے فیصلے پر 26محرم 1317ھ سے ان کا تقرر ایک سو بیس روپئے مشاہرے پر دارالعلوم کی دوم مدرسی پر ہو گیا۔ چھ مہینے گزرے تھے کہ مولانا کے جسمانی و روحانی بزرگوں نے ان کی جسمانی دوری گوارا نہ کر کے قیامِ وطن پر مجبور کیا تو آخر رجب میں اس طرح رخصت ہوئے کہ طلبہ مولانا کی روانگی پر اور مولانا ان کی پریشانی دیکھ کر رو رہے تھے ۔
ندوۃ العلماء، لکھنؤ کے بعد غالباً مولانا نے کسی ادارے میں مستقل تدریسی خدمات انجام نہیں دیں، بلکہ طباعت،تصنیف و تالیفاور تراجم کو اپنا مشغلہ بنالیا۔لکھنؤسے وطن آکر کچھ روپیہ قرض لیا اور 12جون 1900ء مطابق 14صفر 1318ھ کو ’خیر المطابع‘ نامی مطبع کھولا، جس میں اجرت پر دینی کتابیں طبع کرانے لگے اور ساتھ ہی مفید کتابوں کے تراجم میں مشغول ہوگئے ۔سب سے اول قرآن مجید کا سلیس اردو میں ترجمہ کیا ، متعدد تفاسیر وکتبِ معتبرہ سے مفید حواشی اس پر چڑھائے اور 1319ھ میں بہ صورتِ حمائل اس کو طبع کروایا۔ حق تعالیٰ نے اس کو مقبولیت بخشی اور وہ ہاتھوں ہاتھ ہدیہ ہو گیا۔ 1320ھ میں حمائل دوبارہ پہلے سے اچھی حالت میں طبع ہوئی اور اس کے ساتھ ہی سوانح محمدیہؐ جدید طرز پر مرتب کرکے ’اسلام‘ نام رکھ کر اسے طبع کروایا۔
1322
ھ میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کے ارشاد پر امام غزالیؒ کی اربعین‘ کا ترجمہ کیا اور بہ نام ’تبلیغِ دین‘ اس کو طبع کرایا۔ اس کے ساتھ ہی بچوں کے لیے بلا ترجمہ نہایت صاف اور صحیح قرآن مجید طبع کیا۔2محرم 1326سے اپنے دینی بزرگوں کے ارشاد اور احباب کے اصرار پر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی سوانح مرتَّب کرنی شروع کی اور شریعت و طریقت کے دو مستقل حصّے بنا کر بہ نام ’تذکرۃ الرشید‘ 30ذی الحجہ 1326ھ کو شایع کر دیے ۔ 1327ھ میں حضرت ممدوح کے دستی خطوط جو بعض طالبین، سالکین کے نام گئے تھے ، فراہم کر کے طبع کیے اور ’مکاتیبِ رشیدیہ‘ نام رکھا، جس میں اس خط کا بہ جنسہٖ فوٹو بھی شامل کیا جو شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب اور خلیفۂ اول مولانا خلیل احمد صاحب کے نام دیوبند گیا تھا۔
1331
ھ میں مولانا کا کیا ہوا ترجمہ و حواشی بڑی تقطیعِ کلام مجید پر طبع ہوئے اور اسی درمیان میں ’قصۂ یوسف علیہ السلام‘تالیف کیا، جو سورۂ یوسف کی شرح تھی۔1332ھ میں ایک ماہ وار مذہبی رسالہ سہارنپور سے نکالنے کی تجویز ہوئی اور مولانا کی ادارت و مضمون نگاری میں ربیع الاول سے بہ نام ’الرشاد‘ اس کا اجرا ہوا، مگر اس کی عمر ایک سال سے زیادہ نہ ہوئی اور صفر 1333ھ میں اس سے دست بردار ہونا پڑا۔اسی درمیان میں رسالہ ’امداد السلوک‘ کا اردو ترجمہ ارشاد الملوک‘ کے نام سے طبع کروایا، اس کے بعد پیرانِ پیر کے مواعظ یعنی الفتح الربانی‘ کے ترجمے میں مشغول ہو گئے اور اسے نہایت سلیس ترجمہ کرکے حامل المتن بہ نام ’فیوضِ یزدانی‘ طبع کروایا۔ 