Wednesday 27 March 2024

تفسیر روح القرآن مع تفسیر جلالین جلد دوم پارہ 6 تا 10
TAFSEER ROOH UL QURAAN MAA TAFSEER JALALAIN

تفسیر روح القرآن مع تفسیر جلالین (مترجم)

جلد دوم : پارہ 6 تا 10

اردو ترجمہ تفسیر جلالین از : مفتی  عزیز الرحمن عثمانی ( مفتی اعظم و اول دارالعلوم دیوبند)

حاشیہ و تفسیر روح القرآن از : مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی

پیشکش : طوبی ریسرچ لائبریری

16 رمضان المبارک 1445 ہجری

TAFSEER ROOH UL QURAAN MAA TAFSEER JALALAIN

TARJUMA TAFSEER JALALAIN BY : MUFTI AZIZ U RAHMAN USMANI

TAFSEER ROOH UL QURAAN BY : MUFTI FUZAIL U RAHMAN HILAL USMANI

VOL : 2 ( PARA 6 TO 10)

DOWNLOAD

#TOOBAA_POST_NO_599

مزید کتب کے لیئے دیکھیئے  صفحہ " قرآنیات

 

حضرت مفتی عزیز الرحمن عثمانی: حیات و خدمات کے چند درخشاں پہلو

حضرت مفتی عزیز الرحمن عثمانی : مفتی اعظم اول دارالعلوم دیوبند 

حیات و خدمات کے چند درخشاں پہلو

دارالعلوم دیوبند کا قیام ایسے دور میں ہوا جب ہندوستانی مسلمانوں کے ہاتھوں سے تخت و تاج چھن چکا تھا، مذہب اسلام پر چہار جانب سے حملے ہورہے تھے۔ برطانوی حکومت نے اپنے سامراج کو استقامت بخشنے کے لئے عقائد پر حملہ کرنا شروع کردیا تھااور عیسائی دنیا کے نامور مبلغین کی جماعت ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں عیسائیت کی تبلیغ کے لئے پھیل گئی تھی۔ ایک طرف حکومت کے چھن جانے کا غم تھا تو دوسری جانب مسلمانوں کے دین و ایمان اور عقائد کے تحفظ کا سنگین مسئلہ درپیش تھا۔ ایسے پُر پیچ اور پُر آشوب دور میں چند جیالوں نے مسلمانوں کی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ کی واپسی اور ان کے دین و ایمان کے تحفظ کی خاطر دیوبند کی سرزمین پر ایک ادارہ قائم کیا۔  دارالعلوم کے قیام میں جن اہم اور بزرگ اشخاص نے  کردار ادا کیا ہے ان میں مولانا قاسم نانوتوی کے علاوہ مولانا فضل الرحمن عثمانی ؒ کی ذات گرامی بھی ہے۔  مولانا فضل الرحمن عثمانی ایک جہاندیدہ اور متقی انسان تھے، انہوں نے دارالعلوم کی تعلیم و ترقی اور بہتری کے لئے اپنے آپ کو وقف کردیا تھا، اور شاید یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو ایسی نادر و نایاب اولاد سے نوازا ہے جن کی نظیر بمشکل کسی فرد واحد کے گھرانے میں نظر آتی ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے مفتی اعظم مفتی عزیز الرحمن عثمانی، مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا حبیب الرحمن عثمانی اور صدر مہتمم دارالعلوم دیوبند علامہ شبیر احمد عثمانی جیسی ہستیوں کو اللہ تعالی نے آپ کے آنگن میں پھول کی شکل میں بھیجا جنہوں نے بعد کے ادوار میں عالم اسلام کی راہنمائی کا اہم فریضہ انجام دیا ہے۔

