تفسیر کشف الرحمن
جلدسوم
سورة یوسف تا سورۃ قصص
ترجمہ وتفسیر
سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید دہلویؒ
پیشکش : طوبیٰ ریسرچ لائبریری
Tafseer Kashf-ur-Rahman
Vol : 3
Surah Yusuf ta Surah Al-Qasas
Tarjuma o Tafseer
Sahban-ul-Hind Hazrat Maulana Ahmad Saeed Dehlvi (R.A)
#TOOBAA_POST_923
تفسیر کشف الرحمٰن ، منہج و اسلوب کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ
(مفسر مولانا احمد سعید دہلویؒ)
مقالہ برائے ایم فل علوم اسلامیہ
(مع اضافی مضامین بر تفسیر کشف الرحمٰن)
تحقیق : محترمہ آمنہ ثناء اللہ
پیشکش : طوبیٰ ریسرچ لائبریری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
280سے زائد کتب ِقرآنیات کے لیئے دیکھیئے :قرآنیات (طوبیٰ)۔
مزید کتب کے لیئے دیکھیئے صفحہ " قرآنیات "۔
٭آمنہ ثناء اللہ
(ایم فل اسلامیات:فیصل آباد یونیورسٹی)
برصغیر میں قرآن فہمی کے رجحانات اور تفسیرکشف الرحمن
قرآن مجید اللہ کی مقدس کتاب ہےجس میں لاریب فیہ کی گنجائش نہیں جو انسان کی ہدایت اور اُخروی نجات کا ذریعہ ہے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ قرآن مجید سے وابستگی اور اطاعت شعاری نے مسلمانوں کے اذہان کو وسعت کے ساتھ ہمیشہ روشن رکھا۔ نزولِ قرآن کی ابتداء ہی سے حضور کے زیر سایہ اس کی وسعتوں کی تلاش جاری ہوئی۔ جہاں کہیں ناطق قرآن کو مشکل پیش آتی اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے اس کی وضاحت فرما دیتے اور اگر کبھی شک اور بے یقینی سی کیفیت محسوس ہوئی تو حضور سے یقین کی دولت نصیب ہو جاتی اور لفظ و معنی کا رشتہ مضبوط و مستحکم ہوتا رہا۔
اس دور میں مسلمانوں کو جو بھی مشکلات پیش آئیں تو حضور کی طرف رجوع کرتے تھے۔ اس لئے ارشاد خداوندی ہے۔
”وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ“[1]؎
قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا۔ ایسی زبان جو فصیح و بلیغ ہے۔ اس دور کے پیش آمدہ مسائل سے صرف حضور آگاہی فراہم کر سکتے تھے کیونکہ آپ افصح اللسان تھے۔
علامہ جلال الدین سیوطی ”الاتقان“ میں لکھتے ہیں:
”قرآن کریم افصح العرب حضرت محمد پر عربی زبان میں نازل ہوا۔ حضرات صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین اس میں بیان کردہ مسائل و احکام سے آگاہ تھے۔ البتہ اس کے باطنی دقائق و حقائق، بحث و نظر حضور سے دریافت کرنے پر ہی معلوم ہو سکتے تھے۔“[2]؎
نبی کریمﷺ کی خوبیوں میں سے ایک خوبی آپ کو پوری انسانیت کے لیےنبئ رحمت بنا کر بھیجاگیا۔ اس لیے قرآن کے فہم کی تگ ودو اسی دور سے شروع ہوگئی تھی ۔ جب دوسرے ملکوں میں تبلیغ کے لیے جو وفود بھیجے جاتے تھے وہ اسی زبان میں ان سے گفتگو کرتے جس زبان کو وہ سمجھنے والے ہوتے تھے۔ اس لیے عربی نہ جاننے والوں تک قرآن مجید کا پیغام قرآن کے ترجموں کے ذریعے پہنچے گا۔ جس کا آغاز عہد صحابہ سے ہو گیا تھا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ عظیم ہستیاں ہیں جن کا مفاہیم کو سمجھنا اور ان کا فرق مفسرین کے پیش نظر رہا۔ علامہ سر خسی حنفیؒ نے نقل کیا ہے کہ حضرت سلمان فارسی نے قرآن مجید یا اس کے بعض اجزء کا ترجمہ فارسی میں فرمایا۔[3]؎(المبسوط۔ کتاب الصلوۃ، باب لیفیۃ الدخول فی الصلوۃ: 1/35)
خلفائے راشدین کا اثر تابعین اور تبع و تابعین پر بھی پڑا۔ تابعین نے ان نسخوں کو کتابی شکل میں مدون کیااور انہی کی بنیاد پر آگے چل کر بڑی بڑی تفاسیر مرتب ہوئیں۔ تھوڑے ہی عرصہ میں خطہ عرب قرآن مجید کی تعلیمات سے روشن ہو گیا۔ یہ روشنی جب عرب کے دیگر ممالک اور اقوام تک پہنچی تو وہاں کے لوگ عربی زبان سے ناواقف تھے۔ قرآن کی تلاوت تو ہوتی تھی لیکن اس کے مفاہیم کو سمجھنے سے قاصر تھے۔ کیوں کہ قرآن کا مقصد محض تلاوت ہی نہیں بلکہ اس کے احکام پر عمل آوری ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے:
”كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰصِرَاطِ الْعَزِيزِالْحَمِيدِ“[4]؎
اس آیت کی روشنی میں صرف عرب کی قوم ہی نہیں بلکہ تمام عالم کے انسان اس حکم میں داخل ہیں کیونکہ ہر شخص عربی زبان کو نہیں سمجھ سکتا تھا۔
جناب جمیل نقوی اپنی کتاب ”قرآن مجید کے اردو تراجم“ میں اولین تفسیر کے بارے میں لکھتے ہیں:
”عبدالملک بن مروان نے سعید بن جبیر (وفات 95ھ) کو قرآن کی تفسیر لکھنے پر مامور کیا تھا۔“[5]؎
علماء کا بیان ہے کہ ابن الانباری کو 120 کتب تفاسیر کے نام یاد تھے۔[6]؎
ہندوستان اور پاکستان میں تفسیر کا آغاز و ارتقاء کب ہوا؟ اور سب سے پہلے کس نے تفسیر لکھی؟ اس کا تعین کرنا دقیق کام ہے۔ کیونکہ اب تک کوئی ایسی مستند تصنیف موجود نہیں جو اس سوال کا جواب متعین کر سکے۔ لیکن اس فن کا آغاز عربی تفاسیر سے ہوا۔ عربی میں سب سے پہلے کس نے تفسیر لکھی۔ کوئی پختہ رائے موجود نہیں۔ جمیل نقوی لکھتے ہیں کہ پاک و ہند میں سب سے پہلے عربی تفسیر ابو بکر اسحاق بن تاج الدین ابوالحسن (متوفی 736ھ) نے لکھی۔ دوسری تفسیر مولانا نظام الدین الحسن بن الحسین نے لکھی۔ اس طرح عربی تفاسیر لکھنے کا آغاز ہوا۔ [7]؎ برصغیر پاک و ہند کی عربی تفاسیر مکمل اور نامکمل کی فہرست ڈاکٹر سالم قدوائی ”ہندوستانی مفسرین اور ان کی عربی تفاسیر“ میں موجود ہے۔[8]؎