1334ھ میں حمائل کے چوتھی مرتبہ طبع کی ضرورت ہوئی اور اس سے فارغ ہو کر اہلِ رنگون کی فرمائیش پر البصائر‘ کا ترجمہ شروع کر دیا، جو ’الجواہر الزواہر‘ کے نام سے دو ہزار طبع ہوا اور وہیں تقسیم ہو گیا کہ اکثر شائق اس کی زیارت سے بھی محروم رہے۔ 1338ھ میں ’فیوضِ یزدانی‘ کے چالیس وعظ کی جدید طرز پر شرح لکھی، جو بہ نام ’انوارِ سبحانی‘ طبع ہوئی۔ 1340ھ میں ’فیوض‘ اور ’تبلیغ‘ کو نظرِ ثانی کے بعد طبع کروایا۔مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور ایک عظیم عالمی شہرت یافتہ دینی درس گاہ ہے ، جس کی سرپرستی یقیناً قابلِ رشک اور عظیم منصب ہے ، اس پر مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ کے ایما و حکم پر مولانا 1344ھ میں فائز ہوئے اور رکنِ شوریٰ کی حیثیت سے تا حیات یعنی تقریباً سولہ سال تک اس منصبِ جلیل پر فائز رہے ، اور انھیں خدمات کو کرتے کرتے یکم شعبان1360ھ بہ مطابق 25اگست 1941ء بہ روز دو شنبہ ، صبح چھ بجے انتقال فرما گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون
صغر سن مفسر و مترجمِ قرآن
نثری ہو یا منظومترجمہ نگاری سہل نہیں بلکہ دِقت طلب اور صبر آزماں کام ہے ۔ کسی بھی فن پارے کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنے کے عمل کو لفظِ ترجمہ سے تعبیر کیا جاتا ہے ، جس کے ذریعے مترجمہ فن پارے میں معانی کے تمام پہلوؤں کے ابلاغ و ترسیل کی حتی المقدور کوشش کی جاتی ہے ، محض لفظی ترجمہ کر دینا کسی خاص اہمیت کا حامل نہیں ہوا کرتا اور معاملہ جب قرآن مجید کے ترجمے کا ہو تو احتیاط کا تقاضا اور بھی بڑھ جاتا ہے ، اس لیے کہ اول تو عربی زبان کی وسعت دوسرے کلامِ ربانی کی فصاحت و بلاغت، یہ دونوں باتیں غایت درجے احتیاط کی متقاضی ہیں، اس کے باوجود اغلب یہ ہے کہ مولانا عاشق الٰہی میرٹھیؒ کو اردو زبان میں سب سے کم عمر مترجم و مفسرِقرآن ہونے کا شرف حاصل ہے ۔مولانا نے تقریباً انیس سال کی عمر میں یہ عظیم خدمت انجام دی،جس پر بعضوں کو یہ غلط فہمی ہو گئی کہ ان میں تو ترجمۂ قرآن کی صلاحیت ہی موجود نہ تھی، محض دنیوی منفعت کی خاطر انھوں نے یہ کام کیا، جیسا کہ پروفیسر مجیب اللہ قادری کا خیال ہے :
’’
مولوی عاشق الٰہی نہ تو کسی معروف مدرسے سے فارغ ہیں اور نہ اتنی دینی صلاحیت کے ماہر ہیں کہ20 سال سے بھی کم عمر میں قرآنِ کریم کا اردو ترجمہ کرلیا، یقیناً یہ تعجب خیز عمل معلوم ہوتاہے کہ ایک شخص جو صرف مولوی فاضل کی کتابیں پڑھا ہواہے ، اس میں کہاں سے یہ استعداد آگئی کہ اس نے قرآن پاک کا صرف20 سال کی عمر میں ترجمہ مکمل کرلیا۔ محسوس یہ ہوتاہے کہ اپنا مطبع اس لیے قائم کیا کہ ترجمۂ قرآن کو زیادہ سے زیادہ شایع کیا جائے لیکن یہ ترجمہ عام لوگوں میں مقبول نہ ہوسکا ۔ دوسرا تعجب یہ ہے کہ آپ نے اور کوئی قابلِ ذکر علمی تصنیف یادگا ر نہ چھوڑی جس سے آپ کی علمی صلاحیتوں کا صحیح اندازہ ہو تاکہ واقعی آپ کم عمر میں ترجمۂ قرآن کرنے کے اہل تھے ۔‘‘