پیدائش اور ابتدائی تعلیم

مفتی عزیز الرحمن عثمانی کی پیدائش روداد دارالعلوم کے اعتبار سے 1275 ہجری مطابق 1859 عیسوی ہے، پیدائش کے موقع پر آپ کا تاریخی نام "ظفرالدین” رکھا گیا، اور واقعتا اللہ تعالی نے آپ کو "ظفر” بناکر پیدا کیا تھا اور آپ کی مکمل زندگی اس کی پرتو رہی تھی۔ حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمی مفتی عزیز الرحمن عثمانی کے علاتی بھائی بابو سعید احمد کے حوالے سے لکھتے ہیں: "آپ فطری طور پر حلیم، بردبار اور صبر و ضبط کی صلاحیتیں رکھتے تھے۔ بچپن میں بھی آپ کو دوسرے بچوں کی طرح خلاف مزاج بات پر واویلا اور شور و ہنگامہ کرتے نہیں دیکھا گیا۔اگر کسی وقت کوئی خلاف مزاج بات ہوتی اور قلب پر زیادہ اثر ہوتا تو گھر کے کسی کونے میں جاکر سبک لیتے، شکوہ شکایت نہ کرتے”۔ آپ کے والد ماجد مولانا فضل الرحمن صاحب نے خود کو دارالعلوم کےلئے وقف کردیا تھا، چنانچہ مولانا فضل الرحمان صاحب کے تمام بچوں کی مکمل تعلیم احاطہ دارالعلوم میں ہوئی ہے۔ چنانچہ جب دارالعلوم دیوبند میں درجہ حفظ کا آغاز کیا گیا تو اس کار خیر کے لئے حافظ نامدار خاں صاحب کا تقرر عمل میں آیا، حافظ نامدار خاں صاحب ایک منجھے ہوئے اور مشاق استاذ تھے۔ طلبہ کرام پر آپ کی خصوصی توجہات نے دارالعلوم میں درجہ حفظ کو کامیابی و بلندی کے اعلی معیار تک پہنچادیا تھا۔ مفتی عزیزالرحمان عثمانی نے بھی اپنے حفظ قرآن کا آغاز ان کے پاس کیا اور تکمیل کی سعادت بھی انہیں کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرکے ہوئی ہے۔

حفظ قرآن مجید کے بعد عربی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا، عربی تعلیم میں آپ کی محنت و  جفاکشی اور لگن نے آپ کی صلاحیت میں خوب جلا بخشا تھا، جس کے نتیجہ میں آپ کی علمی استعداد دیگر طلبہ کے مقابلہ میں کافی پختہ اور اعلی تھی۔ 1295 ہجری میں دورہ حدیث شریف سے آپ اعلی نمبرات کے ساتھ کامیاب ہوئے۔ مفتی عزیز الرحمن عثمانی ان خوش نصیب افراد میں سے ہیں جنہیں حضرت مولانا یعقوب نانوتوی، شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی، حضرت مولانا سید احمد دہلوی اور حضرت مولانا عبد العلی جیسے اصحاب علم و فضل سے خوشہ چینی کرنے کا موقع نصیب ہوا تھا۔

عملی زندگی کا آغاز

مفتی عزیز الرحمن عثمانی باصلاحیت اور قابل نوجوان تھے۔ فراغت کے بعد متصلا اکابرین دارالعلوم دیوبند نے اس نگینہ کو مزید تراشنے اور اس میں جِلا بخشنے کے لئے معین مدرس کے طور پر تقرر کرلیا۔ جس طرح آپ نے تعلیمی سلسلہ اکابرین کی زیر سرپرستی مکمل کیا تھا آپ نے تدریسی زندگی کا آغاز بحیثیت معین مدرس اساتذہ دارالعلوم کی زیر نگرانی کیا۔ علاوہ ازیں، مولانا یعقوب نانوتوی (شیخ الحدیث و صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند) کی زیر نگرانی فتوی نویسی کی مشق شروع کی۔ مولانا یعقوب نانوتوی، بانی دارالعلوم دیوبند مولانا قاسم نانوتوی کے رفیق اور استاذ الکل مولانا مملوک علی نانوتوی کے صاحبزادے ہیں۔ کچھ دنوں بعد باعتبار ضرورت مفتی عزیز الرحمن عثمانی کو مدرسہ اسلامیہ اندر کوٹ میرٹھ بھیج دیا گیا، یہاں رہتے ہوئے آپ نے درس و تدریس اور طلبہ کرام کی تربیت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ ہمہ وقت اپنے علمی کام میں منہمک رہا کرتے تھےاور طلبہ کرام میں اعلی استعداد پیدا کرنے کی تگ و دو میں مشغول رہا کرتے تھے۔