جیسے جیسے اسلام پروان چرھتا گیا قرآن مجید کی تفاسیر دوسری زبانوں میں لکھی جانے لگی۔ کیونکہ یہ ہر زمانے کی ضرورت اور وقت کا تقاضا ہوتا ہے تاکہ اس دور کے لوگوں کو پیغام الہی سمجھنے میں دقت محسوس نہ ہو۔ برصغیر کے سیاسی حالات کی وجہ سے اس خطے پر فارسی زبان کا اثرو نفوذ طویل عرصے تک رہا۔ برصغیر کے فارسی تراجم و تفاسیر قرآن کی تعداد دو سو پچاس سے زائد ہے۔ 730ھ میں حسن بن علقمی المعروف بہ نظام نیثاپوری دولت آبادی کا عربی تفسیر ”غرایب القرآن“ کے ساتھ کیا ہوا ترجمہ برصغیر میں پہلا فارسی ترجمہ کہلاتا ہے۔[9]؎ جبکہ جمیل نقوی اپنی کتاب ”قرآن مجید کے اردو تراجم“ میں فارسی کی مشہور تفسیر فتح اللہ شیرازی نے ”منہج الصادقین“ کے نام سے لکھی۔ جو شیعہ مسلک کے پیروکار تھے۔ اس کے علاوہ فخر الدین رازی متوفی 606ھ کی تفسیر ”مفاتیح الغیب“ المعروف تفسیر کبیر کا فارسی میں ترجمہ ہوا۔[10]؎ لیکن مولوی عبدالحق ”قدیم اردو“ میں شاہ ولی اللہ (1150ھ) کے ترجمے کو فارسی کا پہلا ترجمہ قرار دیا۔[11]؎ شاہ ولی اللہ نے قرآن مجید کے ترجمے کے ساتھ ساتھ مترجمین کی رہنمائی کے لیے ”مقدمہ در قوانین ترجمہ“ بھی فارسی زبان میں لکھا۔[12]؎
شاہ صاحب کا مقدمہ بہت اہم ہے۔ اس میں آیات کی ضروری تشریح اور مشکل مقامات کی وضاحت کے ساتھ اختصار سے کام لیا گیا ہے۔ پھر بھی شان نزول، ربط آیات، ناسخ و منسوخ، فقہی احکام اور تمثیلات کے اہم نکات پر گفتگو ہے۔[13]؎ ایک اور تصنیف ”الفوز الکبیر فی اصول التفسیر“ بھی فارسی زبان میں مرتب کی۔ اس کتاب میں تفسیر کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ ان اصولوں کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ علوم پنجگانہ، نظم قرآن، لطائف نظم قرآن، فنون تفسریح کی تشریح اور غرائب القرآن وغیرہ پر تفصیلی بحث کی ہے۔[14]؎ شاہ ولی اللہ کے بڑے بیٹے شاہ عبدالعزیز دہلوی نے ”فتح العزیز“ کے نام سے تفسیر لکھی جو تفسیر عزیزی کے نام سے مشہور ہے۔[15]؎
عربی زبان میں نازل کیے گئے قرآن کے مخاطب تمام بنی نوع انسان ہیں اس کا پیغام آفاقی اور اس کی ہدایت بے مثل ہے۔ قرآن کی اسی خصوصیات کی بنا پر اس کے مقامی زبانوں میں تراجم کیے گئے۔ کیونکہ مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد مختلف خطوں میں آباد تھی۔ ان کی تاریخ، تہذیب اور زبان مختلف تھی۔ علمائے وقت نے اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے قرآن مجید کومختلف زبانوں میں منتقل کیا تاکہ اس دور کے مکین اس ابدی نور سے مستفید ہوں۔
برصغیر میں اسلام جن راستوں سے ہوتا ہوا داخل ہوا ان میں سرزمین سندھ جو کہ باب الاسلام کے نام سے مشہور ہے نہایت اہم ہے۔ سندھ میں قرآنی خدمت کی تاریخ نہایت قدیم ہے۔
جہاں تک قرآن مجید کے ترجمہ کی روایت کا تعلق ہے تو اس کی ابتداء سب سے پہلے سندھی زبان میں ہوئی اور یہ ترجمہ تیسری صدی ہجری میں ہوا جو کہ ایک عراقی عالم نے کیا تھا[16]؎ ہندی زبان میں پہلا ترجمہ بزرگ بن شہریار کی روایت کے مطابق (270ھ) میں الور (روڑ) کے ہندو راجہ مہروک بن راٹک نے منصورہ (سندھ) کے حکمران عبداللہ عمر البہاری کو لکھا کہ:
ان یفسرلہ شریعۃ الاسلام بالھندیہ
شریعت اسلام کا ہندی میں حال لکھیے
ان یفسر لہ القرآن لھند
قرآن کا ہندی میں مطلب بیان کرے [17]؎
برصغیر کو یہ شرف حاصل ہے کہ قرآن مجید اور اسلامی تعلیمات و عقائد کو سب سے پہلے عربی سے اس خطہ ارض کی ایک زبان میں منتقل کیا گیا۔[18]؎
برصغیر کی مقامی زبانوں میں سرائیکی میں قدیم ترین ترجمہ مولوی احمد بخش کا ہے جو عیسوی سن کے اعتبار سے 1890ء اور ہجری تاریخ کے مطابق 1313ھ میں شائع ہوا۔[19]؎ دکن میں فاتحوں کے لشکروں کے ساتھ عوامی زبان بھی داخل ہوئی جو دلی میں مختلف زبانوں کے امتزاج سےپروان چڑھ رہی تھی۔
محمد تغلق کے عہد میں جب دلی کی ساری آبادی دولت آبادی کو منتقل ہوئی تو اس کے ساتھ بڑے بڑے اولیا کرام بھی کثیر تعداد میں آئے جنہوں نے اسلام کی اشاعت کو عوام و خواص میں پھیلایا۔ ان اولیاء کرام میں سے ایک بزرگ حضرت سید محمد حسینی بندہ نواز گیسودارؒ (متوفی 825) اور اس سلسلے کے بزرگوں نے دین کی جو گراں قدر خدمات انجام دیں تاریخ انہیں فراموش نہیں کر سکتی۔ [20]؎
تصوف کے میدان میں دکنی زبان میں وافر ذخیرہ موجود ہے۔ اہل قلم ڈیڑھ دو صدی تک اس زبان میں تصنیف و تالیف کا کام کرتے رہے۔ تصوف کے مقابلے میں تفسیر، حدیث اور فقہ پر کام کم ہوا۔ اس کی وجہ صوفیا نے تصوف کو اپنا موضوع مقدم بنایا۔[21]؎
اردو زبان میں قرآن کریم کی تعلیمات کو عام کرنے ،عوام تک پہنچانے اور احکامات الہی کو خاص و عام تک آگاہ کرنے میں اس زبان کے جاننے والوں کا ایک خاص حصہ ہے جو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اردو میں قرآن مجید کے تراجم و تفاسیر کا سلسلہ دسویں صدی ہجری سے شروع ہوا۔ لیکن یہ سلسلہ چند سپاروں اور سورتوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔ دسویں اور گیارھویں صدی ہجری میں تراجم قرآن کے ساتھ تفسیری حاشیوں کا اضافہ کر کے انہیں تفسیروں کا نام دیا گیا تھا۔ یہ تفاسیر تراجم قرآن کے ساتھ تفسیری مخطوطوں کی صورت میں مختلف کتب خانوں میں محفوظ ہیں۔[22]؎
ڈاکٹرحمید شطاری کے نزدیک عم یتسآلون کا ترجمہ اردو کے قدیم ترین تراجم میں سے ہے۔[23]؎ سورۃ یوسف کا ترجمہ گیارھویں صدی ہجری کے نصف آخر کی تالیف قرار دیا جاتا ہے۔[24]؎