اردو تراجمِ قرآن کا تقابلی مطالعہ‘کے عنوان سے یہ تبصرہ درجِ ذیل ویب سائٹ آور اردو ڈاٹ کام پر نظر نواز ہوا،جس میں پروفیسر صاحب کے قائم کیے ہوئے مذکورہ بالا اعتراضات درجِ ذیل چند وجوہ سے درست معلوم نہیں ہوتے ؛
(1)
بلا تحقیق مولانا میرٹھی کی تعلیم و تربیت اور صلاحیتوں و کارناموں پرسوال اٹھایا جانا۔
(2)
اول تو ’کسی مدرسے سے فارغ نہ ہونا‘ عدمِ صلاحیت پر دال نہیں، اصل فراغت نہیں بلکہ صلاحیت ہے ، دوم مولانا نے دینی و درسی نصاب کی با قاعدہ تکمیل کی ہے ، جس کا معترض کو شاید علم نہیں ہو سکا۔
(3)
صرف مولوی فاضل کی کتابیں پڑھا ہوا‘یہ دعویٰ بھی بلا دلیل ہے ۔
(4)
اپنا مطبع اس لیے قائم کیا کہ ترجمۂ قرآن کو زیادہ سے زیادہ شائع کیا جائے ‘یہ بھی محض الزام تراشی ہے ، جو معترض کی پست ذہنی کی غماز ہے۔ اہلِ علم اس طرح کے بے بنیاد الزام نہیں لگایا کرتے جن میں کسی کی ذات و اخلاص کو ہدف بنایا جائے اور جو بھی اشکال کرتے ہیں اس پر عقلی و نقلی دلائل قائم کرتے ہیں،جو یہاں ندارد ہیں۔
مذکورہ بالا اعتراضات کی حقیقت سمجھنے کے لیے اولاً مولانا کے وہ حالات جان لیناضروری ہے ، جو ہم ابتدامیں ذکر کر آئے ہیں، ثانیاً ’تذکرۃ المفسرین‘کا یہ اقتباس ملحوظ رہے توبہت سے اشکالات خود ہی رفع ہو جائیں گے :
’’
سولہ سال کی عمر میں درسِ نظامی کی کتابیں تکمیل فرما کر سندِ فراغت حاصل کر لی۔ ۔۔ دیگر تصانیف کے علاوہ قرآنِ عزیز کا ترجمہ اور حاشیہ لکھا جس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا ایک ایک کلمہ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کی نظر سے گزرا ہے ۔‘‘(ص:323(
اس اقتباس میں پروفیسر قادری کے تمام اعتراض کا اجمالی جواب آگیا اور واضح ہو گیا کہ
(1)
مولانا میرٹھی ایک باصلاحیت اور عالم فاضل شخص ہیں اور ابتداے زندگی ہی سے انھیں علم کی فضا میسر آئی ہے ۔
(2)
دوسرے یہ کہ مولانا میرٹھی اس زمانے میں بھی ایک روشن خیال اور مختلف علوم و فنون میں دل چسپی رکھنے والے شخص تھے ، عالم فاضل کی ڈگریاں حاصل کرنا ان کی اضافی خصوصیات ہیں۔
(3)
تیسرے یہ ہے کہ ’ اپنا مطبع اس لیے قائم کیا کہ ترجمۂ قرآن کو زیادہ سے زیادہ شائع کیا جائے ‘اس میں اگر ترجمۂ قرآن کی زیادہ سے زیادہ اشاعت سے شکایت ہے تو یہ اعتراض خود حیران کُن ہے اور اگر اعتراض یہ ہے کہ اپنا خود کا کیا ہوا ترجمہ زیادہ سے زیادہ شایع کرنا مقصود تھا تو اس میں بھی ہمیں چنداں حرج معلوم نہیں ہوتا، ہر مصنف و مترجم اپنی قلمی کاوشوں کے لیے کوئی پلیٹ فارم تلاش کیا کرتا ہے ۔
(4)
رہا یہ اعتراض کہ ’یہ ترجمہ عام لوگوں میں مقبول نہ ہوسکا ‘ محض دعویٰ بلا دلیل ہے جو درست نہیں۔اس لیے کہ اول تو مولانا میرٹھی کا بیان ہے:
سب سے اول میںنے قرآن مجید کا سلیس اردو میں ترجمہ کیا ، متعدد تفاسیر و کتبِ معتبرہ سے مفید حواشی اس پر چڑھائے اور 1319ھ میں بہ صورتِ حمائل اس کو طبع کرایا۔ الحمد للہ کہ حق تعالیٰ نے اس کو مقبولیت بخشی اور وہ ہاتھوں ہاتھ ہدیہ ہو گیا۔ 1320ھ میں حمائل دوبارہ پہلے سے اچھی حالت میں طبع ہوئی۔(الجواہر الزواہرقدیم(
دوسرے اگر پروفیسر صاحب کی بات مان بھی لی جائے تو اس کی اشاعت کا اہلِ علم و عوام کی طرف سے اصرار نہ ہونا چاہیے ، جب کہ اس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ حال ہی میں ایک بار پھر اس کی جدید اشاعت منظرِ عام پر آئی ہے ،نیز پروفیسر محمد نسیم عثمانی کا بیان ہے :
’’
مولانا عاشق الٰہی میرٹھی [کا]اردو ترجمہ خیر المطابع، لکھنؤ میں 1320ھ مطابق1902ء میں چھپاتھا، اس کے بعد متعدد ایڈیشن نکل چکے ہیں۔‘‘(اردو میں تفسیری ادب(
عدمِ مقبولیت کے اعتراض کے ناقابلِ توجہ ہونے کے لیے ڈاکٹر نواز دیوبندی کی یہ وضاحت بھی ملاحظہ ہو :
’’
یہ ترجمہ نہایت سلیس اور صاف اردو میں ہے اور اہلِ علم میں مقبول ہے ۔ اس ترجمے کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس کا ایک ایک حرف حضرت شیخ الہندؒ کی نظر سے گزرا ہے۔‘‘(سوانح علماے دیوبند(
(5)
آخری بات یہ کہ’تعجب یہ ہے کہ آپ نے اور کوئی قابلِ ذکر علمی تصنیف یادگا ر نہ چھوڑی جس سے آپ کی علمی صلاحیتوں کا صحیح اندازہ ہوتا‘یہ بھی پروفیسر صاحب کی جلد بازی یا عدمِ تتبع کا نتیجہ ہے ، اس لیے ہمیں خود ان کے اس تعجب پر تعجب ہے ، کیوں کہ آج سے تقریباً سوا سو سال قبل جب کہ کاغذ اور طباعت و اشاعت کی ایسی سہولیات میسر نہیں تھیں،مولانا میرٹھی سے ایک درجن سے زائد قلمی و علمی یادگار ہیں، جن کا مختصر تذکرہ اوپر ہم کر آئے ہیں، من جملہ ان کے حدیث کی ایک ضخیم کتاب ’جمع الفوائد‘ جس میں دس ہزار سے زائد حدیثیں ہیں، مولانا نے اس کا مکمل اردو ترجمہ کیا اور تشریحی نوٹ بھی قلم بند فرمائے ہیں،جس کے متعلق ڈاکٹر خالدمحمود کا کہنا ہے کہ ’دررِ فرائداُردو ترجمہ جمع الفوائد، مولانا عاشق الٰہی نے یہ ترجمہ کیا ہے ۔ جمع الفوائد جیسی عظیم کتاب کو اُردو میں لے آنا ایک بڑا کام ہے ۔‘(آثار الحدیث)
مختصر یہ کہ مولانا میرٹھی اردو زبان کے سب سے کم عمر مترجمِ قرآن ہیں، انھوں نے فقط انیس سال کی عمر میں قرآن مجید کا مکمل ترجمہ مع فوائد و مختصر تفسیر پیش کیا، علاوہ ازیں حدیث کی ایک ضخیم کتاب ’جمع الفوائد‘ کو اردو میں منتقل کیا اور درجنوں اہم دینی کتابوں کی تصنیف و ترجمے کے ذریعے اہلِ علم و عوام سے دادِ تحسین حاصل کی۔ ان کا اصل میدان یقیناً دین و مذہب ہے ، اس کے باوجود ان کی متذکرہ خدمات سے یقیناً زبان و ادب میں قابلِ ذکر اضافہ ہوا ہے ۔
nadeem@afif.in