مفتی عزیز الرحمن عثمانی دارالعلوم دیوبند میں

1892 میں اکابرین دارالعلوم دیوبند نے آپ کو دارالعلوم بلا لیا، اور اسی دور میں نائب مہتمم کے عہدہ کے لئے آپ کا انتخاب ہوا تھا۔ روداد دارالعلوم 1924 میں آپ کےاحوال کو بیان کیا گیا ہے: "مولوی عزیز الرحمن صاحب نے فراغت کے بعد بطور معین المدرس دارالعلوم میں درس دیا اور حضرت مولانا یعقوب صاحب کی نگرانی میں افتاء کا کام بھی کیا، اسی زمانے میں ان کو داعیہ طریقت پیدا ہوا، خاندان نقشبندیہ میں حضرت مولانا رفیع الدین مہتمم ثانی دارالعلوم دیوبند کے   ہاتھ پر بیعت کی، چند سال کی ریاضت و مجاہدہ کے بعد اجازت سلسلہ حاصل ہوئی۔ چند سال تک میرٹھ کے مدرسہ اسلامیہ واقع اندر کوٹ میں مدرس رہے، اس زمانہ میں آپ کو دوبارہ داعیہ حج پیدا ہوا، اس سفر میں آپ کا حج کے ساتھ یہ بھی مقصد تھا کہ شیخ المشائخ حضرت حاجی امداد اللہ قدس سرہ کی خدمت میں قیام فرمائیں۔ چنانچہ دیڑھ سال آپ کا اس سفر میں صرف ہوا، اور حضرت حاجی صاحب نے بھی آپ کو مجاز فرمایا۔ شوال 1305 ہجری مطابق 1887 میں تشریف لے گئے تھے اور صفر 1307 ہجری مطابق 1889 میں واپس تشریف لائے۔ 1309 ہجری مطابق 1892 میں آپ کو میرٹھ سے دیوبند بلالیا گیا، اس وقت سے برابر دارالعلوم کی خدمت میں مصروف ہیں، آپ اس وقت مفتی مدرسہ ہیں، لیکن حدیث و تفسیر اور فقہ کے چند سبق آپ سے متعلق رہتے ہیں”۔  