تفسیر قرآن مجید از سورۃ مریم تا آخر عنوان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تفسیر سورۃ مریم سے لے کر سورۃ الناس تک ہے۔ لیکن مخطوطے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ چند سورتوں کا ترجمہ و تفسیر ہے۔ مثلاً سورۃ مریم، سورۃ طہ، سورۃ یٰسین، سورۃ صافات، سورۃ ص، سورۃ زمر اور پارہ عم کی تفسیر ہے۔[25]؎
۱۱۷۵ھ تا ۱۲۰۳ھ قرآن کے اردو تراجم کے لحاظ سے بہت ممتاز دور تھا۔
1۔ ترجمہ حکیم محمد شریف خاں دہلوی (متوفی 1222ھ) جو مکمل تھا مگر طبع نہ ہو سکا۔
2۔ تفسیر حقانی از سید شاہ حقانی 12061ھ مؤلفہ مولوی احسن مارہروی کے حوالے سے اس کا تذکرہ کیا گیا۔ لیکن اس ترجمہ کو بھی طبع ہونے کا موقع نہ ملا۔
3۔ ایک ترجمہ شاہ عالم کے عہد میں فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں ڈاکٹر جان گل کرسٹ کی سرپرستی میں کیا گیا لیکن طبع نہ ہو سکا۔[26]؎
شاہ عبدالعزیزؒ کے چھوٹے بھائی شاہ رفیع الدین کے متعلق یہ مشہور ہے کہ انہوں نے قرآن پاک کا اردو زبان میں لفظی ترجمہ کیا۔ لیکن شاہ رفیع الدین کی طرف اس ترجمہ کی نسبت مشکوک ہے۔ ابھی تک صراحتاً ایسی کوئی ٹھوس دلیل نہیں ملی کہ جس سے یہ ثابت ہو کا شاہ صاحاحب نے بذات خود ترجمہ تصنیف کیا۔[27]؎
لیکن شاہ صاحب نے ”تفسیر آیت“ نور کے نام سے تفسیر لکھی جو فارسی میں ہے اور صحیح سند سے ثابت ہے۔[28]؎ شاہ ولی اللہ دہلوی کے سب سے چھوٹے بیٹے شاہ عبدالقادر نے قرآن پاک کا اردو میں بامحارہ ترجمہ ور فوائد کے نام سے تفسیری حواشی تحریر فرمایا۔ جو سب سے پہلا مستقل، مکمل اور مطبوعہ ترجمہ ہے۔[29]؎
شاہ عبدالقادر کا پورا نام معین الدین عبدالقادر بن شاہ ولی اللہ ہے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد شاہ ولی اللہ سے حاسل کی۔ آپ کی عمر نو برس تھی کہ 1176ھ کو والد صاحب خالق حقیقی سے جا ملے۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد شاہ محمد عاشقؒ اور شاہ عبدالعزیزؒ سے علوم ظاہریہ کی تکمیل فرمائی۔[30]؎
شاہ عبدالقادر اپنے بڑے بھائی شاہ عبدالعزیز صاحب کی کفالت اور تربیت میں پروان چڑھے اور آخری دم تک ان کی سرپرستی میں رہے۔[31]؎
مولانا شاہ ابوالحسن فاروقی لکھتے ہیں کہ:
”آپ شاہ عبدالعزیز، شاہ رفیع الدین، شاہ عبدالقادر کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ کبھی زیارت کے لیے اور کبھی برائے استفادہ۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ تینوں بھائی علم کے سمندر تھے اور تفسیر کلام الہی میں شاہ عبدالعزیز اللہ کی آیات میں سے ایک آیت تھے۔“[32]؎
اللہ تعالیٰ نے آپؒ پر بے شمار احسانات و انعامات کی بارش فرمائی۔ ان میں سے ایک قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر کرنے کا موقع دیا۔
”تمام علماء نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ یہ ترجمہ کرنا بھی نبی کریم کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے۔“[33]؎
میرے والد محترم نے ”مہر جہانتاب“ میں فرمایا ہے کہ شیخ عبدالقادر نے ایک رات خواب میں یہ دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بات کی توفیق بخشی ہے کہ ان پر نزول قرآن ہو۔ اس خواب کا تذکرہ انہوں نے اپنے بھائی شاہ عبدالعزیز سے بیان کیا۔ تو بھائی نے تعبیر کے بارے میں کہا ”یہ خواب برحق ہے لیکن وحی کا نزول رسول اللہ کے زمانہ سے ہی بند ہے۔ اس لیے اس کی تعبیر یہ ہو گی کہ اللہ آپ سے خدمت قرآن کی ایسی توفیق دیں گے جو پہلے کسی کو نہیں دی۔ چنانچہ وہ بشارت والی تفسیر ”موضح قرآن“سے پوری ہو گی۔“[34]؎
شاہ عبدالقادر علم و فضل میں اپنے وقت کے آفتاب کی مانند تھے۔ سرسید احمد خان ”آثار الضادید“ میں لکھتے ہیں کہ:
”شاہ عبدالقادر کے علم و فضل کو بیان کرنا ایسا ہے کہ کوئی آفتاب کی تعریف فروغ اور فلک کی مدح بلندی کے ساتھ کرے۔ زبان کو کیا طاقت کہ ایک حرف حضرت کی صفات سے لکھ سکے اور قلم کی کیا مجال کہ آپ کی مدح سے ایک ذرہ لکھ سکے۔“[35]؎
شاہ عبدالقادر دہلوی نے سب سے پہلے قرآن مجید کا بامحاورہ ترجمہ ہندی (اردو) زبان میں کیا۔[36]؎ یہ ترجمہ علمی و ادبی اور قبول عام کے لحاظ سے اردو ترجموں میں کیا درجہ رکھتا ہے؟ اس کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ اہل علم اور ارباب طریقت دونوں اس ترجمہ کو ”الہامی“ ترجمہ قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ شاہ عبدالقادر نے جس دور (عہد شاہ عالم ثانی) میں یہ ترجمہ تحریر فرمایا۔ اس وقت موصوف کے سامنے عجمی زبان کے ترجموں میں فارسی ترجموں کے سوا کوئی مکمل اُردو ہندی ترجمہ موجود نہیں تھا۔ جس کے متعلق یہ کہا جاسکے کہ شاہ عبدالقادر نے اس سے استفادہ حاصل کر کے اپنا ترجمہ مکمل فرمایا۔[37]؎ ترجمہ کے اندر استعمال کی گئی زبان کی نوک پلک کی درستگی کا پورا پورا اہتمام کیا گیا ہے۔ کیونکہ شاہ صاحب خدا تعالیٰ کے کلام مبین کو اردوئے مبین کے قالب میں ڈھال رہے تھے اور آپ یہ ضروری سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے بلیغ کلام کا ترجمہ بھی اردو کے بلیغ اسلوب میں کیا جائے۔[38]؎
علمی حلقوں میں موضح قرآن کو جو اہمیت حاصل رہی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اساتذہ باقاعدہ اپنے تلامذہ کو اس کی روایت کی اجازت دیا کرتے ہیں۔مولانا ابو الحسن ندوی ”حیات الحیی “ میں لکھتے ہیں کہ:
”نانی صاحبہ جن کا نام سیدہ حمیرا تھا اور سید علم الہدیٰ حسنی نصیر آبادی کی صاحبزادی تھیں، یہ خصوصیت بھی حاصل تھی کہ ان کو حضرت شاہ عبدالقادر دہلویؒ کی صاحبزادی سے (جن سے غالباً سفر حج میں ملاقات ہوئی تھی) شاہ صاحب کی مقبول عام تفسیر موضح قرآن کی روایت و اجازت تھی۔“[39]؎
اس ترجمہ کے الہامی ہونے کے بارے میں مولانا محمد قاسمؒ کا قول ہے کہ:
”اگر اردو میں قرآن نازل ہوتا تو شاید اس کی تعبیرات وہی یا اس کے قریب قریب ہوتیں جو اس ترجمہ کی ہیں۔“[40]؎
ڈپٹی نذیر احمد ”شاہ عبدالقادر کے ترجمہ“ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:
”مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن اردو میں نازل ہونا تو مولوی شاہ عبدالقادر کا موضح قرآن ہوتا۔“[41]؎
مزید ڈپٹی نذیر احمد لکھتے ہیں:
شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ وہ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے شاہ عبدالقادر کے ”موضح قرآن“ کی علمی اور ادبی جلالت شان، حکمت قرآن کے پوشیدہ اشارات اور تفسیری لطائف پر اصول تفسیر کی روشنی میں تبصرہ فرمایا۔[42]؎
شیخ الہند نے ”مقدمہ القرآن“ میں شاہ صاحب کے اسلوب کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
1۔ ”شاہ صاحب قرآنی ترتیب کا کس حد تک لحاظ رکھتے ہیں اور بامحاورہ اردو میں ترجمہ کرنے کے باوجود قرآن کریم کی اصلی ترتیب کو کس کمال کے ساتھ باقی رکھتے ہیں۔
2۔ فعل، فاعل، مفعول، متعلقات فعل، صفت، موصوف، حال و تمیز، مفعول مطلق تاکیدات وغیرہ کے تراجم میں جگہ جگہ شاہ صاحب کیسی ندرت اور تنوع کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
3۔ حروف جار اور حروف ربط کے ترجمہ میں موقعہ و محل کی رعایت سے ترجمہ کو اردو کے قالب میں کس حسن لطافت کے ساتھ ڈھالتے ہیں۔ اس سے شاہ صاحب کے علم و ادب کا کمال ظاہر ہوتا ہے۔
4۔ شاہ صاحب ایجاز و اختصار کا کس قدر لحاظ رکھتے ہیں۔ متن کے الفاظ سے ترجمہ کو زیادہ بڑھنے نہیں دیتے۔ کہیں لغوی ترجمہ کرتے ہیں کہیں اسی لفظ کے مرادی معنی ظاہر کرتے ہیں۔
5 ۔شاہ صاحب بڑےبڑے تفسیری مسائل کو ترجمہ کے الفاظ میں سمو لیتے ہیں۔ ایک ہی لفظ کے اندر بڑی بڑی تشریحات نظر آتی ہیں۔“[43]؎
مولانا ابوالحسن ندوی ”دعوت و عزیمت“ میں لکھتے ہیں کہ:
”شاہ صاحب کے فارسی ترجمہ کے بعد بہت جلد اردو میں ترجمہ قرآن کی ضرورت محسوس ہوئی کہ بارہویں صدی کے آخری ہی حصہ میں اردو نے فارسی کی جگہ لینی شروع کر دی تھی اور اردو میں تحریر و تصنیف کا کام شتروع ہو گیا تھا۔ اس ضرورت اور انقلابِ حال کو سب سے پہلے خود شاہ صاحب کے فرزند ارجمند حضرت شاہ عبدالقادر دہلوی (م1230ھ) نے محسوس کیا اور 1205ھ میں گویا شاہ صاحب کے ترجمہ کے پچاس برس بعد انہوں نے بامحاورہ اردو میں اس کا ایسا ترجمہ کیا جس کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید کا کسی غیرعربی زبان میں ایساکامیاب اور شگفتہ ترجمہ جس میں زیادہ سے زیادہ قرآنی الفاظ کی روح آئی ہو ابھی تک علم میں نہیں۔“[44]؎
سید ابوالحسن ندوی ”شاہ عبدالقادر“ کے ترجمہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتےہیں کہ:
”شاہ صاحب ترجمہ میں اصل مفہوم کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جتنی کامیابی اس میں ان کو ہوئی کسی اور کو نہیں ہوئی۔ مثلاً انہوں نے ” اِنَّ هٰٓؤُلَآءِ مُتَبَّـرٌ مَّا هُـمْ “ کا ترجمہ کیا ہے ”ارے یہ تو جھاڑو پھر جانے والی قوم ہے“ ”قالوا بعزۃ فرعون“ کا ترجمہ کیا ہے ”فرعون کے اقبال سے ہمیں غالب آئیں گے“ڈپٹی نذیرصاحب نےاس آیت کاترجمہ شاہ صاحب سے لیا ہے ۔سنا ہےکہ شاہ صاحب ترجمہ کرتے وقت بازار جا کر دیکھتے کہ دلی والے کیا بولتے ہیں ”یمشون فی الارض ہونا“ ہونا کا ترجمہ ”دبے پاؤں“ کیا ہے۔“[45]؎
مولانا احمد سعید دہلوی حضرت شاہ ولی اللہ کی اسی ”رجوع الی القرآن“ تحریک کے سپاہی اور داعی ہیں۔ جنہوں نے خانوادہ شاہ ولی اللہ کی علمی وراثت کو جاری رکھا۔ مولانا ا حمدسعید دہلوی، شاہ صاحبؒ کے ترجمہ سے والہانہ عشق رکھتے تھے۔ مولانا کا صباحی ترجمہ شاہ صاحبؒ کےترجمہ کے ایک ایک لفظ کی تشریح، شاہ صاحبؒ کے منفردات کی تلاش و تحقیق تابعین کے اقوال اور تفسیری باتیں تشریحات کی روشنی میں ان کی راحجیت اور برتری پر فاضلانہ بحث یہ تمام باتیں مولانا احمد سعیدؒ کے ہاں ملتی تھیں اور پھر مولانا کے عوامی وعظ بھی ان لطائف سے معمور ہوتے تھے۔[46]؎
مولانا احمد سعیدؒ کو واقعی شاہ صاحبؒ کے لطائف قرآن پر بڑا عبور حاصل تھا اور اس میں مولانا منفرد تھے۔[47]؎
مولانا دراصل شاہ صاحبؒ کے تفسیری حقائق کی تشریح کرنا چاہتے تھے۔ اور شاہ صآحبؒ کی زبان کو باقی رکھتے ہوئے اس کو آج کی اردو میں سمجھانا چاہتے تھے۔[48]؎
شاہ صاحبؒ کے ترجمہ کی ادبی اور علمی خوبیاں اہل زبان ہونے کی وجہ سے مزے لے لے کر واضح کرتے تھے۔ اس کا عکس تفسیر کشف الرحمن میں بھی نظر آتا ہے۔ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 57 کی وضاحت میں لکھتے ہیں کہ:
”حضرت شاہ صاحبؒ "اجر "کا ترجمہ ”نیگ“ کیا کرتے ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حق الخدمت کے معنی نیگ کرنا بہترین ترجمہ ہے۔ نیگ دہلی میں عام طور سے استعمال ہوتا ہے اور یہ ایسے موقع پر بولا جاتا ہے جہاں محنت اور خدمت برائے نام ہو اور مزدوری پوری دی جائے۔“[49]؎