Topics

quraanyaat, tafseer, درس قرآن, قرآنیات, تفسیر, mufassereen e quraan, TAFASEER, tafseer, URDU TARJUMA QURAAN, URDU TAFSEER, علمائے اہل سنت و الجماعت دیوبند, قرآنیات, مفسرین قرآن, اردو ترجمہ قرآن, اردو تفسیر قرآن, AUTHENTIC TAFSEER, BEST TAFSEER, MOST AUTHENTIC TRANSLATION OF QURAAN, KHUALSA E SURAT, خلاصہ سورت اردو, تفسیری نکات, TAFSEERI NUKAAT, قرآن کا مستند ترین ترجمہ و تفسیر, mufassir e quraan, murtajim e quraan, ulema e deoband, akabir e deoband, MOULANA AASHIQ ILLAHI MEERTHIمولانا عاشق الہی میرٹھی

 

مکمل تحریر اور تبصرے>>

Monday, 8 September 2025

ماہتاب عرب ﷺ


 

ماہتاب عرب ﷺ

از:مفسر قرآن مولانا عاشق الہی میرٹھی

(خلیفہ ارشدحضرت مولانا  محدث خلیل احمد سہارن پوری)

ترتیب و تسہیل: قاری محمد ادریس ہوشیار پوری

پیشکش : طوبی ریسرچ لائبریری

 

Mahtaab-e-Arab

Az: Mufassir Qur’an Maulana Aashiq Ilahi Meerathi

(Khalifah Arshad Hazrat Maulana Muhaddith Khalil Ahmad Saharanpuri)

Tarteeb o Tasheel: Qari Muhammad Idrees Hoshiarpuri

#TOOBAA_POST_847

DOWNLOAD

مزید کتب کے لیئے دیکھیئے  "حیات ِ حضرت محمد ﷺ

ملاحظہ کیجیئے صفحہ "حیاتِ طیبہ سیرت النبیﷺ

کتب سیرتِ رسول ﷺربیع الاول 1444ہجری

کتب سیرتِ رسول ﷺربیع الاول 1445 ہجری

کتب سیرتِ رسول ﷺربیع الاول 1446 ہجری

 