بیعت و خلافت

اگر تاریخ ہند کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح اور بین طور پر سامنے آتی ہے کہ ہمارے اسلاف و اکابرین نے ابتدا سے ہی علم و عمل دونوں کے حصول کی راہ میں تگ و دو کیا تھا۔ زمانہ قدیم اور ماضی قریب تک مدارس میں پڑھنے اور پڑھانے والوں کا عام معمول تھا کہ علم کے ساتھ ساتھ وہ راہ سلوک کے بھی راہی اور متلاشی ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اکابرین دن کی روشنی میں تشنگان علوم نبویہ کی سیرابی کے سامان فراہم کرتے تھے اور دیگر خالی اوقات میں راہ سلوک کے ذریعہ خلق خدا کی راہنمائی کا فریضہ انجام دیا کرتے تھے۔ مفتی عزیز الرحمن عثمانی نے بھی تعلیم سے فراغت کے بعد بیعت و خلافت کے راستہ کو اپنایا۔ حکیم الاسلام قاری محمد طیب قاسمیؒ فتاوی دارالعلوم میں لکھتے ہیں: "آپ (مفتی عزیز الرحمن عثمانی) مولانا شاہ رفیع الدین صاحب دیوبندی قدس سرہ مہتمم ثانی دارالعلوم دیوبند کے ارشد خلفاء میں سے تھے اور سلسلہ نقشبندیہ کے صاحب حال اور ممتاز مشائخ میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ آپ کے فیوض باطنی کا سلسلہ دور دور تک پھیلا۔ میرٹھ میں حضرت ممدوح کے سلسلہ کا ایک بڑا حلقہ تھا۔ حضرت مولانا قاری محمد اسحاق صاحب آپ کے خلفائے مجازیت میں سے تھے۔ میں نے حضرت قاری صاحب کی بہت کافی اور بار بار زیارت کی ہے۔ نہایت رفیع المرتبت بزرگ اور رفیع المقامات ہستی تھے۔ قاری صاحب ممدوح کے مجاز خلفاء میں سے اول نمبر کی شخصیت فاضل یگانہ حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنی کی ہے جنہوں نے دارالعلوم میں حضرت الاستاذ مولانا انور شاہ کشمیری سے فن حدیث کی تکمیل کرکے ابتدا میں بطور معین المدرسین دارالعلوم میں کار تدریس انجام دیا۔ پھر جامعہ اسلامیہ ڈابھیل میں حضرت شاہ صاحب کی معیت میں بطور استاذ حدیث درس جاری کیا، تقسیم ملک کے بعد مولانا ممدوح پاکستان تشریف لے گئے اور جامعہ اشرفیہ ٹنڈوالایار کے ناظم کی حیثیت سے کام کیا۔ اس کے بعد آپ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ آج بحمداللہ مدینہ میں ایک حلقہ ہے، یہ وہی سلسلہ نقشبندیہ کا فیض ہے جو حضرت مفتی اعظم (مفتی عزیز الرحمن عثمانی) کے سلسلہ سے پہنچا”۔ علاوہ ازیں آپ کو حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ سے بھی اجازت حاصل تھی ااور آپ نے سفر حج میں تقریبا ڈیڑھ سال تک حاجی صاحب کی خدمت میں رہ کر سلوک و معرفت کے اسرار و رموز کو سیکھا تھا۔مفتی عزیز الرحمن عثمانی کو اللہ تعالی نے سلوک و معرفت کے اس مقام پر پہنچادیا تھا کہ جب آپ تلاوت فرماتے تو ایسا محسوس ہوتا کہ تمام پوشیدہ احوال کھل کر سامنے آگئے ہوں۔ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ فرماتے ہیں: "مفتی صاحب قبلہ حسب دستور وہی اپنی نرم نرم سبک رو آواز میں قرآن پڑھتے چلے جاتے تھے، اسی سلسلہ میں قرآنی آیت "وبرزوا للہ الواحد القھار” (اور کھل کر لوگ سامنے آگئے اللہ کے جو اکیلا ہے اور سب پر غالب ہے) پر پہنچے، نہیں کہہ سکتا کہ مفتی صاحب خود کس حال میں تھے، کان میں قرآن کےیہ الفاظ پہنچے اور کچھ ایسا معلوم ہوا کہ کائنات کا سارا حجاب سامنے سے اچانک ہٹ گیا اور انسانیت کھل کر اپنے وجود کے آخری سرچشمے کے سامنے کھڑی ہے، گویا جو کچھ قرآن میں کہا گیا تھا محسوس ہوا کہ وہی آنکھوں کے سامنے ہے، اپنے آپ کو اس حال میں پارہا تھا، شاید خیال یہی تھا کہ غالبا میرا یہ ذاتی حال ہے، مگر پتہ چلا کہ میرے اغل بغل جو نمازی کھڑے ہوئے تھے ان پر بھی کچھ اسی قسم کی کیفیت طاری تھی، مولانا شبیر احمد صاحب کی بے ساختہ چیخ نکل پڑی،یاد آرہا ہے کہ چیخ کر غالبا وہ تو گرپڑے، دوسرے نمازی بھی لرزہ براندام تھے ، چیخ و پکار کا ہنگامہ ان میں بھی برپا تھا”۔

مفتی عزیز الرحمن عثمانی بحیثیت مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند

علمی سلسلوں میں سب سے اہم اور مشکل کام مفتی کا کام ہے۔ شرعی احکام انسان کی پوری زندگی پر پھیلے ہوئے ہیں، انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جو شرعی احکام کے حدود سے باہر ہو۔ ایک مسلمان کی زندگی پہلی سانس سے اخیر سانس تک شرعی احکام کی پابند ہے۔ مرور ایام کے ساتھ انسانی احوال بدلتے ہیں اور انسان کے بدلنے کےساتھ مزاج بھی بدل جاتے ہیں، اس لئے اہل فتاوی کے لئے ظاہری علوم کے علاوہ فراست ایمانی اور فقیہانہ بصیرت بھی بہت ضروری ہے جو رحمت الہی سے کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔ایک کامیاب اور لائق مفتی اسے تصور کیا جاتا ہے جو حالات اور انسانی تقاضوں سمیت شرعی حدود میں رہ کر احکام شرعیہ سے لوگوں کو آگاہ کرائے اورانہیں مسائل سے واقف کرائے۔

حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمی لکھتے ہیں: "دارالعلوم دیوبند جیسے علمی مرکز کے دارالافتاء کے لئے ایک ایسی شخصیت کی ضرورت تھی جس میں خود بھی مرکز بن جانے کی صلاحیتیں ہوں اور علم و تفقہ کی امتیازی استعداد کے ساتھ صلاح و تقوی اور برگزیدگی کی شانیں اس میں موجود ہوں۔ چنانچہ دارالافتاء کے منصوبہ کے ساتھ یہاں کے اکابر کو پہلی فکر منصب افتاء اور خصوصیت کے ساتھ دارالعلوم جیسے مقدس ادارہ کے دارالافتاء کے شایان شان مفتی کے انتخاب کی ہوئی جس کے مضبوط کاندھوں پر اس عظیم ترین منصب اور وزن دار ادارہ کا بار رکھا جائے۔  1310 ہجری مطابق 1894 میں حضرت قطب عالم مولانا رشید احمد گنگوہی قدس سرہ سرپرست ثانی دارالعلوم دیوبند کی تجویز سے دارالافتاء کے لئے باضابطہ عہدہ افتاء تجویز ہوا اور حضرت اقدس نے اپنی فراست باطنی سے وہ تمام جوہر جو ایک ذمہ دار مفتی میں درکار ہیں حضرت مفتی اعظم میں دیکھ کر آپ کو عہدہ افتاء کے لئے نامزد فرمایا۔ اس لئے حضرت مفتی اعظم (مفتی عزیز الرحمن عثمانی) دارالعلوم کے مفتی ہی نہیں بلکہ یہاں کے عہدہ افتاء کا نقطہ اول بھی ہیں، جس کا آغاز ہی حضرت ممدوح کی ذات گرامی سے کیا گیا ۔ آپ یہاں کے قصر افتاء کے لئے خشت اول ثابت ہوئے جس پر آگے چل کر تعمیر کھڑی ہوئی”۔

جس دور اور زمانے میں مفتی عزیز الرحمن عثمانی کو دارالعلوم دیوبند کے منصب افتاء کے لئے منتخب کیا گیا تھا، اس زمانہ میں فتاوی کی نقلیں رکھنے کا کوئی رواج نہیں تھا۔ سوالات آتے، آپ جواب مرحمت فرمادیتے لیکن ان کو محفوظ نہیں کیا جاتا تھا۔ بیس سال بعد 1330 ہجری مطابق 1912 میں یہ نظام قائم کیا گیا کہ فتاوی کی نقلیں رکھی جائیں، لیکن ان ایام میں بھی بعض ناگوار حالات کی بناپر کچھ فتاوے نقل نہیں کئے جاسکے ہیں۔ مفتی عزیز الرحمن عثمانی کے جو فتاوی موجود ہیں وہ تقریبا 16 سال کی مدت کے ہیں۔ ان 16 سال کی مدت میں مفتی اعظم نے کیسے اور کتنے فتاوے لکھے ہیں اس کے متعلق مرتب فتاوی مفتی ظفیر الدین مفتاحی صاحب لکھتے ہیں: "حضرت مفتی علام قدس سرہ ایک طرف عارف باللہ صاف باطن ہیں اور دوسری طرف علوم دینیہ فقہیہ میں رسوخ تامہ اور ملکہ راسخہ کے مالک تھے، آپ کے دور افتاء کے کم سے کم سوا لاکھ مسائل جن کے جوابات آپ نے لکھے ہیں انہیں خاکسار نے بار بار بغور پڑھا ہے اور مختلف نقطہ نظر سے اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ آپ کا انداز فکر سلجھا ہوا، صاف ستھرا اور پختہ تھا، کہیں کسی میں آپ تذبذب کی راہ اختیار نہیں کرتے بلکہ مسائل کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں اور جو جوابات تحریر فرماتے ہیں وہ ہر پہلو سے ٹھوس اور مکمل ہیں، کمال یہ ہے کہ دماغ و حافظہ کبھی خیانت نہیں کرتا ہے۔ ذہن جب جاتا ہے تو صحت ہی کی طرف یہی وجہ ہے کہ جوابات بے جا طول اور تکلف دہ اختصار سے پاک ہیں۔ انداز بیان سلیس  اور جامع، معمولی لکھا پڑھا آدمی بھی آسانی کے ساتھ آپ کا جواب سمجھ لیتا ہے کسی کو کوئی الجھن پیش نہیں آتی ہے”۔