ایک اور مثال جس میں مولانا احمد سعید شاہ صاحب کے ترجمہ کا حوالہ دیتے ہوئے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 140 کی وضاحت میں لکھتے ہیں کہ:
”حضرت شاہ صاحبؒ نے کس قدر مختصراً اور جامع خلاصہ بیان کیا ہے جو حضرت شاہ صاحب ہی کا حصہ ہے اور یعلم کا ترجمہ ”پرکھنا“ اور تمیحص کا ترجمہ ”سدھارنا“بھلا اس اردو کا جواب کیا ہو سکتا ہے۔“[50]؎
مولانا کا ارادہ تھا کہ حضرت شاہ عبدالقادر صاحب دہلویؒ کے ترجمہ اور حاشیہ کے تفسیری اور علمی نکات پر ایک جامع حاشیہ تیار ہو جائے۔ شکل اس کی مولانا کے ذہن میں یہ تھی کہ ترجمہ تو حضرت صاحبؒ کا رہے اور اس کے حاشیہ پر یہ تبصرہ شائع ہو۔ چنانچہ اسی طرز پر مولانا نے کام کا آغاز کیا۔ کام کے آغاز میں راقم ہی مولانا کی خدمت میں تھا۔ تقریباً چھ مہینے اس کام میں مولانا کی رفاقت کا راقم کو شرف حاصل رہا۔
مولانا کے ارادے کے مطابق اگر وہ حاشیہ تیار ہو جاتا توہ وہ ولی اللہی خاندان کے دینی اجتہاد و بصیرت کا ایک عظیم شاہکار ہوتا۔ مگر یہ کام بڑا پھیلاؤ رکھتا تھا۔ اس کے لیے مولانا جیسے مصروف انسان کے پاس نہ تو اتنا وقت تھا اور نہ آخر میں صحت کی رفاقت رہی تھی۔ اس لیے مولانا نے ترجمہ کا ڈھنگ بدل دیا اور اسے مستقل شکل دے دی۔[51]؎
اہل علم بدستور عوام الناس کی رہنمائی اور زبان کی بدلتی جدتوں کے پیش نظر قرآن کے معنی و مفاہیم اردو کے قالب میں ڈھال رہے ہیں۔ جن میں سے پندرھویں صدی کے چند جدید تراجم خوگر مطالب و شائقین کے لیے پیش کئے جاتے ہیں۔ جن کی تفصیل ذیل میں دی جاتی ہے:
1۔ مولانا عبدالکریم پاریکھ تشریح القرآن فرید بک ڈپو دہلی 1996ء
2۔ مولانا عبدالحمید سواتی قرآن مجید دروس القرآن گوجرانوالہ 1996ء
3۔ مفتی سعید احمد پالن پوری تفسیر ہدایت القرآن مکتبہ حجاز دیوبند 2001ء
4۔ ڈاکٹر محمود الحسن عارف ترجمتہ القرآن ادارہ علم القرآن لاہور 2002ء
5۔ مولانا اسحاق خان زیدۃ القرآن (تفسیر مدنی صغیر) درالعلوم اسلامیہ پلندری کشمیر 2003ء
6۔ مولانا اسلم شیخوپوری تسہیل القرآن داراسلام لاہور 2003ء
7۔ مولانا
یوسف سلاح الدین سلفی معانی
القرآن داراسلام لاہور 2005ء
8۔ مفتی عزیز الرحمن روح القرآن ترجمہ
جلالیل مع ترجمتہ القرآن فیصل پبلیکیشنز 2006ء
9۔ مولانا عتیق الرحمن سنھبلی محفل قرآن الفرقان بکڈپو لکھنؤ 2007ء
10۔ ڈاکٹر محمد فاروق خان آسان ترین ترجمہ مردان 2008ء
11۔ مفتی تقی عثمانی آسان ترجمہ قرآن مع توضیح القرآن مکتبہ معارف 2009ء
12۔ مفتی نعیم تفسیر روح القرآن الجامعہ بنوری الرآن کراچی 2010ء
13۔ مولانا محمد یوسف متالا اصوء البیان فی ترجمتہ القرآن ازھر پبلیکیشن لندن 2011ء
14۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی آسان تفسیر زم زم کراچی 2012ء
15۔ مولانا عبدالحیی بلال چشتی ندوی آسان معانی قرآن ٹکیہ رائ بریلی 2013ء
16۔ مولانا سید سلمان حسین ندوی وحی آخری ندوۃ العلماء لکھنؤ 2014ء
17۔ مولانا اکرم اعوان اکرام تراحم قدرت اللہ کمپنی لاہور 2015ء
18۔ مولانا سلیمی اللہ خان تفسیر کشف البیان مکتبہ فاروقیہ 2016ء
19۔ مفتی اصغر علی ربانی آسان تفسیر مکتبہ ربائی کراچی 2018ء
تفسیری رجحانات
جب فتوحات کی کثرت نے اسلامی سلطنت کو فروغ دیا تو نئے ذہنی انقلاب کے ساتھ علوم و فنون کا دور شروع ہوا۔ ان جدید مسائل کو حل کرنے کے لیے قرآن مجید میں مزید غور و خوض کیا گیا۔ سلف کی روایات کے ساتھ ساتھ عقل و استدلال سے کام لیا گیا۔ متکلمین نے اپنے انداز میں عقل کی تشفی کی کوشش کی اور صوفیاء نے ان حقائق کو اپنے انداز میں سمجھانے کی سعی کی۔ بعض نے قرآنی الفاظ کی وسعت و گہرائی کا جائزہ لیا الغرض مختلف نقطہ نظر سے قرآن مجید کی تشریح و تفسیر کی گئیں اور یہ سلسلہ آج تک بھی اجری و ساری ہے۔
برصغیر میں بھی مفسرین نے اپنے اپنے ذہنی و قلبی رجحان سے تفاسیر کو مرتب کیا۔ کسی نے احکام کے اسنباط کا خیال رکھا اور کسی نے ادبی پہلوؤں پر زور دیا ۔ کسی نے تصوف کے نکات کو واضح کیا اور کسی نے روایات سلف کو جمع کرنے کی سعی کی۔ کسی نے لغوی تحقیق کے ساتھ ساتھ صرفی و نحوی تراکیب کو موضوع بنایا۔ الغرض ہر مفسر نے اپنے اپنے انداز سے تفسیر کو مختلف پہلوؤں سے جانچا اور قرآنی علوم کے بحرز خار سے علمی در نایاب کو چن کر اس کتاب عظیم کی خدمت کی ہے۔ ذیل میں چند مختصراً تفسیری رجحانات کا جائزہ پیش خدمت ہے۔
1۔ تفسیر بالماثور 2۔ لغوی و ادبی رجحان
3۔ تفسیربالرائے 4۔ تفسیر کا فقہی رجحان
5۔ کلامی رجحان 6۔ صوفیانہ رجحان
7۔ سائنسی تفسیر کا رجحان 8۔ فقہی محدثانہ رجحان
1۔ فقہی رجحان:
قرآن مجید احسن الکلام ہے جس میں باوجود اختصار لیکن جامعیت کے ساتھ انسانی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآن مجید اصول و کلیات پر مشتمل ہونے کے ساتھ گذشتہ اقوام کے عروج و زوال کے قصص، عقائد اور دیگر امور وغیرہ کو بیان کرتا ہے۔ قرآن مجید کا ایک بڑا حصہ اعتقادات، عبادات و معاملات کے احکام پر مشتمل ہے اور ان آیات احکام کو مفسرین نے بڑے مفصل انداز میں بیان کیا۔ کیونکہ قرآن کا ضابطہ قانون پوری وضاحت کے ساتھ نمایاں ہو۔ اس کو فقہی رجحان کہا جائے گا۔
ڈاکٹر محمد حسین ذہبیؒ لکھتے ہیں:
”واذانحن تتبعنا التفسیر الفقھی فی جمیع مراحلہ، وجدناہ یسیر بعیداً عن الاھواء والاغراض من مبداء نزول القرآن الی وقت قیام المذاھب المختلفۃ ثم بعد ذلک یسیر تبعاً للمذاھب، ویتنوع بتنوعھا، فلاھل السنۃ تفسیر فقھی متنوع بذانظیفا من التعصب، ثم لم یلبث ان تلوث بہ کما اسلفنا وللظاھریۃ تفسیر فقھی یقوم علی الوقوف عند ظواھر القرآن دون ان یحید عنھا وللخوارج تفسیر فقھی یخصھم، وللثیعۃ تفسیر فقھی یخالفون بہ من عدھام۔۔ وکل فریق من ھولاء یجتھد فی تاویل النصوص القرآنیہ حتی تشھدلہ اولا تعارضہ علی الاقل۔۔ مما ادی ببعضھم الی التسف فی التاویل والخروج بالالفاظ القرآنیۃ عن معاینھا ومدلولتھا“[52]؎
فقہی تفسیر کے تاریخی مراحل کا جائزہ لینے سے واضح ہو جاتا ہے کہ نزول قرآن کی ابتداء سے لے کر فقہی مذاہب کے قیام تک یہ تفسیر ذاتی اغراض و خواہشات سے بعید رہی۔ پھر اس کے بعد فقہی مذاہب نے زیر اثر اس میں تنوع پیدا ہو گیا اور یہ مختلف انواع میں منقسم ہو گئی۔ چنانچہ اہل سنت کی متنوع تفسیر ابتداء تعصب سے پاک تھی بعد میں وہ بھی اس تعصب میں ملوث ہوتی چلی گئی۔ اس طرح ظاہر کی فقہی تفسیر صرف اس بات پر قائم ہے کہ قرآن مجید کے ظاہرہ مفہوم پر اکتفا کیا جائے اور کسی بھی صوت میں عدول نہ کیا جائے، خوارج شیعہ کی فقہی تفسیر خاص نوعیت کی ہیں۔ ان مذاہب و فرق میں سے ہر ایک اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ قرآنی آیات کی تاویل اس انداز میں کی جائے کہ وہ ان مخصوص نظریات کی موید نظر آئے یا کم از کم ان کے نظریات کے خلاف نہ ہوں۔۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض لوگ آیات کی تاویل اس طرح کھینچا تانی سے کام لینے لگے جس سے قرآنی الفاظ اپنے معنی و مدلوں سے دور نکل گئے۔
اس فقہی رجحان میں درج ذیل تفاسیر شامل ہیں۔
1۔ التفسیر الاحمدیہ فی بیان الایت الشرعیہ مع تعریفات المسائل الفقھیۃ از ملا جیون م1130ھ
2۔ نیل المرام من تفسیر آیات الاحکام از نواب صدیق حسن خان م1890ھ
3۔ احکام القرآن از مولانا اشرف علی تھانوی
2۔ محدثانہ رجحان:
قرآن کا جو مفہوم آپ سے منقول ہے اس کو بیان کرنا یا دوسرے لفظوں میں قرآن پاک کی تفسیر احادیث مبارکہ کے ذریعےکرنا عرف عام میں محدثانہ رجحان کے نام سے مشہور ہے۔ ابتداء ہی سے مسلمانوں کو اس تفسیری رجحان کا خاص شغف رہا۔ کیونکہ رسول اللہ نے اخلاقیات، تہذیب و تمدن اور اس زمانہ میں جو انقلاب برپا کیے اس کی نظیر تاریخ میں ناممکن ہے۔ درحقیقت آپ کی حیات مبارکہ علوم و فنون کا سرچشمہ ہے۔
حکیم عبدالروؤف لکھتے ہیں:
”اصحاب حدیث در اصل تین امور کو جمع کرتے ہیں (1) رسول نے کیا فرمایا؟ (2) رسول نے کیا کام کیا؟ (3) رسول کے سامنے یا رسول اللہ کے وقت میں کیا کیا گیا؟ اصحاب سیرت بھی انہی تین امور کو جمع کرتے ہیں۔ اس لیے اصل کام دونوں کا ایک ہی ہے۔ مگر باوجود اس کے دونوں میں بڑا فرق ہے۔ اصحاب حدیث کا مقصود بالذات احکام کو جاننا ہوتا ہے اور رسول اللہ کی ذات سے ان کی بحث ضمناً ہوتی ہے اور اصحاب السیر کا مقصود بالذات رسول کو جاننا ہے۔ احکام پر ان کے ہاں بحث ضمناً ہوتی ہے۔ اس لیے محدثین کا مدار بحث یہ ہوتا ہے کہ یہ فعل یا قول رسول اللہ کا ہے یا نہیں؟ ان کی تمام تر قوت اس تحقیق پر صرف ہوتی ہے کہ اس قول یا فعل کا انتساب رسول کی طرف صحیح ہے یا نہیں۔ لیکن اصحاب سیرت کو یہ بھی کرنا پڑتا ہے اور اس کے سوا دو باتیں اور معلوم کرنی پڑتی ہیں۔ ایک یہ کہ حضور نے کب ایسا کہا یا کیا؟ دوئم یہ کہ ایسا کہنے یا کرنے کی وجہ کیا ہوئی؟ اصحاب سیرۃ حضور کے اقوال و افعال کو مسلسل اور مربوط بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے اسباب و علل کو بھی جاننا چاہتے ہیں۔ اصحاب حدیث کہتے ہیں کہ اس کی ضرورت نہیں، جب صحت کے ساتھ یہ معلوم ہو جائے کہ یہ فعل رسول کا ہے تو ہو رسول اللہ کی سنت اور آپ کا طریقہ ہو گیا۔ گو یہ نہ معلوم ہو کہ رسول نے کب، کس دن، کس تاریخ ایسا کہا یا ایسا کیا؟“[53]؎
محدثانہ رجحان میں درج ذیل کتب شامل ہیں:
1۔ ترجمان القرآن بللطائف البیان ازنواب صدیق حسن خانؒ
2۔ فتح البیان از نواب صدیق حسن خان
3۔ مواہب الرحمن از سید امیر علی ملیح آبادی
3۔ صوفیانہ رجحان:
فہم قرآن میں ہر کسی کا رجحان ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اہل ذوق نے اپنے اپنے رجحان کے مطابق تفاسیر کومرتب کیا۔ انہی رجحان میں سے ایک رجحان صوفیہ کا بھی ہے۔ جس میں ایک صوفی کلام الہی کی ظاہری تفسیر جس پر شریعت اسلامیہ کی بنیاد ہے۔ اس کو محور مرکزبتاتے ہوئے ایسے علوم و معارف بیان کرتا ہے جو مطالعہ کے دوران اس کے قلب پر ظاہر ہوتے ہوئے حقیقی مفہوم تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ اسی طرح قرآن الفاظ پر غور کرنے سے جس اچھی بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے اور ذہن وہاں منتقل ہوتا ہے۔ اس کو اصطلاح میں تفسیر اشاری بھی کہتے ہیں۔
حنیف ندوی صوفیہ کی تفسیر کا تذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:
”ہمارے نزدیک صویفہ کا وہ گرہ بہرحال قابل قدر ہے جس نے اس روح اور باطن تک رسائی حاصل کر کے ان معارف کی نشاندہی کی۔ جس پر ایک عام عالم کی نظریں نہیں پڑتیں، اور ان معارف کو اپنے عمل و کردار میں سمو کر مکارم اخلاق کی بلند تر چوٹیوں کو سر کیا۔ لیکن یہ اسی وقت ہو سکا جب ان کو معارف کتاب و سنت کی کسوٹی پر جانچا گیا اور دیکھا گیا کہ ظاہر و باطن میں فرق صرف اصطلاح کا ہے ورنہ یہ دونوں باہم ایک دوسرے سے وابستہ اور ایک دوسرے کے موید اور شارح ہیں۔“[54]؎