تاریخ سیرت نگاری

چند اہم اردو تصانیف کا تعارف

 از قلم: سید عدنان حیدر

ایمان کا ایک بنیادی جز اس بات کا متقاضی ہے کہ نہ صرف اس بات پر یقین کامل ہونا چاہیے کہ حضور اکرمؐ بحیثیت خاتم النبیین اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ آپؐ کی زات مبارکہ سے انتہا درجے کا عشق ہونا بھی ضروری ہے اور آپ کی تعلیمات پر عمل پیرا رہنا ہر صاحب ایمان مرد عورت پر فرض ہے. بحیثیت مسلمان (بالخصوص دین اسلام کے طالب علم) ہونے کے ناطے ہماری توجہ ایک طرف علوم الحدیث کے مفاہیم سمجھنے کی طرف مرکوز رہتی ہے تو دوسری طرف حضور پاکؐ کی سیرت مبارکہ کے مختلف گوشوں کا مطالعہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تا کہ اپنی زندگی میں ان اصولوں کی پیروی کی جائے جو ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں. لین دین کے معاملات سے لے کر حقوق العباد تک, عبادات سے لے کر ایمانیات و روحانیات تک الغرض شعبہ زندگی و عبادات سے متعلق ہر ممکنہ پہلوؤں تک ہماری یہی کوشش رہتی ہے کہ ہم سنت رسول کی پیروی کریں اور اسی لئے ہم اپنے آپ کو بخوشی اھل سنت و الجماعت سے منسوب کرتے ہیں کیوں کہ اہل سنت کا اصل مفہوم ہی یہی ہے کہ رسول اکرمؐ کی تمام سنتوں کی مکمل طور پر پیروی کی جائے جو بدعات سے پاک ہوں, قرآن کے مطلوب و مقصود کے عین مطابق ہوں اور حضور اکرمؐ کی اصل تعلیمات و تشریحات پر ہی مبنی ہو.

دین کے ایک طالب علم ہونے کی وجہ سے چونکہ ہم سیرت النبیؐ کے مطالعہ کی اہمیت سے انکار نہی کر سکتے. چنانچہ ہماری کوشش رہتی ہے کہ ہماری علمی تراث میں سیرت نگاری پر جتنا لیٹریچر مرتب کیا جا چکا ہے اس کا ایک تاریخی جائزہ لیا جائے. مصادر سیرت کے ہر ہر جز کی بنیاد کے فہم کو سمجھا جائے اور ایک عجمی ہونے کے ناطے (جس کا تعلق برصغیر سے ہو, جو عربی زبان کو اپنی مذہبی لسانیات کا درجہ دے مگر اس کی اپنی مادری زبان اردو ہو) ہمیں جہاں عربی مصادر سیرت نگاری کا مطالعہ کرنا درکار ہو گا وہیں اردو زبان میں شائع شدہ سیرت نگاری کا ایک تفصیلی و تحقیقی (بشمول تنقیدی) جائزہ لینا بھی مقصود ہوگا...

سیرت نگاری کے ارتقائی مراحل سے لے کر بیسویں اور اکیسویں صدی عیسوی تک اردو سیرت نگاری کا علمی و تحقیقی سفر طے کرنے کے لیے ایک طالب علم جن عمدہ کتابوں سے رہنمائی لے سکتا ہے ان کی ایک ممکنہ فہرست اس پوسٹ کے ساتھ منسلک کر رہا ہوں. میرے ناقص مطالعہ کی روشنی میں مجھے پوری آمید ہے کہ اگر کوئی طالب علم ان کتابوں کا سچے دل سے مطالعہ کرے تو وہ سیرت نگاری کی مختلف ابحاث و جہات پر عبور حاصل کرتا جائے گا. بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مصادر سیرت کی امہات کتب (عربی و اردو) کی ایک مفصل فہرست بنانے میں بھی کامیاب ہو سکتا ہے. چونکہ مطالعہ سیرت کی جہات لامحدود ہیں. جن پر کام ہوتا رہے گا ان شاء اللہ اور ہر جہت سے دور جدید کے نت نئے مسائل کا حل تلاش کرنے میں مدد ملتی رہے گی اور یہ تحقیقی عمل یوں ہی جاری و ساری رہے گا, مگر جو کام مرتب کیا جا چکا ہے اس کا فہم حاصل کرنا بھی ضروری ہے...چنانچہ اس امر کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک ممکنہ فہرست مرتب کی ہے جو نوجوان طالب علموں کے لئے مفید ثابت ہو سکتی ہے....