مفتی عزیزالرحمان عثمانی کی علمی خدمات کو شمارکرنے اور ان کے تبحر علمی کا اندازہ لگانے کے لئے ان کے لکھے ہوئے فتاوی کافی و شافی ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ ان کا تفقہ اور اشتغال فی الفقہ ان کی دیگر علمی صلاحیتوں اور کارناموں پر مکمل طور پر چھایا رہا ہے۔ فقہ و فتاوی کے علاوہ آپ نے علم تفسیر میں بھی کافی کچھ ذخیرہ چھوڑا ہے۔ تفسیر معالم التنزیل کا خلاصہ آپ نے مرتب فرمایا جو اس دور میں آگرہ سے  "منحۃ الجلیل فی بیان مافی معالم التنزیل” کے نام سے شائع ہوا تھا، اب شاید یہ کتاب بازار میں دستیاب نہیں ہے، البتہ اس کا ایک نسخہ جامعہ ہمدرد میں موجود ہے۔ مفتی عزیز الرحمن صاحب نے دوسرا کام جلالین شریف کے اردو ترجمہ کا کیا ہے۔ آغاز میں اسے قرآن مجید کے حاشیے پر چھاپا گیا تھا لیکن آب "فیصل پبلی کیشنز دہلی جامع مسجد اسے "تفسیر روح القرآن مع تفسیر جلالین” کے نام سے کئی جلدوں میں شائع کررہا ہے۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کی معرکۃ الآراء تصنیف "میزان البلاغۃ” کا اردو ترجمہ آپ کی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے،  ان کے علاوہ آپ کے بیش قیمتی مضامین و مقالات "القاسم” اور "الرشید” میں شائع ہوئے ہیں وہ آپ کے نادر و نایاب علمی کارنامے ہیں۔

تواضع و انکساری

مفتی عزیز الرحمن عثمانی ایک پلند پایہ محقق، فقیہ، محدث اور خدا رسیدہ بزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت متواضع اور سیدھی طبیعت کے انسان تھے۔ دارالعلوم میں علوم و فنون کے دریا بہانے اور دارالافتاء میں عوامی مسائل کو سلجھانے کے بعد جو وقت میسر ہوتا اسے علاقہ اور محلے کے لوگوں کی تربیت اور خدمت میں لگایا کرتے تھے۔ آپ کی بابت مشہور ہے کہ صدر مفتی ہونے کے باوجود ہر روز بعد نماز عصر بازار تشریف لے جاتے اور گٹھری بھر کر سامان لایا کرتے تھے، دراصل آپ کا معمول تھا کہ پورے محلہ کی بیوہ اور بوڑھی عورتوں کا سودا سلف بازار سے خرید کر بذات خود لاتے اور ان کے گھروں کو پہنچایا کرتے تھے۔ اگر کبھی کسی کو سامان میں کوئی نقص نظر آتا تو اسے بخوشی واپس لیتے اور بدل کر لایا کرتے تھے۔ مولانا مناظر احسن گیلانی لکھتے ہیں: "دارالعلوم کے وہی مفتی اعظم جن کے تفقہ، تدین اور تصوف کے چرچوں سے ہندوستان گونج رہا تھا، دیکھنے والے انہی کو اس حال میں دیکھتے کہ عصر کے بعد بازار سے سودا سلف کی بھری گٹھری بغل میں دبائے چلے جارہے ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ اپنے گھر کی ضرورت کے سوا محلے ٹولے کی بیواؤں، بڑی بوڑھیوں کی فرمائشوں کا بڑا حصہ اس گٹھری میں بھرا ہوا ہے، اس میں پالک کا ساگ بھی ہے، اس میں شلجم بھی ہے، پیاز بھی ہے، لہسن بھی ہے، ادرک دھنیا، کوتمبر، پودینہ الغرض روز مرہ یہی دستور ہے، یہی وہ سبق تھا جو دارالعلوم کے احاطہ میں رہنے والے طلبہ کو دارالعلوم کے احاطے کے باہر بھی ملا کرتا تھا۔ اپنے اپنے ظرف کے مطابق جس کے لیے جتنا مقدر تھا اتنا حصہ حاصل کیا کرتا تھا”۔ برسات کے موسم میں محلہ کی ایک بڑی بی نے چھت ٹپکنے کی شکایت کی ، آپ نے مٹی وغیرہ کا انتظام کردیا لیکن بروقت مزدور میسر نہیں ہوسکا اور برسات شروع ہوگئی۔ برسات کے موسم میں اس بڑی بی کے چھت پر چڑھ گئے اور چھت کی مرمت کا کام مکمل کیا، بارش میں بھیگنے کی وجہ سے کئی دنوں تک بخار میں مبتلا رہے لیکن اس بڑی بی کو معلوم نہ ہوسکا کہ گھر کی چھت درست کرنے والا مزدور کون تھا۔ یہ وہ اللہ والے لوگ تھے جن کے دم سے دارالعلوم کا چرچہ اور فیض چار سو جاری و ساری ہے اور یہاں کے فارغین نے ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے نصب کئے ہیں۔ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔

دارالعلوم سے علیحدگی اور ڈابھیل میں قیام

دارالعلوم دیوبند کو قائم کرنے والوں نے کس اخلاص و للہیت کے ساتھ قائم کیا تھا کہ اس کے فیوض و برکات سے پورا عالم مستفید ہورہا ہے۔ ڈیڑھ صدی گزرنے کے بعد بھی آج تک یہ ادارہ اپنی علمی شناخت کو باقی رکھے ہے۔ لیکن اس طویل عرصہ میں بارہا دارالعلوم کو ایسے پرآشوب حالات سے دوچار ہونا پڑا ہے جسے تاریخ دارالعلوم کا سیاہ باب تصور کیا جاتا ہے۔ 1925 کے وسط میں طلبہ اور انتظامی امور سے متعلق دو چند افراد کے درمیان پیدا ہونے والی چشمک اس قدر طول پکڑ گئی کہ اس کے اثرات مسلسل تین سالوں تک باقی رہے۔ 1925 سے 1928 کے درمیان وقفہ وقفہ سے کچھ نہ کچھ ایسے واقعات رونما ہوتے چلے گئے جس کی وجہ سے لوگوں میں اختلاف رائے کی کھائیاں گہری ہوتی چلی گئی۔ اور بالآخر 1346 مطابق 1928 کو دارالعلوم سے علامہ انور شاہ کشمیری، مفتی عزیز الرحمن عثمانی، علامہ شبیر احمد عثمانی اور ان کی رائے سے اتفاق رکھنے والے بیشتر اساتذہ کرام یا تو مستعفی ہوگئے یا جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کو روانہ ہوگئے۔ گجرات کے سملک میں واقع یہ مدرسہ اہل ہند کے لئے ضرور غیر متعارف تھا لیکن آسمان علم و عمل کے ان چمکتے دمکتے ستاروں کی یکبارگی آمد نے اسے برصغیر کا کامیاب اور بافیض ادارہ بنادیا۔ ملک و بیرون ملک سے طلبہ کرام کا ہجوم ڈابھیل کو روانہ ہونے لگا۔

سفر آخرت

دارالعلوم دیوبند سے جدائی اور فرقت مفتی عزیز الرحمن عثمانی کے لئے حادثہ فاجعہ سے کم نہیں تھا۔ شاید یہی قلق تھا کہ روز بروز آپ کی صحت گرتی چلی گئی۔ جس ادارہ کی چہار دیواری میں آپ کا بچپن اور عملی زندگی کی تقریبا چار دہائیاں گزری تھی اس سے دوری جان لیوا ثابت ہونے لگی تھی۔ 1347 ہجری میں جامعہ اسلامیہ ڈابھیل میں علامہ انور شاہ کشمیری کی علالت کی وجہ سے اہل مدرسہ کی فرمائش پر آپ ربیع الثانی کے وسط میں ڈابھیل تشریف لے گئے۔مفتی عزیز الرحمن عثمانی نے بخاری شریف کے باقی ماندہ اسباق پڑھائے اور بخاری شریف کی تکمیل فرمائی، لیکن ڈابھیل میں قیام کے دوران آپ کی طبیعت میں گراوٹ شروع ہوگئی تھی۔ جمادی الثانی میں آپ دیوبند تشریف لائے، یہاں علاج و معالجہ کا سلسلہ شروع کیا گیا لیکن افاقہ نہیں ہوسکا ۔ چند دنوں تک بستر علالت پر رہے اور بالآخر 17 جمادی الثانی 1347 مطابق 1928 داعی اجل کو لبیک کہا۔ آپ کی نماز جنازہ دیوبند کی مشہور بزرگ شخصیت حضرت مولانا اصغر حسین ؒ صاحب نے پڑھائی اور مزار قاسمی آخری آرام گاہ ثابت ہوئی۔ آپ علم و عمل، اخلاق و ملکات، معرفت و بصیرت، فقاہت و درایت، تواضع و انکساری، اور فہم و ادراک اور فراست ایمانی کی بے مثل شخصیتوں میں سے ایک پلند پایہ شخصیت کے مالک تھے جن سے دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء کو زینت بخشی گئی اور دارالعلوم کے اول مفتی اعظم ہونے کا شرف ملا تھا۔

(مآخذ : اسجد عقابی ڈاٹ کام)

 

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