صوفیانہ رجحان میں درج ذیل تفاسیر شامل ہیں:
1۔ تفسیر قادری از مولانا فخر الدین قادری
2۔ تفسیر مہائمی از مخدوم علی مہائمی
4۔ کلامی رجحان:
برصغیر میں تفسیری ادب کے اندر پایا جانے والا رجحان کلامی تفاسیر بھی ہے۔ اس رجحان میں مختلف سیاسی و ملی اور تہذیبی و نظریاتی مسائل کا حل یا پھر ان کے بارے میں اپنا موقف و نقطہ نظر متعین کرنا ہر مسلک کا زور قلم رہا۔ مسلمان کو درپیش مسائل و تحدیات کے تناظر میں قرآن کریم میں تدبر و تفکر کے ذریعہ مکتبہ فکر نے کلامی رجحان سے استفادہ حاصل کیا۔
کلامی رجحان میں درج ذیل تفاسیر شامل ہیں:
1۔ معارف القرآن از مولانا ادریس کاندھلوی
2۔ تفسیر فتح المنان المشہور بہ تفسیر حقانی از ابو محمد عبدالحق حقانی
لغوی اور ادبی رجحان:
روئے زمین پر زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں سے عربی فصیح و بلیع زبان ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اس میں پایا جانے والا مادہ اشتقاق ہے۔ عربی زبان کے ایک کلمہ سے کئی نئے کلمات بنائے جاتے ہیں اور ہر نیا کلمہ مختلف اور متعدد معانی کا حامل ہوتا ہے۔ اس لیے عربی زبان و ادب میں جامعیت اور وسعت لامحدود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کوئی بھی اس کے مثل ایک آیت بھی نہیں بنا سکا۔
اس رجحان میں درج ذیل تفاسیر شامل ہیں:
1۔ تدبر قرآن از امین احسن اصلاحی
2۔ تفسیر ماجدی از عبدالماجد دریا آبادی
3۔ تدریس لغتہ القرآن از مسعود حسن علوی
تفسیر بالماثور کا رجحان:
وہ تفسیری رجحان جس میں قرآن مجید کی تفسیر قرآن کی کسی دوسری آیت سے کی جاتی ہے۔ جیسے مجمل کی تفسیر مفصل آیت سے، مفرد الفاظ کی تفسیر چند دوسری آیات سے، مطلق کی مقید سے اور عام کی خاص وغیرہ سے تفسیر کی جاتی ہے۔ تفسیر بالماثور کا دوسرا اصول احادیث نبویہ سے قرآن کی تفسیر کرنا ہے۔ چاہے وہ حدیث قولی، فعلی، عملی اور تقریری ہو۔ تیسرا اصول وہ معزز حضرات جنہوں نے بلاواسطہ نبی سے قرآن پڑھا اور سمجھا یعنی کہ صحابہ کرام رضوان الہ علیھم اجمعین ، چوتھا اور آخری اصول وہ معزز حضرات جنہوں نے بلاواسطہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے علم حاصل کیا یعنی تابعین۔ اسے تفسیر بالماثور رجحان کہا جائے گا۔
ڈاکٹر محمد حسین ذہبیؒ لکھتے ہیں:
”تدرج التفسیر الماثور فی دوریۃ ۔۔ دور الروایۃ دور التدوین۔۔ اما فی دور الروایۃ، فان رسول اللہ بین لاصحابہ مااشکل علیھم من معانی القرآن، فکان ھذا القدر من التفسیر یتنا ولہ الصحابۃ بالروایۃ بعضھم لبعض، ولمن جاء بعدھم من التابعین“[55]؎
تفسیر بالماثور کا تدریجی دور۔۔ دور روایت اور دور تدوین۔۔ جہاں تک دور روایت کا تعلق ہے اس میں نبی کریم صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کو مشکلات قرآن کی وضاحت فرما دیا کرتے تھے اور بعد میں تابعین تک پہنچاتے۔
تفسیر بالماثور کے رجحان میں جوکتب لکھی گئیں وہ درج ذیل ہیں۔
1۔ فتح القدیر از محمد بن علی شوکانی 1250ھ
2۔ انوار البیان از مولانا عاشق الہی بلند شہری
3۔ تفسیر ثنائی از مولانا ثناء اللہ امرتسری
تفسیر بالرائے:
تفسیر بالرائے سے مراد اپنے ذاتی اجتہاد سے قرآن پاک کی تفسیر کرنا ہے۔ تفسیر بالرائے کی دو اقسام ہیں:
1۔ تفسیر بالرئے مذموم:
ایسی تفسیر جس کی مذمت کی گئی ہو اس سے مراد وہ تفسیر جس کے مفسر کے اندر تمام شرائط نہ پائی جاتی ہوں۔ یعنی تفسیری اصولوں سے رجوع نہ کرے بلکہ اپنی رائے سے تفسیر کرے۔
2۔ تفسیر بالرائے محمود:
ایسی تفسیر بالرائے جس کی تعریف کی گئی ہو اس سے مراد وہ تفسیر جس کے مفسر کے اندر تمام شروط پائی جاتی ہوں۔ مفسر اپنی رائے سے پہلے تفسیر بالماثور کی طرف رجوع کرے۔
ڈاکٹر محمد حسین ذہبی لکھتے ہیں:
”یطلق الرای علی الاعتقاد، وعلی لاجتھاد، وعلی القیاس، ومنہ: اصحاب الرای، ای اصحاب القیاس والمراد بالرای ھنا (الاجتھاد) وعلیہ فالتفسیر بالرای، عبارۃ عن تفسیر القرآن بالاجتھاد بعد معرفۃ المفسر لکلام العرب ومناحیھم فی القول، ومعرفتہ للالفاظ العربیۃ ووجوہ دلالاتھا، واستوانتہ فی ذلک بالشعر الجاھلی ووقوفہ علی اسباب النزول،و معرفتہ بالناسخ والمنسوخ من آیات القرآن، و غیر ذلک من الادوات التیی یحتاج الیھا المفسر“[56]؎
رائے کے لفظ کا اطلاق اعتقاد پر، اجتھاد پر اور قیاس پر کیا جاتا ہے۔ اور اس میں سے اصحاب رائے یا اصحاب قیاس ہیں اور یہاں ”الرائی“ سے مراد اجتھاد ہے اور اسی پر تفسیر بالرائی ہے۔ تفسیر قرآن کی عبارت پر اجتھاد کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مفسر کلام عرب اور گفتگو میں ان کے معانی و مطالب کو جانتا ہو اور ساتھ عربی الفاظ کی معرفت رکھتا ہو جو اس پر دلالت کرتے ہوں اور اسی طرح جاھلی شعراء سے مدد لے سکتا ہو اور اسباب نزول سے واقفیت رکھتا ہو اور قرآن کی آیات میں سے ناسخ و منسوخ کو جانتا ہو اور ان علامات کو جانتا ہو جس کی ایک مفسر کو ضرورت ہوتی ہے۔
1۔ نظام القرآن از حمید الدین فراہی
2۔ مفہوم القرآن از غلام احمد پرویز
سائنسی رجحان:
بیسویں صدی سائنسی ، ترقی کا دور تھا۔ جس میں قرآن پاک کا مطالعہ سائنس کی روشنی میں کیا گیا۔ جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں آیات قرآن کی تشریحات و تفسیرات اور اس حوال سے اعجاز القرآن کا اثبات ایک اہم اور نمایاں رجحان ہے۔ جس کا مقصد کائنات کے اسرار و رموز سے لوگوں کو روشناس کروا کر علوم جدیدہ سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔ اس موضوع پربہت سی زیادہ کتب لکھی گئیں۔ مستقل کوئی تفسیر موجود نہیں۔
اس رجحان میں درج ذیل تفاسیر لکھی گئیں:
1۔ تفسیر القرآن از سرسید احمد خان
2۔ سائنس میں تذکرہ از عنایت اللہ مشرقی
[1]۔ النحل: 44
[2]۔ سیوطی، الاتعان فی علوم القرآن، لاہور: مکتبہ العلم، 1/22
[3]۔ رحمانی، خالد سیف اللہ، آسان تفسیر، کراچی: زم زم پبلشرز، 2016ء، 2/148
[4]۔ ابراہیم: 2
[5]۔ جمیل نقوی، اردو تفاسیر (کتابیات)، اسلام آباد: مقتدرہ قومی زبان، ص:13
[6]۔ ایضاً: 14
[7]۔ ایضاً: 16
[8]۔ ڈاکٹر، سالم قدوائی، ہندوستانی مفسرین اور ان کی عربی تفسریں، لاہور: ادارہ معارف اسلامی، 1993ء، ص:391
[9]۔ اعجاز فاروق اکرم، ڈاکٹر، برصغیر میں مطالعہ قرآن تراجم و تفاسیر، مشمولہ: فکر و نظر، (مدیر: ڈاکٹر ضیاء الحق)، شمارہ 3،4: ادارہ تحقیقات اسلامی بین الاقوامی یونیورسٹی، 1999ء، ص:80
[10]۔ جمیل نقوی، اردو تفاسیر (کتابیات)، اسلام آباد: مقتدرہ قومی زبان، ص:18
[11]۔ ڈاکٹر، عبدالحق، قدیم اردو، کراچی: انجمن ترقی اردو پاکستان، 1961ء، ص:120
[12]۔ قاسمی، مفتی عطاء الرحمن، مجموعہ رسائل ا شاہ ولی اللہ، دہلی: شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ، 2014ء، ص:487
[13]۔ مظہر صدیقی، محمد یٰسین، شاہ ولی اللہ کی قرآنی خدمات، لاہور: مکتبہ قاسم العلوم، 2015ء، ص:230
[14]۔ ایضاً: 231
[15]۔ علامہ، عبدالحیی، نزھتہ الخواطر، الھند: دائرہ المعارف، 7/273
[16]۔ محمد خان محمد السندی، قرآن پاک کے سندھی تراجم، مشمولہ: الواقعۃ، (مدیر: محمد تنزیل الصدیقی الحسینی) سلسلہ نمبر 20۔21،کراچی: مکتبہ دارالاحسن، نومبر، دسمبر 2013ء، ص:285
[17]۔ علامہ، سلیمان ندوی، نقوش سلیمان، کراچی: اردو اکیڈمی سندھ، ص:59
[18]۔ بھٹی، محمد اسحاق، برصغیر میں علم فقہ، لاہور: بیت الحکمت، 2009ء، ص:48
[19]۔ علامہ، حمید اللہ خان عزیز، قرآن مجید کے سرائیکی تراجم پر ایک نظر، مشمولہ: الواقعہ، ص:303
[20]۔ شطاری، سید حمید، قرآن مجید کے اردو تراجم و تفاسیر، حیدر آباد دکن: دی نظامس اردو ٹرسٹ، 1982ء، ص:29
[21]۔ ایضاً: 41
[22]۔ جمیل نقوی، اردو تفاسیر (کتابیات)، اسلام آباد: مقتدرہ قومی زبان، ص:22
[23]۔ شطاری، سید حمید، قرآن مجید کے اردو تراجم و تفاسیر، ص: 66
[24]۔ ایضاً: 55
[25]۔شطاری، سید حمید، قرآن مجید کے اردو تراجم و تفاسیر، حیدر آباد دکن: دی نظامس اردو ٹرسٹ، 1982ء، ص:66
[26]۔ڈاکٹر، عبدالحق، قدیم اردو، کراچی: انجمن ترقی اُردو، 1961ء، ص:175
[27]۔کاندھولی، نور الحسن راشد، ترجمہ قران کا شاہ رفیع الدین سے انتساب (ایک تحقیقی جائزہ) بقیہ ص:37
[28]۔دہلوی، شاہ رفیع الدین، تفسیر آیت النور، (مترجم عبدالحمید خان سواتی)، گوجرانوالہ: مدرسہ نصرۃ العلوم، 1414ھ، ص:1
[29]۔قاسمی، اخلاق حسین، محاسن موضع قرآن، سرگودھا: ذوالنورین اکیڈمی، 1983ء،
[30]۔چشتی، عبدالحلیم، فوائد جامعہ، کراچی: مکتبہ الکوثر، 2012ء، ص:35
[31]۔قاسمی، اخلاق حسین، محاسن موضح قرآن، سرگودھا: ذوالنورین اکیڈمی، 1983ء، ص:64
[32]۔ایضاً
[33]۔قاسمی، ضیاء الحق، تیرھویں صدی کے علمائے برصغیر، کراچی: دارالاشاعت، 2006ء، ص:446
[34]۔علامہ، عبدالحیی، نزھتہ الخوطر، (مترجم: ضیاء الحق قاسمی)، کراچی: دارالاشاعت، 2006ء، ص:446
[35]۔سر، سید احمد، آثار ایضادید، دہلی: اردو اکادمی، 2000ء، ص:546
[36]۔قاسمی، اخلاق حسین، محاسن موضح قرآن، ص:62
[37]۔قاسمی، اخلاق حسین، محاسن موضح قرآن، سرگودھا: ذوالنورین اکیڈمی، 1983ء، ص:70۔71
[38]۔ایضاً، ص:67
[39]۔ندوی، ابوالحسن علی، حیات عبدالحیؒ، لکھنو: پاریکھ آفسٹ پرنٹنگ پریس ٹیگور مارگ، 2004ء، ص:32۔33
[40]۔قاسمی، اخلاق حسین، محاسن موضح قرآن، ص:17
[41]۔لیکچر ڈپٹی نذیر احمد، آگرہ: مفید عام اسٹیم پریس، 1918ء، 2/38
[42]۔ایضاً: 26
[43]۔قاسمی، اخلاق حسین، محاسن موضح قرآن، سرگودھا: ذالنورین اکیڈمی، 1983ء، ص:96۔97
[44]۔ندوی، ابوالحسن علی، دعوت ع عزیمت، لکھنؤ: مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، 2010ء، 5/148
[45]۔ندوی، محمد اکرم، ارمغان فرنگ، لندن: علامہ ابوالحسن علی ندوی اکیڈمی، 2004ء، ص:127۔148
[46]۔قاسمی، اخلاق حسین، محاسن موضح قرآن، سرگودھا: ذوالنورین اکیڈمی، 1983ء، ص:99
[47]۔ایضاً
[48]۔ایضاً:51
[49]۔دہلوی، احمد سعید، کشف الرحمن، کراچی: مکتبہ رشیدیہ، 2015ء، ص:457
[50]۔ایضاً، ص: 553
[51]۔اخلاق حسین، قاسمی، مولانا احمد سعید مفسر قرآن کی حیثیت سے ، مشمولہ: دارالعلوم، (مدیر: سید محمد ازہر شاہ قیصر)، ہندوستان: دارالعلوم دیوبند، مارچ 1961ء، ص:21
[52]۔ التفسیر و المفسرون، ج:2، ص:321
[53]۔ داناپوری،حکیم عبدالروؤف، مقدمہ، اصح السیر، کراچی: تجارت کتب خانہ، 1351ھ، ص:8
[54]۔ ندوی، فیصل احمد، تفسیر اور اصول تفسیر، لاہور: مکتبہ قاسم العلوم، 2016ء، ص: 97
[55]۔ ذھبی، محمد حسین، التفسیر و المفسرون، قاہرہ: مکتبہ وھبہ، 2/321
[56]۔ ذھبی، محمد حسین، التفسیر و المفسرون، قاہرہ: مکتبہ وھبہ، 1/112