1. اردو میں سیرت نبویؐ کا سرمایہ (از ڈاکٹر عبد الجبار خان)...  یہ دار اصل ایک پی ایچ ڈی مقالہ ہے جو برصغیر میں سیرت نگاری کا ایک مکمل پس منظر فراہم کر دیتا ہے. ہم نے محترم عارف گھانچی صاحب کی مدد سے اس کو کتابی شکل میں اپنے پاس محفوظ کر لیا ہے... البتہ اس کی پی ڈی ایف نیٹ سے مل جاتی ہے...

2. ادارہ علوم اسلامیہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی سیرت نگاری (نذر پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقیؒ)

یہ مجموعہ مقالات پروفیسر صدیقیؒ صاحب مرحوم کے کتب و رسائل سیرت کے تجزیاتی مطالعہ کے لیے مختص کیا گیا تھا جس میں متعدد جید علما کرام و محققین نے پروفیسر صاحب کی مختلف کتابوں پر اپنے نگارشات قلم بند کئے تھے.

3. ہندوستان میں اردو سیرت نگاری (ترتیب: ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی اور ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحی)

اردو سیرت نگاری کے پس منظر کا مطالعہ کرنے کے لیے یہ مجموعہ مقالات بھی اپنی افادیت خود رکھتا ہے..

4. سیرت اور علوم سیرت: ایک مختصر تعارف (تدوین و ترتیب, انیس احمد فلاحی مدنی)

یہ بھی مقالات سیرت کا ایک بہترین مجموعہ ہے...

5. اردو ادب میں سیرت نگاری کی ارتقا (از ڈاکٹر محمد محسن)

یہ پی ایچ ڈی مقالہ ہے جس میں اردو سیرت نگاری کے ارتقائی مراحل قلم بند کیا گیا ہے. اس مقالہ کا مطالعہ ڈاکٹر عبد الجبار خان صاحب کے مقالے کے بعد کیجئے. آپ کو اس مقالے میں چند مزید اہم گوشوں کا حوالہ بھی ملے گا جو پہلے مقالہ میں شامل نہیں کئے گئے تھے..

6. اردو نثر میں سیرت رسولؐ (از پروفیسر انور محمود خالد)  یہ کتاب بھی اصل میں ڈاکٹر انور صاحب کا پی ایچ ڈی مقالہ تھا جو بعد میں کتاب کی شکل میں شائع کیا گیا. تحقیق کے اعتبار سے یہ اپنی مثال آپ ہے. کیا خوب انداز میں تاریخ مرتب کی گئی ہے. اس کا ضرور مطالعہ کیجئے..

7. سیرت نگاری: آغاز و ارتقاء (از پروفیسر نگار سجاد ظہیر صاحبہ)

یہ کتاب مارکیٹ میں نایاب ہو چکی ہے اور کافی پاپڑ بیلنے کے بعد بمشکل حاصل ہوئی... البتہ اس کی پی ڈی ایف نیٹ پر موجود ہے. عربی سیرت نگاری کے اہم مصادر کا تاریخی پس منظر عمدہ انداز میں پیش کیا گیا ہے. البتہ دور قریب کی مزید تحقیقات نے کئی ایسے مصادر کی طرف نشان دہی کی ہے جو پہلی یا دوسری صدی ہجری میں لکھی گئی تھی. ان کا حوالہ اس کتاب میں نہی ملتا اور اگر ذکر کیا بھی گیا ہے تو اجمالی نوعیت کا,,, مگر اس کے باوجود یہ کتاب اپنی اہمیت کی حامل ہے اور لائق مطالعہ ہے...

8. خطبات سیرت: مصادر سیرت کا تجزیاتی مطالعہ (از پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقیؒ)

یہ دراصل پروفیسر صاحب مرحوم کے خطبات کا مجموعہ ہے جو اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں منعقد کئے گئے تھے. اس میں سیرت نگاری کے مصادر کا نہ صرف تجزیہ کیا گیا ہے بلکہ تاریخی پس منظر پر نقد بھی کی گئی ہے...

9. مولانا ڈاکٹر سید عزیز الرحمن صاحب کی تین کتب:

اردو سیرت نگاری کے مناہج و اسالیب, پاکستان میں اردو سیرت نگاری, اردو میں منظوم سیرت نگاری...

مولانا صاحب مدظلہ دور حاضر میں اردو سیرت نگاری کے حوالہ سے از خود ایک مرجع ہیں. بلکہ چلتے پھرتے سیرت کا انسائیکلوپیڈیا ہیں. ان کی یہ تینوں کتب سیرت نگاری کی تاریخ کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہیں. اللہ تعالیٰ مولانا صاحب کو مزید برکت عطا فرمائے اور ان کے قلم سے سیرت کے مختلف گوشوں کو دریافت کرنے اور ان کے مفاہیم ہم جیسے عامی حضرات کو سمجھانے میں مدد فراہم کریں اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے...

10. مطالعہ سیرت: اکیسویں صدی میں (از پروفیسر محمد عارف خان)

دور جدید میں سیرت نگاری کے چند اہم مصادر کا تجزیاتی مطالعہ کرنا مقصود ہو تو اس کتاب ک مطالعہ کیجئے جو دو جلدوں پر مشتمل ہے

11. تاریخ تدوین سیرت (از مولانا عبد اللہ عباس ندوی)

یہ کتاب سیرت نگاری کی ابتدائی تاریخ کے ساتھ مضامین سیرت کا بھی اجمالی نوعیت کا احاطہ کرتی ہے.

12. علوم السیرہ: اصول و مصطلحات (از مولانا عثمان غنی نعمانی)

تاریخی اعتبار سے اس کتاب کو علوم سیرت کی پہلی اردو کتاب ہونے شرف حاصل ہے. البتہ دور جدید میں علوم سیرت کے عنوان سے متعدد کتابیں اردو میں لکھی جا چکی ہے جن کے بارے پھر کسی دن بات ہو گی...

13. جدید ہندوستان میں اردو سیرت نگاری: میزان نقد میں (از پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقیؒ)

تنقیدی جائزہ لینے کے لیے یہ کتاب کافی اہم ہے...

14. عہد جدید میں خواتین کی سیرت نگاری: ایک تنقیدی مطالعہ (از پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقیؒ)

سیرت نگاری میں چونکہ خواتین اہل علم کا بھی ایک اہم حصہ ہے تو پروفیسر صاحب کے اس مقالہ میں ان کی ایک اجمالی تاریخ کشی کے ساتھ تنقیدی جائزہ بھی لیا گیا ہے...

15. دور جدید میں سیرت نگاری کے رجحانات

یہ مجموعہ مقالات ایک کانفرنس کی پروسیڈنگز ہیں جو اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں منعقد کی گئی.... اس میں کئی اہم نوعیت کے مقالات ہیں جو آغاز و ارتقاء کا احاطہ کرتے ہیں...

16. تاریخ تدوین سیرت و مغازی

مکمل تحریر اور تبصرے>>